کارلوس نی جار

کارلوس نی جار

ٹھوس غذا

    ترجمہ: احمد سہیل

     

    میں موت کھاتا ہوں

    کیونکہ یہ ٹھوس غذا ہے

    میں گولی چلاتا ہوں

    جہاں پرندے ہیں

     

    میں موت کھاتا ہوں

    کیونکہ یہ ٹھوس غذا ہے

    گولی گھر کو دریافت کرتی ہے

    ہم جیل کی کال کوٹھری میں

    خواہشات کا گیت گاتے ہیں

     

    میں موت کھاتا ہوں

    کیونکہ یہ ٹھوس غذا ہے

    میری آنکھیں سورج کے کونین ہیں

    جہاں ایک گولی پھٹتی ہے

    تمہارے ہتھیاروں کی گرہ ڈھیلی ہے

    لہٰذا یہ چیزیں تم کو باہم کر سکتی ہیں

     

    میں موت کھاتا ہوں

    کیونکہ یہ ٹھوس غذا ہے

    خون کولہوں میں دوڑتا ہے

    کولہے جیل کی کال کوٹھڑی میں

    میں اپنی زندگی کو تیزی سے کھودتا ہوں

    کیونکہ یہی ٹھوس غذا ہے