ایسا مت کہہ کہ یہاں تُو غلطی سے آیا
ایسا مت کہہ کہ یہاں تُو غلطی سے آیا دل وہ حجرہ ہے جہاں غم بھی خوشی سے آیا خامشی آئی دریدہ دہنی سے تیری دیکھنا مجھ کو تری کم نظری سے آیا فتح مندی کا جو اِک رنگ ہے اُس چہرے پر سرخروئی سے نہیں دل شکنی سے آیا ورنہ راہیں تو مری سمت کئی آتی تھیں اس کو عجلت تھی سو بے راہ روی سے آیا نئے ملبوس میں وہ جچ تو رہا ہے لیکن کوئی پوچھے کہ یہ کس آمدنی سے آیا اِس کہانی میں ترا ذکر بھی آیا تو سہی کیا ہوا جو مری کردار کشی سے آیا آزماتا ہوں مگر اور کسی پر افسوس! یہ ہنر جبکہ مجھے اور کسی سے آیا اب کوئی روک رہا ہو تو میں رک جاتا ہوں مجھ میں یہ وصف غریب الوطنی سے آیا موت کا خوف بڑا خوف ہے لیکن جواد جو مجھے اُس کی توجہ میں کمی سے آیا