نہیں کہ صرف پرندے آڑا دیے اس نے
نہیں کہ صرف پرندے آڑا دیے اس نے سدا بہار شجر بھی جلا دیے اس نے جو کوہ زرد سے اترا بڑا سخی بن کر ہمارے ہاتھ میں کاسے تھما دیے اس نے نہیں ہے قید کوئی ریگ تیرگی پہ مگر فرات نور پہ پہرے بٹھا دیے اس نے ابھی تو دشت کی دہشت سے ہی نجات نہ تھی خلا کے ڈر بھی گھروں میں بسا دیے اس نے سروں پہ آئی بلائیں تو ٹل ہی جائیں گی مگر جو روگ دلوں کو لگا دیے اس نے تمام شہر انہیں دیکھنے کو آیا ہے جو چیتھڑے سے بنام خدا دیے اس نے جو آندھیوں میں بھی پندار خاک تھے یوسف وہ سارے خواب تماشا بنا دیے اس نے