ایلینا موبانگلو

ایلینا موبانگلو

عورت ہونا

    ترجمہ: شہاب صفدر

     

    اب میری حقیقت کھل گئی ہے

    میں ایک چورس پردے پر سیاہ داغ ہوں

    میں ایک خودساختہ من پسند خواب ہوں

    جس کا ہر واقعہ اور منظر حقائق میں سے ہی ہے

    مگر کسی نے اپنی مرضی سے منتخب کیا ہو

    ایسا خواب جو دسترخوان پر بیٹھ کر

    کسی جھوٹ بولنے کے عادی نے سنایا ہو

    میں ایک ایسا زخم ہوں جسے بھرنا بھول گیا ہو

    آج کے دور میں ایک عورت ہونا لعنت ہے

    میں ماضی سے حال تک ایک مبہم تعریف کی وارث ہوں

    ایک ایسی صورت ہوں جس نے خواب اور ضرورت سے جنم لیا

    جس پر صدیوں کی دھول ہے

    مگر پھر بھی وہ فطرت کی طرح اپنی اصلی صورت میں موجود ہے

    غور کرو کہ جسے پیدائش ہی سے ایک نازک شیشے سے

    تشبیہ دی گئی

    جس کا ذہن پیدائش ہی سے اس کی فرضی ’’کمزوری‘‘ (جو کہ عورت کو مرد کی طرف سے دیا گیا طنزیہ نام ہے)

    میں ختم ہو جاتا ہے

    جس کے لیے ہر باپ ایک محافظ یعنی پہرہ دار ہے

    اس کی دوشیزگی اور شرم و حیا کا

    جس کے لیے ہر بھائی ایک جاسوس ہے

    اور جس کے لیے شوہر قفل قفس ہے

    اے عورت تو ایک عظیم مقصد اور ان گنت اشیاء کا مخزن ہے

    تو شیرینی اور ہمدردی اور آرزو کا اہم مخزن ہے

    کون سا پیار اور کون سی محبت؟

    کون سی خدمت اور کون سا صبر و تحمل

    اے عورت تیرے حسن و جمال کی پیمائش بستر عیش پر کی جاتی ہے

    اور تیری ذہانت کا پیمانہ وہ دولت سمجھی جاتی ہے

    جو کہ تو کما سکے

    تیرے ہی سبب تماش گاہیں اور شراب خانے پھلتے پھولتے ہیں

    مگر تیرا مقدر وہی زہر کے گھونٹ ہیں

    یقیناً آج کے دور میں عورت ہونا ایک خصوصی لعنت کا سبب ہے

    کیا ہم عکاسی اور تجزیہ کرنے کے لیے خود کو بلند نہیں کرتے

    چاہے ہمارا اپنا آپ ہی زخم زخم کیوں نہ ہو جائے

    تاکہ وہ خون جو رحم میں جاتا ہے

    وہ خون ذہنوں میں اور تصور میں ٹپکتا رہ سکے