جدیدغزل
جدیدغزل
ابوالکلام قاسمی
غزل ، اردو شاعری کی تمام اصناف میں اس اعتبار سے ایک مختلف اور ممتاز صنفِ سخن ہے کہ غزل کی قدر وقیمت کا تعین صرف اس کے موضوع اور مواد کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ غزل کے علا ؤ ہ شاعری کی دوسری اصناف میں موضوع کی مرکزیت اور خیال کے تسلسل کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ ہیئت اور تکنیک کی حیثیت ثانوی ہو کر رہ جاتی ہے۔ غزل کی صنف کا بنیادی انحصار چوں کہ ایک مخصوص اور متعین ہیئت پر ہوتا ہے۔ اس لیے غزل کے شعروں کے موضوعات بھی ہیئت کے تابع ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال میں کسی خاص فکری رجحان کی نشاندہی کے معاملے میں غزل کے ساتھ وہ برتاؤ نہیں کیا جا سکتا جو شاعری کی دوسری اصناف ، بالخصوص نظم کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے ۔
برصغیر میں فارسی اور اُردو غزل کی روایت کئی صدیوں کو محیط ہے۔ اس پورے عرصے میں زبان و بیان کے متنوع طریقِ کار کے ساتھ ساتھ، غزل کی شاعری میں فکری اور موضوعاتی تنوع کو بھی خاصا دخل رہا ہے۔ تاہم اس تنوع کو ہم کسی مخصوص مقام اور علاقے سے وابستگی کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھ سکتے ۔ غزل ،ایران میں بھی کہی گئی اور برصغیر کے دوسرے ادبی مراکز میں بھی۔ مگر فنی اور فکری اعتبار سے غزل کی پوری تاریخ میں ایک ایسا تسلسل ملتا ہےجس سے اس صنفِ سخن کی تہذیبی اور ثقافتی مرکزیت کا قائل ہونا پڑتا ہے .....اس پس منظر میں شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ مقامی اور جغرافیائی حوالوں سے غزل کی شاعری کا کوئی جائزہ غزل کے بنیادی مزاج کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اس وقت غزل کی شاعری ہندوستان اور پاکستان کے علاؤہ دُنیا کے متعدد علاقوں میں کی جارہی ہے۔ ان علاقوں میں امریکہ اور یورپ کے بعض ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ممالک بہ طور خاص قابل ذکر ہیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ جغرافیائی اور علاقائی وسعت کے باعث غزل میں کسی اور فکری رجحان کا اضافہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ، ہجرت اور غریب الوطنی کے جذباتی حوالے غزل کے اشعار میں کثرت سے آنے لگے ہیں۔ اگر اس مفروضے کو درست مان لیا جائے تو ہمیں اس سوال کا بھی جواب دینا ہوگا کہ ، پھر ہندوستان اور پاکستان کی موجودہ غزل میں بھی یہ رجحان کیوں نمایاں ہے ؟ اگر اس رجحان کو ایک اور زاویۂ نظر سے دیکھیں تو بات زیادہ واضح ہو سکتی ہے کہ آج کی غریب الوطنی اور ہجرت ہماری اپنی اختیار کردہ ہے۔ اس میں حالات کے جبر کا کوئی دخل نہیں جس کی وجہ سے ہجرت ایک ذہنی اور روحانی تجربے کے طور پر غزل کی روایت کا حصہ رہی ہے ۔ یہی سبب ہے کہ موجودہ غزل میں ہجرت کے موضوع کو مذہبی پس منظر سے عاری دکھلایا گیا ہے ، اور ہجرت کے پیچھے مادی ضرورت کی کارفرمائی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غریب الوطن شاعروں کی ہجرت کسی مخصوص جغرافیائی فاصلے کو ظاہر نہیں کر پاتی ۔ اس لیے آج کی غزل کے فنی اور فکری رجحانات کو جغرافیائی حوالوں سے بلند ہو کر دیکھنا زیادہ مناسب بھی ہے اور غزل کی صنفی پہچان کے منافی بھی نہیں ۔
