ہوا دم سادھ لیتی ہے تو پھر ھُو بولتے ہیں
ہوا دم سادھ لیتی ہے تو پھر ھُو بولتے ہیں شجر یُوں بولتے ہیں جیسے سادُھو بولتےہیں تُم اُس کے شہر کو دو باتوں سے پہچان لینا کہ گلیاں صاف ہیںاور لوگ اُردو بولتےہیں تُم آنکھوں سے جو کرتے ہو اُسے کیا نام دیں ہم ؟ ہمارے شہر میں تو اس کو جادُو بولتے ہیں بہت شہروں میں شُہرہ ہے مِرے شعروں کا لیکن مِرے ماں باپ اب بھی مُجھ کو بُدّھو بولتے ہیں سرِ شب باغ میں جاؤ تو سُننا آنکھ سے تُم وہ جگ مگ نُور کی بھاشا جو جگنو بولتے ہیں نہیں ہے استعاروں کی خبر ہم جاہلوں کو مگرہم آپ کی آنکھوں کو خوشبُو بولتے ہیں اُنہی کے مُوڈ پر ہےمُنحصر طرزِ تخاطب کبھی وہ آپ کہتے ہیں، کبھی تُو بولتے ہیں اچانک اُڑ گئی جب سے تری یادوں کی کوئل شبستانِ غزل میں تب سے اُلو بولتے ہیں الف بے کے بجائے اس میں ہوتےہیں خدوخال سمجھتا ہوں بدن بولی جو خُوش رُو بولتے ہیں