مہمان
ترجمہ: امجد اسلام امجد
اس کی دستک کے سمے وقف تحیر ہم لوگ
دشت غفلت میں کھڑے دیکھتے تھے
بے سحر رات کی بے فاصلہ پہنائی کو
خاک سے تابہ فلک کھلتے چلے جاتے تھے
لشکر غم کے علم
اس کی دستک کی صدا سن کے کوئی کہنے لگا
آخر کار کوئی آیا ہے
وہ چمن جس کو غنیموں نے خزاں بخت کیا
اس کے بارے میں کوئی اچھی خبر لایا ہے
قاصد ارض وطن آیا ہے!
شاید اس پاس کوئی ایسی خبر ہو جو ہمیں
غم کے بے نام الاؤ سے رہائی دے دے
نطق خاموش کو پھر نغمہ سرائی دے دے
ہم نے روتی ہوئی آنکھوں سے اٹھائیں پلکیں
اور امید بھرے دل سے کہا
’’اے گئی رات کے مہمان! بتا کون ہے تو؟‘‘
اس نے کہا:
’’میں مسرت ہوں، مرے ساتھ ہیں روشن نغمے
انبساط اور خوشی
کھلتے پھولوں کی مہک، پھوٹتی کلیوں کی ہنسی‘‘
اپنے دروازے سے آنکھوں کی گزرگاہوں تک
ہم نے مہمان کو رستہ نہ دیا، عطر کو پھینک دیا
اور کھولے ہوئے دروازے کے پٹ بھیڑ دیے!
پھر وہی ہم تھے، وہی ارض فلسطین تھی، وہی درد کا جمال
وہی سرگوشیاں کانوں میں، وہی شامل ملال
شوق کے کرب مسلسل میں گرفتار خیال
اسی خاموش خرابے میں گراں گام تھے ہم
پھر صدا گونجی کسی دستک کی
اس گھڑی کے در و بام پہ غم لکھا تھا
قصۂ عہد ستم لکھا تھا
ہم اٹھے اور کہا:
’’کون اس خانۂ ویراں کا سکون لوٹنے آ نکلا ہے؟
دھند میں ڈوبی ہوئی رات کی سرحد سے ادھر
کون بے فیض خموشی میں چلا آیا ہے؟
دکھ بھری رات کے مہمان ، بتا کون ہے تو؟‘‘
اس نے کہا:
’’میں گل سبز کی خوشبو میں بسی خواہش ہوں
دیکھ یہ مہکا ہوا شہد مرے ہاتھ میں ہے!‘‘
ہم نے دروازے کے پٹ بھیڑ دیے اور کہا
’’دکھ بھری رات کے مہمان! ہمیں تنگ نہ کر
ہاں پلٹ جا کہ ہمیں تجھ سے کوئی کام نہیں
خواہشیں ہم کو نہیں ہیں جائز
جب تلک قوم کی یہ دربدری باقی ہے
ہم انہیں پاس نہ آنے دیں گے
ہم نے دشمن کو ابھی اپنی تباہی کا بدل دینا ہے
اس کو پیغام اجل دینا ہے
جب تلک ہاری ہوئی قوم کو ہم
اس کی لوٹی ہوئی توقیر نہیں لوٹاتے
خواہشیں ہم کو نہیں ہیں جائز
دکھ بھری رات کے مہمان ہمیں تنگ نہ کر
ہاں پلٹ جا کہ ابھی غم کی صدا اور ندامت کی ہوا
روح کو تجھ سے بھلی لگتی ہے
ہم نے دروازے کے پٹ بھیڑ دیے
اور کھوئی ہوئی منزل کے لیے
دکھ بھرے گیتوں میں پھر قوم کا غم لکھنے لگے
ایک دن صبح سمے پھر کوئی دستک گونجی
اس قدر تیز کہ یوں لگتا تھا
جیسے مہمان کے ہاتھوں میں ہو طوفان کا ہاتھ
دشت غفلت میں چھناکے سے ہوئے
اور آنکھوں میں چمک سی اتری
ہم نے بے تابی سے دروازے طرف جا کے کہا
’’اے نئی صبح کے مہمان! بتا کون ہے تو؟
تیری دستک میں یہ طوفان کا عالم کیوں ہے؟‘‘
اس نے کہا:
’’میں غضب ہوں
اشتعال اور تلاطم ہے نشانی میری
میرے ہاتھوں میں ہیں شعلوں کے چھلکتے پیالے‘‘
ہم نے دروازے کے پٹ کھول دیے
اپنے مہمان کے قدموں میں جھکے
اور آنکھوں سے اٹھا کر اس کو، دل کی محبوب تہوں میں رکھا
اور پھر غیظ میں اٹھ کر چیخے:
’’اے نئی صبح کے مہمان ہمیں تیری قسم!
تو اگر آگ ہے، ہم لوگ ہیں ایندھن تیرا
اے غضب، جوش میں آ
رات کے عہد ستارے کی طرح ٹوٹ کے گمنام ہوا
سال ہا سال کی رسوائی بھری خاموشی
اور برداشت کا غم ختم ہوا
اے چمکتی ہوئی پیشانی کے مالک مہمان!
دیکھ ان ریت کے ٹیلوں میں بھٹکتی ہوئی اس قوم کا دل
آگ کا زخم ہوا
ہووہ یافا کہ جنین
اپنی چھوڑی ہوئی مٹی کا ہر اک ذرۂ پاک
دست دشمن سے ہمیں لینا ہے
انتقام اور غضب کے شعلے! اور بھڑک
ہم عرب لوگ ہیں انگار ترے
ہم ترے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے تیرے
اور بھڑک
انتقام اور غضب کے شعلے ...... اور بھڑک