جدید شاعروں کی وہ نسل میں نے چھٹی اورسا تویں دہائی میں اپنی پہچان متعین کرائی تھی اس کی غزل گوئی کو بالعموم ہندو پاک کی آزادی اور آزادی سے کہیں زیاد تقسیم ملک کے پس منظر میں دیکھا گیا ہے تقسیم کے نتیجے میں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ رویے اور وحشت و بربریت کے مظاہرے نے غزل کے شاعر کو ایک ایسا زاویۂ نظر دیا جس کے باعث اقدار کی شکست و ریخت کا احساس عام ہوگیا۔ میرتقی میر کی بازیافت کی کوشش کی گئی اور اپنے عہد کے تسلیم شدہ سماجی اور تہذیبی تصورات پر سوالیہ نشان قائم کیاگیا۔ چوں کہ ہرزمانہ تاریخی اعتبار سے تقسیم ہند کے بعد کا زمانہ تھا ، اور ادبی اعتبار سے ترقی پسند تحریک کی بالا دستی کا ، اس لیے اس دور کی غزل میں ایک طرف انسانی رشتوں پر نئے سرے سے غور و خوض کا رجحان نمایاں ہو کہ سامنے آیا اور دوسری طرف ترقی پسند شاعری کے برخلاف ، براہ راست بات کہنے کے رد عمل میں استعاراتی اور علامتی اظہار کو اہمیت حاصل ہوئی۔ یہ وہی زمانہ تھا جب ناصرکاظمی نے کہا تھا کہ :
کیا قیامت ہے کہ بے ایامِ گل
ٹہنیوں کے ہاتھ پیلے ہو گئے
ا و ر خلیل الدین اعظمی اپنی نارسائی کو صرف اپنے آپ یا اپنے محبوب تک محدود رکھ کر زمانے کی تند و تیز آندھی کی استعاراتی تہہ داری کے وسیلے سے سمجھنے کی کوشش کی تھی
شب ِگذشتہ بہت تیز چل رہی تھی ہوا
صدا تو دی پہ کہاں تک تجھے صدا دیتے
ناصر کاظمی اور خلیل الرحمٰن اعظمی کے اس لب و لہجے میں جہاں گردو پیش کے حالات سے بے اطمنانی ظاہر ہوتی ہے وہیں انسان کی بے بسی اور شکست خوردگی کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ انداز فکر تھا جس کے باعث غزل کے بندھے ٹکے موضوعات میں بھی نئی جہات کا اضافہ ہوا اور ان جہات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جدید شاعروں نے اپنے اسالیب اظہار میں بھی تبدیلی پیدا کی۔ صورت ومعنی کی یہ تبدیلی ایک ایسے رجحان کی شکل اختیار کرنے لگی جسے جدیدیت کے زیر اثر پروان چڑھنے والے رجحان کا نام دیا گیا۔ اب صورت یہ پیدا ہوئی کہ سماجی اور تمدنی ابتری کے نتیجے میں ابھرنے والے شعری تجربے وجودی انداز فکریں ڈھلنے لگے۔ اور پرانے مسلمات اور اقدار سے دست بردار ہونے کے احساس نے بے یقینی تشکیک، تنہائی اور اداسی کے رویوں کو جنم دیا۔ اب ہم ان رویوں کو اس عہد کے میکانکی طرز زندگی کے خلاف رد عمل کا نام دیں یا انسانی رشتوں اور اخلاقی قدروں سے محرومی کا، لیکن جدید غزل نے کسی نہ کسی شکل میں ان رویوں کی نمائندگی ضرور کی۔ اس طرح ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ چھٹی اور ساتویں دہائی میں ابھرنے والے اس وجودی رجحان کا سلسلہ آٹھویں دہائی کے وسط تک قائم رہا۔ اس رجحان کی جھلکیاں مندرجہ ذیل اشعار میں دیکھی جاسکتی ہیں:
لوگ ہی آن کے یکجا مجھے کرتے ہیں ، کہ میں
ریت کی طرح بھر جاتا ہوں تنہائی میں
ظفر اقبال
نہ شاخ ہوں نہ شجر جانے کس لیے شب بھر
خزاں کے خواب دکھاتی رہی ہوا مجھ کو
