شجرِ سایہ نما ہم بھی ترے پاس جِیے
شجرِ سایہ نما ہم بھی ترے پاس جِیے جیسے رَوندی ہوئی بے تاب ِ نمو گھاس جِیے میرے حصّے میں نہ آئے ہوئے پانی تری خیر تُو جیے اور ترے ساتھ مِری پیاس جِیے میں تری آخری لَو ہوں مِرے کم کوش چراغ مجھ میں یوں جی کہ ترے ساتھ جگی آس جِیے سانس کھینچا کیے ہم جیسے ترے عام غلام زندگی اور ہی کچھ تھی جو ترے خاص جِیے گہرے زخموں سے چنا کرتی ہوں اظہار کے پھول مر بھی جاؤں تو مِرے خون کی بو باس جِیے پاس رکھنے کے لیے قرب نما ہجر سہا جتنی دوری میں ترا ساتھ رہا راس , جِِیے جب رگیں چیرتے کانٹوں کو ملا اذن ِ سخن لفظ دل کھول کے دھڑکے , سر ِ قرطاس جِیے تیرے معیار پہ اُجلا کیے رکھنا تھا بدن آب ِ گریہ کی روانی میں ترے داس جِیے ہم سے الجھے تو وہی زخم نہ لگ جائے تمھیں گھاؤ بھر جائے مگر درد کا احساس جِیے جڑ کی بنیاد پہ جیتے ہیں شجر اور بشر دل ہی جینے سے اکھڑ جائے تو کیا ماس جِیے