اے شام ترا گمان کیا ہے
-
اے شام ترا گمان کیا ہے سینے میں لہولہان کیا ہے تیرے مرے وصل میں بھی آخر پرچھائی سی درمیان کیا ہے حیرت کے سوا بھی کچھ بتاؤ اس پار کی داستان کیا ہے ہنگامۂ خاک ہی سے پوچھو اندیشہ آسمان کیا ہے ہم اپنی جلا میں دیکھتے ہیں آئینہ گری کی آن کیا ہے اسباب ہے تیرے خالی پن کا اشیا سے بھرا مکان کیا ہے بازار کی بندگی ہے یوسف دربار کی آن بان کیا ہے