ظفر اقبال
میں آساں بھی، کٹھن بھی ،مگر تم کون میرے
میں آپ اپنا تذبذب خود اپنا فیصلہ میں
بانی
اس جہاں میں میرے ہونے کی گواہی کون دے
اک ہجوم اور اس میں چشم معتبر کوئی نہیں
خلیل الرحمٰن اعظی
نہ جس کا نام ہے کوئی، نہ جس کی شکل ہے کوئی
اک ایسی شے کا کیوں ہمیں ازل سے انتظار ہے
شہریار
ہم ان اشعار میں تنہائی ، بے یقینی ، ناقدری اور خوف و ہراس کی جس کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کیفیت کو شعری زبان کی گرفت میں لینے کے لیے نئی لفظیات کا سہارا بھی لیا گیا ہے اور ان لفظیات کونئی امیجری کی تخلیق کا وسیلہ بھی بنایا گیا ہے۔ ان شعروں میں ریت، شجر ، خزاں، ہجوم اور چشم ِمعتبر جیسے الفاظ کو بالکل نئے سیاق و سباق میں پیش کیا گیا ہے ۔ یہ الفاظ ، نہ صرف یہ کہ لفظوں کی سطح سے بلند ہو کر استعاروں کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں ، بلکہ بعض ٹھوس پیکروں کی تخلیق بھی کرتے ہیں ۔ جدید غزل میں لفظوں کے اس نئے برتاؤ اور لہجے کی رنگارنگی کے سبب جس نئے ذائقے کا اضافہ ہوا، اس نے روایتی غزل کے مقابلے میں جدید غزل کو لسانی اور اسلوبیاتی سطح پر نئے امکانات کی بشارت دی۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ہواکہ جدید غزل کے موضوعاتی اور اسلوبیاتی امکانات نے بہت جلد ایک ٹھہری ہوئی روایت کا انداز اختیار کر لیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تشکیک، تلخی، اداسی اور تنہائی جیسے موضوعات کو نئی غزل کی سکہ بند پہچان کی حیثیت حاصل ہوگئی ، اور ہر پختہ اور خام کار غزل گو نے ان موضوعات کو کثرت اور تکرار کے ساتھ دہرا نا شروع کر دیا۔ چندمخصوص قسم کے موضوعات اور انداز اظہار کو اتنا فروغ ملا کہ آٹھویں دہائی میں اس یکسانیت سے نجات حاصل کرنا سب سے بڑا ادبی چیلنج بن کر سامنے آیا۔ یکسانیت سے نجات حاصل کرنے کے عمل کو تو شاید ایک شعوری کوشش کا نام دیا جا سکتا تھا مگر اس صورت حال کے رد عمل کو کسی شعوری کوشش سے تعبیر کر نا مشکل تھا جو سماجی اور تہذیبی سطح پر ہندوستان اور پاکستان میں ابھر رہی تھی۔ یعنی یہ کہ امتداد وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں میں تہذیبی استحکام کا عمل بھی شروع ہوا اور بے یقینی کے بجائے یقین اور عدم تحفظ کے بجائے روحانی تحفظ کا احساس بھی عام ہونے لگا۔ تشکیک سے ایقان اور خوف و ہراس سے روحانی سہارے کی جستجو تک کا یہ سفر آٹھویں دہائی کے اواخر میں غزل کے ایک بالکل نئے انداز و اسلوب کا حصہ بننے لگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زاویۂ نظر اور شعری اسلوب کی یہ تبدیلی صرف نئی نسل کے شاعروں کی غزلوں میں نہیں پیدا ہوئی بلکہ بعض ایسے جدید شاعروں کے کلام میں بھی اس تبدیلی کے آثار پیدا ہوئے جن کی غزلیں چھٹی اور ساتویں دہائی کے وجودی رویے سے پہچانی جاتی تھیں۔ اس تبدیل شدہ رویے کو جدید غزل کے متوازن اسلوب کا بھی نام دیا جاسکتا ہے ۔ اور اس رویے کو سماجی ابتری اور اقداری بحران کے بعد کسی عقیدے ، کیسی ماورائی قوت یا کسی وجدانی تجربے میں پناہ لینے سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
