رابطے یوں ہوں کہ دل کی روشنی قائم رہے
رابطے یوں ہوں کہ دل کی روشنی قائم رہے آس کی لَو تا چراغ ِ آخری قائم رہے تار یوں جوڑیں کہ جوہر کے تسلسل میں جئیں فاصلے کتنے بھی ہوں , وابستگی قائم رہے باہمی رَو منقطع ہونے نہ دیں اک پل کو بھی آندھیوں میں بھی نظامِ دوستی قائم رہے گاگریں اُس چشمِ رحمت بار کا ہی دم بھریں آزمائش کی گھڑی میں بندگی قائم رہے کچھ دریچے جانبِ امّید وا رکھّیں سدا کچھ ہوا آتی رہے اور تازگی قائم رہے لَو لگائیں اور ساری مشعلیں روشن کریں تیرگی پر آدمی کی برتری قائم رہے ٹھوکریں کھاتے ہوئے بھی مرکزے پر ہو نظر گردشوں میں آبروئے محوری قائم رہے سب شعاعیں اک مقام ِ منتہی ٰ کی دین ہیں جس کی نسبت سے توانائی مِری قائم رہے جس کے ہلّے میں کسی ر شتے کا خوں ہوتا نہ ہو وہ خودی قائم رہے وہ بے خودی قائم رہے نعرہءِ امّید و ہمّت ہم پہ واجب ہو گیا حوصلے قائم رہیں تو زندگی قائم رہے