ابوالکلام قاسمی

ابوالکلام قاسمی

نئی اردو نظم اور تہذیبی تشخص کا مسئلہ

    نئی اردو نظم اور تہذیبی تشخص کا مسئلہ

    ابوالکلام قاسمی

    بادی النظر میں کسی ادب پارے کے تہذہبی تشخص کی بات کرنا ، شعر و ادب کی ہیئت اور فنی طریق کار کے بجائے موضوعاتی مباحث یا فنی اظہار کے خارجی حوالوں سے رجوع کرنے کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔ چوں کہ گذشتہ دو تین دہائیوں میں ایسی شعریات کو فروغ حاصل ہوا جس میں فنی طریق کار کی بحث کے علاوہ تمام ادبی اور ثقافتی حوالوں کو ادب کی تفہیم کے لیے غیرادبی معیاروں کا نام دے دیا گیا۔ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ ہماری تنقید ہیئتی طریق کار کے تجزیے میں مصروف رہنے اور فن کی سطح پر بعض نہایت کار آمد خدمات انجام دینے کے باوجود اکہری صداقت کی حامل رہی ، اور متن کے وجود میں آنے والے ان سرچشموں سے صرف نظر کرنے کا ارتکاب کرتی رہی جو صحیح معنوں میں ادب کی تخلیق کے ضامن بھی تھے اور ادبی متن کو ادب کے طور پر قبول کرنے کے وسائل بھی ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ادب پارہ جمالیاتی تجربہ ہونے کے ساتھ جس صداقت کی باز آفرینی کرتا ہے اس کی اہمیت قاری کے حافظے کے اس پیچیدہ اور خود کار نظام کے حوالے سے ہی متعین کی جا سکتی ہے جو انفرادی یا اجتماعی یادداشت کی صورت میں تاریخیت ، ثقافت ، تہذیب اور ان سےتعلق مختلف پہلوؤں کا احاط کرتا ہو۔ یہی سبب ہے کہ کسی بھی ادبی متن کی قرأت قاری کے حافظے میں محفوظ تمام متعلق شعوری اور لاشعوری سلسلوں کو متحرک کر دیتی ہے ۔ اس لیے یہ سوال اب زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ تنقید، ایا شاعر کے محض فنی طریق کار کو معرض بحث میں لائے یا شعری متن پر قاری کے رد عمل سے پیدا ہونے والے ان تمام مباحث اور مسائل کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرے جو قرأت شعر کے دوران تجربے میں ہلچل پیدا کرنے اور قاری کی یادداشت میں محفوظ پرانے تجربے کی قلب ماہیت کی صورت میں ظہور پذیر ہوتے ہیں، چوں کہ یہ عمل متن کی تشکیل کے عقدے بھی وا کرتا ہے اور اسے لاتشکیل سے بھی گزارتا ہے۔ اس لیے متن کے مطالعے میں قاری کے ثقافتی حافظے کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ جدیدتر تصور ادب اور طرز مطالعہ میں وہ ما بعد ساختیاتی یا مابعد جدید رویے شامل ہو گئے ہیں ۔ جن کے باعث ثقافتی مطالعات ( Cultural Studies ) ادبی مطالعہ کا ایک مخصوص اور اہم شعبہ بن گیا ہے اور اس بات پر خاص توجہ مرکوز ہوئی ہے کہ شاعری یا على العموم فنون لطیفہ، دراصل ہمارے تہذیبی و ثقافتی حافظے کا اظہار بھی ہیں اور الفاظ بطور نشانات ثقافتی مدلول کے پورے نظام کی تخلیق نو بھی کرتے ہیں۔ تنقیدی فکر کی اس تبدیلی کے باعث تیسری دنیا بالخصوص برصغیر میں ادب کے وسیلے سے تہذیبی تشخص کی تلاش و جستجو کی طرف توجہ زیادہ مرکوز ہوئی ہے۔