چھپا کے رکھ دیا پھر آگہی کے شیشے کو
اس آئینے میں تو چہرے بگڑتے جاتے تھے
کشور ناہید
اُتار پھینکو بدن سے پھٹی پرانی قمیص
بدن قمیص سے بڑھ کر کٹا پھٹا دیکھوں
محمد علوی
ہر نئے درد کی پوشاک پہن لی میں نے
جاں مہذب نہ ہوئی میں تھا برہنہ ایسا
ساقی فاروقی
شام تک کھینچے لیے پھرتے ہیں اس دُنیا کے غم
صبح تک فرشِ ندامت پر پڑا رہتا ہوں میں
احمد مشتاق
عادت ہی بنالی ہے تم نے تو میر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
منیر نیازی
ان شعروں میں اگر کسی قدر مشترک کی تلاش کی جائے تو اسے اعترافی لہجے کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ وہ اعتراف کی منزل ہے جہاں سے احتساب اور وجدان کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایک شاعر اپنی حد سے بڑھی ہوئی آگہی اور دانشوری کو انسانی رشتوں کے درمیان حائل قرار دیتا ہے تو دوسرا اپنی اخلاقی برہنگی کو چھپانے میں اپنے ناکام ہونے کا اعتراف کرتا ہے۔ کسی شاعر کے لیے صبح سے شام تک کی دُنیا داری کی قیمت شام سے صبح تک کی شرمساری سے ادا کر نا سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے اور کسی کے یہاں شہر میں جینے کی شرطیں اتنی نا قابل قبول ہیں کہ وہ دنیاداری کا حصہ بننے سے انکار کر دیتا ہے ..... ان شعروں میں نہ تو اقدار اور عقائد سے محرومی کا انداز ہے اور نہ تشکیک کی کیفیت ۔ ان میں احتساب یا اعتراف کا وہ لہجہ ملتا ہے جس کی مدد سے مادی سہاروں کے بجائے روحانی رشتوں کی بازیافت آسان ہو جاتی ہے ۔ بات اگر صرف ان شعروں تک محدود رہتی تو اسے مفروضہ بھی قرار دیا جا سکتا تھا، مگر جب ہماری نگاہ سے جدید شاعروں کی اسی نسل کے مندرجہ ذیل اشعار گزرتے ہیں تو ہم آسانی سے اسے مفروضہ قرار دے کر آگے نہیں بڑھ سکتے ، اس لیے کہ ان اشعار میں اقدار کی بازیافت کی کوشش بھی نمایاں ہے اور کسی ماورائی قوت کے وجود کا احساس بھی:
نئی ہوا میں مہک ہے پرانے پتوں کی
جو خاک ہوگئے پر شاخ سے جُدا نہ ہوئے
ظفر اقبال
گلاب ٹہنی سے ٹوٹا زمین پر نہ گرا
کرشمے تیز ہوا کے سمجھ سے باہر ہیں
شہر یار
گئے تھے لوگ تو دیوارِ قہقہہ کی طرف
مگر یہ شور مسلسل ہے کیسا رونے کا
شہریار
شاید کوئی چھپا ہوا سا یہ نکل پڑے
اُجڑے ہوئے بدن میں صدا تو لگائیے
عادل منصوری
میں کہ خوش ہوتا تھا دریا کی روانی دیکھ کر
کانپ اُٹھا ہوں گلی کوچوں میں پانی دیکھ کر
شہزاد احمد
منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ گردش تیز تر ہے ، اور سفر آہستہ آہستہ
منیر نیازی
رات میں نے ایک خرقہ پوش کو دیکھا ہے زیب
اپنے چہرے کے اجالے میں رفو کرتے ہوئے
زیب غوری
ان شعوں میں صرت بدلا ہوا طرزِ احساس نہیں ملتا بلکہ یہ بھی پتہ چلتاہے کہ عقائد و اقدار سے محروم، غزل کے جدید لہجے نے ایک ایسی کروٹ لی ہے جسے روحانی تجسس کے آہنگ کا نام دیا جاسکتا ہے ..... یہ اشعار ان شاعروں کے ہیں جن کی غزل کا غالب رجحان ان کے وجودی رویوں سے تشکیل یافتہ رہا ہے۔ ان اشعار میں پرانی قدروں کی بازیافت، تیز ہوا کے کرشمے میں خدائی قوت کی بالا دستی کا اعتراف ، اور موجودہ انسان میں زمانۂ قدیم کے انسان کی موجودگی کا احساس جدید شاعروں کی نسل کے رویے میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ تبدیلی در اصل ذاتی حوالوں سے کائنات کو دیکھنے کی انتہا پسندی کے رد عمل میں پیدا ہوئی ہے۔ اب یہی شاعر محولہ بالا اشعار میں کائنات کو روحانی حوالوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان شاعروں کو پہلے خوف ، اداسی اور تشکیک کے عناصر سے پہچانا جاتا تھا۔ اب ہم ان کی بعد کی غزلوں میں یقین اور عقیدے کی لے کو بہت نمایاں طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ دس پندرہ برسوں میں جدیدیت کے زیر اثر پروان چڑھنے والے شاعروں کے موضوعات میں بھی تبدیلی آئی ہے اور ان کے انداز بیان میں بھی استقامت اور استحکام پیدا ہوا ہے۔ ظفر اقبال کے شعر میں پرانے پتوں کا جو استعاراتی پیکر بنتا ہے وہ پرانی اقدار اور ان اقدار سے وابستہ اشخاص کی تصویر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے ۔ ان قدروں کے حوالے سے روحانی اور اخلاقی سہارے پر ان کے اعتماد کی مراجعت کو بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ منیر نیازی ، ظفر اقبال ، اور شہریار ہوں یا شہزاد اور زیب غوری ، ان سب نے اپنے نسبتاً بعد کے زمانے کی غزلوں میں مادی اور دنیا وی بیساکھیوں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا ہے اور اپنی شاعری کو موضوعاتی اور لسانی سطحوں پر ایک ایسے جدید ترلہجے سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے جو جدید غزل کے بعد کا مخصوص شعری آہنگ ہے ۔ یہ وہی آہنگ ہے جس کی شمولیت سے بعد کی نسل کے شعراء کی غزل میں ایک نئے رجحان کی تشکیل ہوئی ہے ۔ اس رجحان کے بکھرے ہوئے نقوش ابھی ہم ان شاعروں کے یہاں دیکھ چکے ہیں جو بنیادی طور پر جدیدیت کے زیر اثر پروان چڑھنے والے وجودی رویوں کے شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں ۔ آٹھویں اور نویں دہائی میں سامنے آنے والے شاعروں کے یہاں اعتبار ، یقین ، عقیدے اور اقدار کی شکست کارجحان نہیں ملتا۔ ان کی غزلوں کے اشعار کسی ایسے وجدانی تجربے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جس میں اقدار کے حوالے سے ماضی کی طرف مراجعت اور روحانی رشتوں کی بازیافت کی کوشش نمایاں ہے ۔ غزل گوئی کی پوری روایت کے پس منظر میں ماضی کی طرف مراجعت اور روحانی سہارے کی اس ضرورت کو ایک طرح کے صوفیانہ رویے سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ ماضی اور روحانیت کی بازیافت کے اس صوفیانہ رویے کی تشکیل میں ، تاریخ کے وسیلے سے تلمیحات اور مذہبی واقعات کی مدد سے قدروں کی باز آفرینی نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ روحانی اور وجدانی تجربے کی مختلف جہات کو نظر انداز کیے بغیرمعاصر غزل کا مطالعہ کیا جائے۔ موجودہ غزل میں روحانی اور وجدانی تجربے کا جو یہ رجحان گزشتہ برسوں میں عام ہو چکا ہے اس میں مذہب سے مخصوص تقدس کے پس منظر میں آج کی ہجرت کی قدر و قیمت متعین کرنے، کربلا کے تلازمات کو آج کی صورت حال سے ہم آہنگ کر کے دیکھنے، اور انسان کو مکانی ابعاد کے تناظر کا حصہ ہی نہیں، بلکہ زمانی تسلسل کا تعین کرنے والی مخلوق تسلیم کرنے، جیسے رجحانات
