ولیم بلیک

ولیم بلیک

پژمردہ گلاب

    ترجمہ: طالب حسین اشرف

     

    اے پژمردہ گلاب!

    تمہاری پژمردگی میں بھی قدرت نے ایک حسن رکھا ہے!

    کہ جس میں ایک ان دیکھی گرمجوشی ہے

    جو کہ رات کی سفیر ہے

    اور جس میں طوفان کی سنسناہٹ ہے

     

    اے پژمردہ گلاب!

    کیا تمہیں تمہاری ماں نے جنم بھومی سے دربدر کر دیا ہے

    کہ تم زندگی کی بھرپور خوشیوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے

    اور تمہاری ان چھوئی گھٹا ٹوپ پاکیزہ محبت

    کائنات کو ریزہ ریزہ کر دے گی

    (کہ تیری پژمردگی نویدِ صبحِ انقلاب ہے)