انا اخمتووا

انا اخمتووا

اڑتے ہوئے پتے پر ایک تحریر

    ترجمہ:  ادیب سہیل

     

    ’’جو کچھ تم نے دے دیا وہ تمہارا ہے‘‘

    میں تمہیں گرتی ہوئی دیواروں کے نیچے سے آواز دے رہی ہوں

    میں تمہیں زمین کے لڑھکتے تودوں کے نیچے سے آواز دے رہی ہوں

    میں ایک تہہ خانے سے بول رہی ہوں

    جس کی چھت سے ہر لحظہ تعفن ٹپک رہا ہے

    جہاں میں دھیرے دھیرے جل کر چونا ہو رہی ہوں

     

    میں خاموش ہو جاؤں گی، ایسی خاموش جیسے گرتی ہوئی برف

    آخری دروازوں کے پیچھے میں اپنے آپ کو مقفل کر لوں گی

    اور پھر بھی میری آواز سنی جائے گی، اس کا چرچا ہو گا

    اور ایک دن اس پر سب کو یقین آجائے گا