کو بھی بہت واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ازل ، ابد مرے دریا کے دو کنارے ہیں
میں ایک رابطہ دونوں کے درمیاں ٹھہرا
خاور اعجاز
پانی سے اُلجھتے ہوئے انسان کا یہ شور
اُس پار بھی ہو گا مگر اس پار بہت ہے
فرحت احساس
اپنے دیہات میں اب اپنا گزارہ مشکل
اور تیرے شہر کے آتے نہیں آداب مجھے
شریعت منور
خیال آتا ہے رہ رہ کے لوٹ جانے کا
سفرسے پہلے ہمیں اپنے گھر جلانے تھے
آشفتہ چنگیزی
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہیں ، ہم کیا ہماری ہجرت کیا
افتخار عارف
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
افتخار عارف
ان شعروں میں محض ایک ملک سے دوسرے ملک میں منتقل ہونے کا مسئلہ زیر بحث نہیں آیا، بلکہ مکانی فاصلوں کے بالکل متوازی زمانی اور کائناتی سفر میں بھی انسان کی حیثیت متعین کرنے کی کوشش بھی نمایاں ہے۔ یہاں ماضی اور حال ایک تسلسل کا حصہ بن گئے ہیں۔ اور آج کے انسانوں کا رشتہ ماقبل تاریخ تک کے عہد سے قائم ہوتا نظر آتا ہے ۔ اس انداز فکر کو اس لیے بھی بہت اہمیت حاصل ہے کہ ماضی سے کاٹ کر انسان کی حقیقت کو تو کیا اس کی حرکات و سکنات کی نوعیت کو بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ موجودہ غزل (یا دوسرے لفظوں میں جدید تر غزل) میں ماضی اور تاریخ کے حوالے سے آج کے انسان کو سمجھنے کی کوشش عرفان اور وجدان کے تجربے کا انداز لیے ہوئے ہے۔ موجودہ غزل میں ماضی کی بازیافت کسی مجرد حقیقت کے طور پر نہیں، بلکہ ماضی کے وسیلے سے اقدار و عقائد کے احیاء کا رویہ ملتا ہے۔ مندرجہ ذیل اشعار میں ماضی کا ذکر بعض جگہ براہِ راست انداز میں بھی ہوا ہے لیکن بیش تر اشعار میں ماضی کی مدد سے اخلاقی اقدار کی شرکت کو مذہبی اور روحانی بنیادوں پر مستحکم دکھلایا گیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ماضی اور ماضی سے متعلق تلازمات کے ذکر میں استعارہ سازی اور پیکر تراشی بھی اپنا کوئی نہ کوئی روحانی حوالہ ضرور رکھتی ہے ۔
میں اپنی کھوئی ہوئی لوح کی تلاش میں ہوں
کوئی ظلم مجھے چار سو پکارتا ہے
عرفان صدیقی
مرے وجود میں زندہ ہے شوکتِ ماضی
میں اک ستون ہوں گزرے ہوئے زمانے کا
خاور اعجاز
مجھ میں اب کیا رہ گیا ہے میرے ماضی کے سوا
ویسے ماضی کے سوا ، میں کچھ کبھی تھا بھی نہیں
محب عارفی
وہ نمازیں کہ ادا ہو نہ سکیں
اب بھی صحرا میں وضو بولتا ہے
نسیم صدیقی
اے زمیں مجھ کو یہ از بر ہے کہ میرے ا جداد
چھوڑ کر تیرے لیے کو چۂ دلدار آئے
سلیم کوثر
ماضی اور تاریخ کی اس بازگشت کو صرت ماضی کی بازگشت کا نام نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ ماضی اور تاریخ کے اس سیاق وسباق میں آج کے انسان کی روحانی ابتری کی زیادہ واضح تصویر سامنے آتی ہے ، اور اسی پس منظر میں حد سے بڑھی ہوئی مادیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اخلاقی بحران کا نقشہ بھی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ آئیے اس مسئلہ کو جدید تریا مابعد جدید غزل کے چند شعروں کی مددسے سمجھیں۔