     ادب کی پرکھ کے بارے میں عرصۂ درانہ تک آفاقی معیاروں کے سحر نے ہماری طرح نو آبادیات کے تجربے سے گزرنے والے تقریباً سبھی مقامی ، ثقافتی اور لسانی گروہوں کو اپنے ادب کے استناد کے لیے نام نہاد آفاقی اصولوں کا دست نگر رکھا۔ لیکن گزشتہ برسو ں میں اس رجحان کو فروغ ملا ہے کہ ادبی اقدار اور تہذیبی اقدار کے باہمی رشتوں کی دریافت کو زیادہ عرصہ تک التوا میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ مطالعہ ادب کے اس زاویے سے کسی مخصوص ازم کو خواہ وہ مارکسزم ہو یا وجودیت ، یا کوئی اور فکری نظام ۔ متن کے خالق یا متن کے قاری پر مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ اسی باعث مقامی یا لسانی بنیادوں پر قائم چھوٹی چھوٹی ثقافتیں بھی اپنی حیثیت کا اثبات کر سکتی ہیں۔ اور تمام ثقافتیں ایک دوسرے سے ہم آمیز ہو کر معاون ثقافتیں بن سکتی ہیں۔ اس صورت حال میں ہندوستان کی بر ہمنی ثقافت یا پاکستان میں مسلم ثقافت اگر چھوٹی چھوٹی لسانی ، مذہبی یا علاقائی ثقافتوں کو اپنے تسلط میں رکھنا چاہے تو اس عمل کو ما بعد جدید فکر مسترد کرتی ہے کہ مختلف ثقافتیں مل کر ایک بسیط ثقافتی نظریے کی تشکیل میں معاون ہو سکتی ہیں ۔ یہ وہ پس منظر ہے جس میں اردو تنقید میں بھی اس رجحان کو قبول کیا جانے لگا ہے کہ شعر و ادب کے، ہمارے ثقافتی حافظے کا اظہار ہونے کے باعث ، ان کی اہمیت اور قدر و قیمت بھی ثقافتی حوالوں کو نظرانداز کر کے متعین نہیں کی جاسکتی۔

    جہاں تک ادب کو غیر ادبی معیاروں پر پر لکھنے کا سوال ہے تو ثقافتی مطالعات میں معیار کے ادبی یا غیر ادبی ہونے کی بات ہی خارج از بحث تصور کی جاتی ہے۔ یہ تنقیدی طریق کار ادبی اور ثقافتی معیاروں میں کوئی تفریق ہی قائم نہیں کرتا۔ اس لیے کہ کوئی بھی ادبی قدر ، ثقافتی قدر سے تہی دست نہیں ہو سکتی ۔ اس رویے نے ہیئتی یا اسلوبیاتی تجربہ پسندی کو اس حد تک سیال بنا دیا ہے کہ اس کا سارا انحصار، زبان کے ذریعے حقیقت، واقعیت یا مدلول کی تخلیق اورتشکیل پر مرکوز ہوکر رہ گیاہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ نقطۂ نظر زبان اور مدعا، یا دال اور مدلول کے کسی بھی رشتے کو قطعی اور حتمی نہیں مانتا۔

