افریقہ
ترجمہ: افضل احسن رندھاوا
افریقہ! میرے افریقہ
پشتنی بنجر میدانوں میں بہت قدیمی جنگجوؤں کے افریقہ
افریقہ جیسے میری دادی
دور کنارے دریا بیٹھ کے گاتی
میں نے تجھے کبھی نہ جانا
لیکن تیرا لہو میری رگ رگ میں چلتا ہے
کالا سوہنا لہو جو کھیتوں کو پانی دیتا ہے
لہو تیرے پسینے کا
پسینہ تیری محنت کا
محنت تیری غلامی کی
غلامی تیرے بچوں کی
افریقہ! مجھے بتا افریقہ
کیا یہ تم ہو؟ یہ کمر جو کبڑی ہے
یہ کمر جو لاچاری کے بوجھ تلے ہے ٹوٹ رہی
یہ کمر جو کانپ رہی ہے زخموں کے نشانوں سے
یہ کمر جو کڑی دوپہر میں پڑنے والے ہر چابک کو جی کہتی ہے
پر اک بھاری آواز مجھے جواب میں کہتی ہے
اے جوشیلے بیٹے! وہ جوان، توانا درخت
سفید اور کملائے پھولوں میں گھرا اکیلا ، عالی شان، اکلاپے میں
کھڑا درخت
وہ تیرا افریقہ ہے، تیرا افریقہ
جو تسلی اور اکڑ کے ساتھ پڑا پھر بڑھتا ہے
اور اس کا پھل آہستہ آہستہ پائے جاتا ہے
آزادی کا کڑوا ذائقہ