وجود پر انحصار میں نے نہیں کیا تھا
کہ خاک کا اعتبار میں نے نہیں کیا تھا
محمد اظہارالحق
جدا کرتے ہیں مجھ کو آسماں سے اور ماں سے
یہ کیسے سلسلے گندم کے دانوں میں بنے ہیں
محمد اظہار الحق
اگر وسعت نہ دیجے وحشتِ جاں کے علاقے کو
تو پھر آزادئے زنجیرپا، سے کچھ نہیں ہوتا
عرفان صدیقی
دُنیا کے طریقے ہمیں اچھے نہیں لگتے
نادان اگر ہم ہیں تو نادان رہیں گے
مہتاب حیدر نقوی
کسی نے بے سروپائی کے باوجود مجھے
زمین سجدهٔ وارض قیام پر رکھا
احمد جاوید
وجود پر انحصار اور خاک کا اعتبار نہ کرنے کے نتیجے میں انسان کو جو ملکوتی ارتفاع ملتا ہے اس کی جہات تک مادی رشتوں کے بجائے جذباتی اور روحانی حوالوں سے رسائی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسمان اور ماں کے استعارے بالترتیب روحانیت اور بے لوث جذبات کی نشاندہی کرتے ہیں اور شاعر روزی روٹی کی تلاش میں روحانی اور جذباتی سہاروں سے محروم ہو جانے کے کرب میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح دوسرے اشعار میں وحشت جاں، کھوئی ہوئی لوح ،ستون یا زمینِ سجدہ اور ارض قیام جیسے الفاظ جہاں ایک طرف اپنے لغوی معنی و مفہوم کی ادائیگی کرتے ہیں وہیں استعاراتی سطح پر یہی الفاظ زیادہ وسیع مذہبی اور ماورائی فضا کی تخلیق بھی کرتے ہیں..... چھٹی اور ساتویں دہائی کی غزلوں میں حقیقت اور خواب کے تصادم، میکانیکی طرزِ زندگی کے خلاف جس رد عمل اور تنہائی، بیزاری اور تلخی کے نتیجے میں ابھرنے والے عدمِ تحفظ اور اداسی کا انداز عام تھا اس نے صرف غزل کے موضوعات کی حد تک اپنا دائرۂ کار محدود نہیں رکھا، بلکہ ان موضوعات کے اظہار میں بھی شعراء نے بعض نئے اسالیب کا اضافہ کیا تھا۔ طنزیہ لب ولہجہ اور تمسخر کے قدرے غیر سنجیدہ آہنگ کے علاوہ بے تکلفی ، خود کلامی اور سر گوشی کے لہجے ، ان ہی اسالیب کے مختلف پہلو تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غزل کی روایتی فضا میں جدید اسالیب کی آمد سے وسعت بھی پیدا ہوئی اور ان اسالیب ہی کی مدد سے زبان کے بہت سے نئے امکانات بھی سامنے آئے تھے ..... جدید غزل کے متنوع اسالیب کے بعض عناصر تو غزل کے مخصوص مزاج سے ہم آہنگ ہو سکتے تھے سو ہم آہنگ ہو کر جدید غزل کی روایت کا حصہ بن گئے۔ مگر اینٹی غزل کے تجربے یا تمسخر آمیز غیر سنجیدہ لب و لہجہ جیسے عناصر اس روایت کا حصہ نہ بن سکے ۔ چناں چہ جدید ترغزل میں اس قسم کی کسی بھی افراط و تفریط کاسلسلہ قائم نہ رہ سکا، اور گزشتہ دس پندرہ برسوں کی جدید تر غرل نے زبان و بیان کے سارے قابل قبول اسالیب کو اپنانے کے باوجود لسانی اور اسلوبیاتی سطح پر بھی اعتدال اور توازن کی راہ منتخب کی۔ جدید تر غزل کے لہجے میں یہ انداز ایک تو جدیدیت کے زیر اثر سامنے آنے والی غزل کی تجرباتی انتہا پسندی کے ردعمل میں پیدا ہوا اور دوسرے یہ کہ گزشتہ برسوں میں تشکیک کے بجائے ایقان ، خوف کے بجائے اعتماد اور مادی صداقتوں کے بجائے روحانی سہاروں کی تلاش و جستجو کے موضوعات نے بھی معاصر غزل کے لہجے اور آہنگ میں ایک قسم کا ٹھہراؤ اور استحکام پیدا کیا .....
