یوسف حسن

یوسف حسن

ہر گام شکست جان و تن ہے

    ہر گام شکست جان و تن ہے گلیوں میں غبار موجزن ہے میرے شب و روز کون دیکھے دنیا ترے دھیان میں مگن ہے آسودہ خاک ہو نہ جاؤں نس نس اک مدھ بھری تھکن ہے سپنے جو ہرے بھرے ہیں اپنے شاداب تری مری لگن ہے ساحل قربان ہو رہے ہیں دریا کا سخن عجب سخن ہے شاید مرا دل ہی گھر ہو اس کا اک صبح یقیں کہ بے وطن ہے خسرو کی خدائی میں بھی یوسف شیریں کا سوال کوہ کن ہے