بی برن بوہے

بی برن بوہے

راز محبت

    ترجمہ: سہراب اسلم

     

    خاموش بہتی ندیا

    چراگاہ کے کنارے کنارے

    بھیڑیں چراتی لڑکی سرما

    انتہائی خوش و خرم، گھاس کی باس مسحور کن

    دور گھاس کی سبز لہروں سے ابھرتا ہوا

    اک اسپ سوار چرواہا

    اپنے گھوڑے کو پانی پلانے کی خاطر نہیں،

    نہ ہی دھول سے اٹے چہرے کو دھونے کے لیے

    وہ اک سنہرا پھول توڑتا ہے

    اور خوبصورت لڑکی سرما کو پیش کرتا ہے

    لیکن سرما جواب دیتی ہے

    ایک سرسبز چیڑ کا بلندیوں پر اگنے والا درخت

    زیادہ خوبصورت ہے اس پھول سے جو کسی ندی کے کنارے سے توڑا جائے

    سرما مسکرا کر پھول واپس لوٹا دیتی ہے ......!

    ٭

    منتخب گائے کا دودھ چھلک رہا ہے

    اور سرما کے چہرے پر پسینے کے قطرے بہہ رہے ہیں

    جو اس کی گردن پر دمک رہے ہیں

    ابھرتے دن کے گلابی بادلوں کے پروں تلے

    ایک نوجوان چرواہا اپنا گھوڑا دوڑاتا ہوا آتا ہے

    اس لیے نہیں کہ اس کے گھوڑے کو آرام کی ضرورت ہے

    اور نہ ہی وہ دودھ ملی چائے کا طلب گار ہے

    وہ اپنے سینے سے بھیگا ایک رومال نکالتا ہے

    اور اس چاق و چوبند لڑکی کو پیش کرتا ہے

    ’’ایک پسینے میں بھیگا ہوا رومال کہیں بہتر ہے،

    کسی بھی بے کار سے مرصع زیور سے‘‘

    سرما اسے کہتی ہے اور مسکرا کر

    گھڑ سوار کو رومال لوٹا دیتی ہے

    ٭

    گھوڑے کو زخمی ہونے سے بچاتے ہوئے نوجوان خود زخمی ہو جاتا ہے

    اس بار جب نوجوان سرما سے ملنے آتا ہے

    نہ تو وہ تازہ پھول ہی پیش کرتا ہے

    اور نہ ہی رومال کا تحفہ دیتا ہے

    وہ تو اپنی سردی سے جھلسی انگلیوں کو پیش کرتا ہے

    تاکہ سرما اس کے لیے گرم سے دستانے بنا دے

    اس بار اک حرف بھی کہے بغیر

    وہ اس کی سرد انگلیاں اپنی گرم ہتھیلیوں میں لے لیتی ہے

    اور سرما کو محسوس ہوتا ہے

    کہ اس کے ہاتھ تو ریشمی کپڑے سے بھی ملائم ہیں

    اور اس کے دمکتے ہوئے گال

    سفید قیمتی پتھر سے بھی زیادہ چمکدار ہیں ......!