مذہبی اور روحانی سہاروں پر یقین اور مادی حقیقتوں کو بھی وجدائی نقطۂ نظر سے دیکھنے کے باعث زمان و مکان کی بھری ہوئی کڑیاں کیوں کر ایک مرکزی سلسلے کا حصہ بن جاتی ہیں اس کی مثالیں متذکرہ بالا شعروں میں بہ آسانی تلاش کی جاسکتی ہیں۔ اب ذرا یہ دیکھئے کہ آج کی غزل میں مذہبی استعاروں کی مدد سے کائنات کی مختلف حقیقتیں ایک مرکزی نقطے پر کیسے مرتکز ہوگئی ہیں۔
یہ کس نے دست بریدہ کی فصل بوئی تھی
تمام شہر میں دست دعا نکل آئے
عرفان صدیقی
آتے ہیں برگ و بار درختوں کے جسم پر
تم بھی اُٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دُعا کا ہے
اسعد بدایونی
اندھیروں کی طرف بڑھتے قدم کو کیوں نہیں زنجیر کر دیتا
خدا ہر سمت روشن ہے تو میری گمر ہی کا کیا سبب آخر
عالم خورشید
ایک میں ہوں اور دستک کتنے دروازوں پہ دوں
کتنی دہلیزوں پہ سجدہ ایک پیشانی کرے
مہتاب حیدر نقوی
جانے کس مسجد کی صورت بن رہی خواب میں
جانے کن سجدوں کی آہٹ میری پیشانی میں ہے
فرحت احساس
تمام وسعت ِصحرائے تشنگی میری
تمام سلسلۂ دجلہ و فرات مرا
عشرت ظفر
کسی سحاب نے پوچھا نہ تشنگی کا مزاج
گھٹا کے روپ میں برسی مری دعا مجھ پر
عشرت ظفر
اسی جزیرۂ جائے نماز پر ثروت
زمانہ ہو گیا دست ِدعا بلند کیے
ثروت حسین
ان اشعار سے جس شعری منظر نامے کی تشکیل ہوتی ہے اس میں عقیدے کی بازیافت کے رویے اور دعا اور التجا کے لہجے کومشترک قدر کی حیثیت حاصل ہے۔ تمام شعروں میں مذہبی استعاروں سے متحرک پیکر بھی تراشے گئے ہیں اور وجدانی فضا بھی تیار کی گئی ہے۔ ان دعائیہ لہجوں میں عقیدے کی ضرورت کے احساس کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ عقیدے کی ضرورت کا وہی احساس ہے جس سے محرومی نے جدید غزل میں مادی رشتوں سے اکتاہٹ اور قدروں کے انتشار کی کیفیت پیدا کی تھی ۔ ان اشعار کی روحانی فضا میں محض مذہبی تصورات کی کارفرمائی نہیں ملتی بلکہ ایک نیا صوفیا نہ آہنگ بھی ملتا ہے۔ اس لیے اگر غزل کے جدید تر منظر نامے کو مذہبی حسیت ، صوفیانہ آہنگ اور ماضی کے حوالے سے کھوئے ہوئے روحانی رشتوں کی بازیافت پر مبنی قرار دیا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔ موجودہ غزل کے اس منظر نامے کی تشکیل میں نسبتاً پرانی نسل کے جدید شاعروں کا بھی اتناہی حصہ ہے جتنا گزشتہ دس پندرہ برسوں میں سامنے آنے والے نوجوان شعراء کا۔ یہ بات البتہ اپنی جگہ اب بھی درست ہے کہ موجودہ غزل کے موضوعات اور لہجوں میں مذہبی حسیت کے علاوہ بھی بعض رجحانات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے کہ مذہبی حسیت کے نتیجے میں اُبھرنے والا صوفیانہ آہنگ آج کی غزل میں غالب ترین رجحان بن کرنمودار ہوا ہے ۔
(١٩٩١ء)