نظم
ترجمہ: احمد سلیم
بہت دن بیتے ...... ملن ہوا نہ
ایک چھلاوے کی طرح بھی نہیں
میں اکیلی ...... دروازے کی اوٹ سے
اور قاتل کھڑکیوں کی اوٹ سے
پیروں کی آہٹ کا انتظار کرتی ہوں، جیتی ہوں
کھڑی اکیلی ......
بہت دن بیتے ......
ٹھنڈے، رینگتے اور اپنے آپ کو گھسیٹتے......
میں انہیں سونگھتی ہوں ......
اور منٹوں کی نبض دیکھتی رہتی ہوں
کیا وقت گزر چکا ہے؟
یا ہم ازلی وقت کو جی رہے ہیں؟
یا دن ...... انتطار کے بوجھ تلے ......
خوابوں کے فریب میں ڈوبے؟
میں اب بھی ...... سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی ہوں
یہ سیڑھیاں میرے دل کی طرف چڑھتی ہیں
اور جہاں تاریک بھلاوے ہیں ......
اور کہاں ہے سیڑھیوں کا دروازہ؟
دروازہ، جو سیڑھیوں کی طرف کھلتا ہے ......
بہت دن بیتے ...... ملن ہوا نہ
اور اب تم خوابوں کے کنارے سے پرے ہو گئے
کنارہ اتھاہ میں ڈوب گیا
محبت سہم کر کھڑی ہے ...... کہتی ہے ......
آج پنکھ دے دو! کہ میلوں تک پھیلے خلا سے گزر سکوں......
ایک چنگھاڑتا سمندر ہے ......
اور نت نئے خوابوں کی لہر آتی ہے
سن لو ...... ورنہ میری یہ آواز بھی ......
سمندر میں ڈوب جائے گی
اور میں سمندر میں پڑی رہوں گی
ایک بھولی ہوئی یاد کی طرح......