دریا کہ سراب کا سفر ہے
-
دریا کہ سراب کا سفر ہے تیری مری تاب کا سفر ہے کچھ اور ہیں تیرے میرے امکان کچھ اور اسباب کا سفر ہے آہنگ وصال کے جنوں نیرنگ چناب کا سفر ہے دھرتی کا بدن چٹخ کے بولا کس سمت سحاب کا سفر ہے صدقے تری جاں فزا روش پر ہر آن عذاب کا سفر ہے کتنی تری زندگی ہے یوسف کتنا ترے خواب کا سفر ہے