حمیدہ شاہین

حمیدہ شاہین

پرائے موسم کا سود

    بس اک برق لہرائی، کڑکی، گِری اور سر سبز فصیلیں بھسم کر گئی ہیں تجھے موسموں کی شناسائی کا زعم ہے کچھ اب بتا یہ کالے، جلے ٹھنٹھ کن بارشوں، کن ہواؤں کو پہچان پائیں گے اب یہ سلگتی ہوئی راکھ زرخیز مٹی کا نعم البدل کیسے بن پائے گی اب بدھائی! کہ بنجر ہوئی تیری کھیتی بدھائی! کہ تُو جوتنے کی مسلسل مشقت سے چھوٹا