کچھ اور ہی حال ہے ہمارا
-
کچھ اور ہی حال ہے ہمارا اس کو بھی خیال ہے ہمارا جھلمل سی فسردگی ہے اس کی خوشبو سا ملال ہے ہمارا ہم پیاس ہیں ایک دوسرے کی صحرا میں وصال ہے ہمارا ہم کیسے جہاں میں جی رہے ہیں اک خواب بحال ہے ہمارا ہر شے پر محیط ہو رہا ہے پر تو بھی کمال ہے ہمارا وہ خواب کہ خاک میں ہو یوسف ہر حسن سوال ہے ہمارا