    اردو میں آزادی کے ماقبل اور مابعد کے زمانے کو ترقی پسند نظم گو شعراء کی شعری سرگرمیوں کا نقطۂ عروج مانا جاتا ہے۔ مگر جدلیاتی مادیت کو طبقات کی درجہ بندی کی کلید سمجھنے کے باوجود ترقی پسند شعریات ثقافتی جدلیات کو بالعموم زیر بحث نہیں لائی۔ اس کے برخلاف جدیدیت کے زیرا ثرلکھی جانے والی نظموں کو تہذیبی حوالوں سے کاٹ کر ہیئتی اور اسلوبیاتی تجربہ پسندی کو ایسا پیمانہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی جس کے لیے’ فنی ہنرمندی آخری معیار قرار پائی۔ اس طرح جدید انداز نقد نے بھی تہذیبی اور ثقافتی حوالوں کو شاعری سے منہا کر کے دیکھنے کا عمل جاری رکھا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی کے کسی بھی ادبی یا تنقیدی رویے کو حرف تنقید بنانے کے بجائے ان رویوں کے مثبت رول کا اعتراف کیا جائے اور ثقافتی مطالعات کو اپنے تنقیدی طریق کار کا حصہ بناکر ثقافتی محرکات اور متن کی دسترس میں آنے والے ثقافتی نشانات کی عقدہ کشائی کی طرف توجہ مبذول کی جائے۔ البتہ اس ضمن میں یہ بات اہم ہے کہ کوئی بھی شعریات اپنے دائرہ کار کو محض معاصر شعری سرگرمیوں تک محدود نہیں رکھتی بلکہ یہ کوشش بھی کرتی ہے کہ ماضی کے ادبی متون کو بھی اپنے مخصوص سیاق و سباق میں نئے سرے سے دیکھے اور ان کی قدرو قیمت کو ازسر نو متعین کرے ۔

     اگر ہم اس طریق ِمطالعہ کا استعمال کریں تو اندازہ ہوتا ہے گزشتہ نصف صدی میں ایسی نظمیں بھی لکھی گئی ہیں جو ثقافت کو شعوری یا غیر شعوری طور پر ہمہ جہت انداز میں نشان زد کرتی ہیں ۔ ان کے دائرۂ عمل میں علامات، اساطیر ،تلمیحات اور آر کی ٹائپ بھی شامل ہیں، جن کے وسیلے معاصر ثقافت سے لے کر ماضیٔ بعید تک کی ثقافتوں کے نشانات ڈھونڈے جاسکتے ہیں۔ دوسری صورت ایسی نظموں کی ہے تو کبھی لفظیات کے انتخاب میں، کبھی تراکیب کی بندش میں اور کبھی رسومیات سے کسب فیض میں، علاقائی یا لسانی یا مجموعی طور پر ثقافتی عوامل کا احساس دلاتی ہیں۔ اور بعض ایسے بھی شاعر ہیں جن کی نظموں میں ثقافت کی نوعیت زبان کی خارجی بنت سے گزرتے ہوئے ایسے متعدد ثقافتی مظاہر کو مجسم کرنے کی کوشش میں ملتی ہے جنہیں اب تک صرف شعری معروض کے خانے میں ڈال کر الفاظ کی اکہری تعبیر کی سطح پر سمجھنا رو ارکھا گیا ہے۔ اگر ہم اس عرصے کی اردو نظم کے سرمایے پر نگاہ ڈالیں تو تہذیبی تشخص کے حوالے سے ہماری نگاہ ن  م  راشد اور میراجی کی نظموں پر رکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں شاعر اپنے زمانے کی دو طرح کی شعریات کی انتہا پسندی کا ہدف رہے۔ ایک حلقے نے انہیں حد درجہ ابہام پسند قرار دے لر اور دوسرے حلقے   نے صرف ہیئتی تجربہ پسندی کا امام بتاکران کے بارے میں اکہری صداقتوں کی تلاش کا سلسلہ جاری رکھا۔ نسبتاً بعد کے زمانے میں جب گروہی شدت پسندی اعتدال سے ہم کنار ہوئی تو بعض نقادوں نے ان کے متن کو سنجیدگی سے موضوع بحث بنایا، اور بجاطور پران کی شاعری کے معاشرتی اور ثقافتی حوالوں کو بھی نشان زد کرنے کی کوشش کی ۔ راشد نے مغرب کے مقابلے میں مشرق کو جس تناظر سے ہم آہنگ کیا وہ دراصل مشرقی تہذیب کی زوال آمادہ قدروں کا کبھی نوحہ تھا ،کبھی احتجاج اور کبھی بالا دست ثقافت کے خلاف شدید رد عمل، راشد کی لفظیات کا غالب حصہ عجمی روایت سے ہم آہنگ ہے جو اپنے آپ میں بھی ایک بڑا ثقافتی دائرہ بناتا ہے۔ یہ دائرہ ہند ایرانی تہذیب کی محض لسانی صورت گری نہیں بلکہ مغرب کے برخلاف ایک متوازی ثقافت اور اس سے متعلق اقدار کی شیرازہ بندی اورتشکیل نو بھی ہے ۔ راشد کا ثقافتی شعور نو آبادیاتی دور کے برصغیر پر تہذیبی ضرب کاری کے خلاف شدید رد عمل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس رویے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جدید نظم کی شعریات میں شاعر کے داخلی اور ذاتی رد عمل کو بھی ثقافتی عوامل کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے ، اور جدید نظموں کی تعبیر کے اس طریقے کو اہمیت دی جاسکتی ہے کہ اقدار کی شکست وریخت ،رشتوں کی بکھراؤ، اور وجودی مسائل کے اظہار میں بھی ثقافتی محرکات کی کارفرمائی دیکھی جانی چاہیے کیوں کہ جدید شعری سرمایے کے ثقافتی سیاق و سباق کو نظرانداز کر کے اب تک اس کے ساتھ تنقیدی انصاف نہیں کیا گیا ہے۔ چناں چہ جدید نظم کے نام سے لکھے جانے والے سرمایے کے ثقافتی مطالعے سے اس زمانے کی نظموں کی تفہیم کا ایک بالکل مختلف منظر نامہ مرتب کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے راشد کے لیے جو ثقافتی زاویۂ نظر اختیار کیا جائے گا اس کو جدید نظم گو شعراء  کے لیے بھی کارآمد طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

