چندرما
ترجمہ: شوکت کاظمی
بھری جوانی کے جوبن میں
چندرما کی مانگ سے سب سندور مٹا ہے
سورج دور گگن کے پیچھے ڈوب گیا ہے
شام کی نرماہٹ میں
اپنی نرمل پوریں پھیر رہا ہے
چندا کے سندر سے بدن کے داغ اور چھالے
جوبن کی لاٹوں سے پگھل گئے ہیں
گھور اندھیرے میں جو پلے ہوئے تھے
تارے ٹم ٹم دیکھ رہے ہیں
دھرتی سے سب پاپی آنکھیں گھور رہی ہیں
چندرما بے بس ہے، گہری سوچ میں گم ہے
اپنے جیون کی بدھی دھارا میں بند ہے
کتنی تھکن ہے
اس کے بال سفید کپاس کا روپ لیے ہیں
اس کا جیون میلی سی چادر ہے
یا بہتے نیروں میں دھلی ہوئی ساڑھی ہے
جو دھرتی کے شریر کو ڈھانپ رہی ہے
چاروں اور میں کومل چاندنی پھیل گئی ہے