ڈر
ترجمہ: احمد سلیم
قیدیو!تم جہاں کہیں بھی ہو،
تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے،
مجھے بھیج دو
ڈر، چیخیں، تنگدستی
ساحل سمندر کے مچھیرو!
تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے
مجھے بھیج دو
خالی جال اور سمندر کا درد
دنیا بھر کے محنت کش مزدورو!
تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے
مجھے بھیج دو
پھول اور دھجیاں
کٹی پھٹی چھاتیاں
چاک پیٹ
اکڑے ناخن
میرے پتے پر بھیج دو
کسی بھی قہوہ خانے میں
دھرتی کی کسی بھی سڑک پر
انسانی دکھ کے موضوع پر
میں ایک بڑی دستاویز تیار کر رہا ہوں
خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے
بھوکے ہونٹوں اور فراموش کردہ لوگوں کی پلکوں سے
دستخط کروا لوں گا
لیکن دھرتی کے محنت کشو!
مجھے ڈر ہے ......
خدا بھی تو ناخواندہ ہو سکتا ہے ......