موت کا گیت
ترجمہ: تنویر قاضی
آسمان اوپر نیلا تھا
اور زمیں پر موسم گل تھا
تب دیکھی اک فاختہ میں نے
گیت جنم دھرتی کا گاتی
نیلی نیلی ہوتی دنیا
سورج اور تمازت میں
پیڑوں کی سرمستی میں
دوسری دنیا کے ہمراہ
جھوم رہی تھی فاختہ
بانہوں کے گھیرے میں
میں نے بڑھ کر اسے دبوچ لیا
موسم گل کے عین وسط میں
آسمان ہوا یخ بستہ
اور میں کب کا مر چکا تھا