مرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے
مرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے تجھے کسی کی ، کسی کو تری ہوا نہ لگے میں ایک جسم کو چکھنا تو چاہتا ہوں مگر کچھ اس طرح کہ مرے منہ کو ذائقہ نہ لگے ہمیں لگا سو لگا خود اذیتی کا نشہ دعا کرو کہ تمہیں بددعا دعا نہ لگے دعا کرو کہ کسی کا نہ دل لگے تم سے لگے تو اور کسی سے لگا ہُوا نہ لگے حسد کیا ہو ترے رزق سے کبھی میں نے تو مجھ کو اپنی کمائی ہوئی غذا نہ لگے ہمیں ہی عشق کی تشہیر چاہیے ورنہ پتہ نہ لگنے دیا جائے تو پتہ نہ لگے پڑا رہا میں کسی اور ہی بکھیڑے میں بہت سے قیمتی جذبے کسی دشا نہ لگے بنا رہا ہوں تصور میں ایک مدت سے اِک ایسا شہر جسے کوئی راستہ نہ لگے ہمیں تو اُس سے محبت ہے اور بے حد ہے اگر اُسے نہیں لگتا تو کیا ہُوا ، نہ لگے کسے خوشی نہیں ہوتی سراہے جانے کی مگر وہ دوست ہی کیا ہے جو آئنہ نہ لگے کبھی کبھار جو رکھنے لگے زباں کا بھرم وہ اب بھی کیا نہیں لگتا ، مزید کیا نہ لگے یہی کہوں گا کہ جواد ! بچ بچا کے ذرا اگر کسی کا رویہ برادرانہ لگے