یوسف حسن

یوسف حسن

کیا کچھ تہہ آب ہو رہا ہے

    کیا کچھ تہہ آب ہو رہا ہے ساحل پہ حساب ہو رہا ہے پاتال میں بولتا ہے پانی سپنا سیراب ہو رہا ہے ہم ریگ وجود چھانتے ہیں دل آئنہ تاب ہو رہا ہے بے طرح غبار میں ہے دنیا تو کس کا سحاب ہو رہا ہے پتے کیا بات کر رہے ہیں سایہ مہتاب ہو رہا ہے دیکھ آخر شب جمال اس کا شعلہ شاداب ہو رہا ہے کیا حسن کی انتہا ہے یوسف خود حسن حجاب ہو رہا ہے