یوسف حسن

یوسف حسن

اک شان جنوں سے ہے پذیرائی ہماری

    اک شان جنوں سے ہے پذیرائی ہماری اب ترک محبت میں ہے رسوائی ہماری میں اپنی تمنا کی تب و تاب میں ہم سے دیکھ اپنے خدوخال میں رعنائی ہماری ہر صبح کسی رخ کے بلاوے پر گئے ہم ہر شام کو مقتل سے خبر آئی ہماری ہم ایک ہوائے ابدیت میں رواں ہیں تکوین مسلسل ہے توانائی ہماری دیوار و در و بام بھی دیتے ہیں دہائی دل تک نہ رہے آئنہ آرائی ہماری طغیانی دریا کی عنایات میں ہم پر ویرانی ساحل ہے تماشائی ہماری ہم جس کی نظر میں نہ خبر میں رہے یوسف کیوں اس کو بلانے لگی تنہائی ہماری