ڈیوڈ یاپ

ڈیوڈ یاپ

گدھیں

    ترجمہ:  افضل  احسن رندھاوا

     

    ان دنوں میں

    ٹھوکریں ماریں جب تہذیب نے منہ ہمارے پر

    تھپڑ مارے جب مقدس پانی نے

    سہمے ڈرے ہمارے ہاتھوں پر

    اپنی حفاظت کے لیے گدھوں نے، اپنے پنجوں کے نیچے

    لہو کے چھینٹوں سے بھرے ہوئے قلعے اسارے

    ان دنوں میں

    جب سڑکوں کے پکے دوزخ پر بہتی دردوں بھری ہنسی

    اور دعاؤں کے اک جیسے، اکتا دینے والے بولوں کی تال

    قیدی کھیتیوں میں اٹھتی ہوئی آہ و بکا کو ڈبو دیتی

    زبردستی لیے گئے بوسوں کی کڑوی یاد

    اور بندوق کے زور پہ توڑے گئے ہوئے وعدے

    اور بدیشی لوگ کہ جو انسان نہیں لگتے تھے

    واقف تھے تمام کتابوں کے جو، پر محبت سے

    بالکل ہی واقف نہیں تھے

    پر ہم جن کے ہاتھ ، دھرتی والی کوکھ کو

    زرخیزی دیتے ہیں

    تکبر بھرے تمہارے گیتوں کی موجودگی میں بھی

    ٹکڑے ٹکڑے افریقہ کے اجڑے دیہات کے ہوتے بھی

    رکھا گیا امید کو زندہ ہمارے دلوں کے قلعے میں

    اور سوازی لینڈ کی کانوں سے لے کر یورپ کے کارخانوں تک

    پیدا ہو گی پھر سے بہار

    ہمارے ہی روشن قدموں کے نیچے سے