    راشد کے برخلاف میرا جی کی نظمیں تاریخ، ثقافت حتیٰ کہ ما بعد تاریخ تک کو علامتی سطح پر نشان زد کرتی ہیں، ان کے یہاں ہندو ، مایتھالوجی ، اساطیر، آر کی ٹائپ اور ہندوستان کے قدیم ترین تہذیبی ادارے ، کسب فیض کا وسیلہ بھی ہیں ، اور ان کی نظمیں انسان کی سائیکی کو اس تہذیبی سرمایے کا امین جان کر واحد متکلم کی سطح پر بھی ثقافتی عناصر کا احیا کرتی ہیں اور شعری کردار کی سطح پر بھی۔ اس طرح میراجی کی نظموں کی تفہیم میں ثقافتی لسانیات کو بھی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اور عمرانیاتی شناخت کو بھی جس  کے تناظر میں وہ کبھی واحد متکلم کی ذات اور کبھی اس کے گردو پیش کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    چوں کہ راشد اور میراجی سے قبل اقبال نے اپنے شعری متن کے ذریعے تہذیب و ثقافت کا ایک مخصوص نقطۂ نظر پیش کر دیا تھا اور اس نقطہ ٔنظر کا انحصار مغربی اور مشرقی ثقافت کے موازنے پر تھا۔ اس لیے اس کے بعد کے زمانے میں کسی حد تک اقبال کے زیر اثر اور بڑی حدتک سماجی اور تہذیبی سطح پر ،غالب مغربی کلچر کے مقابلے میں مغلوب مشرقی کلچر کی شیرازہ بندی پر زیادہ اصرار کیا گیا۔ اس ضمن میں اقبال کے بعد سے لے کر راشد اور میرا جی تک کبھی حب الوطنی اور کبھی ثقافتی نشاة ثانیہ کی صورت میں اردو نظم تہذیب و ثقافت کے کسی نہ کسی تصور سے مربوط ضرور رہی۔ لیکن اس سلسلے کی سب سے مضبوط اور تحکم کڑی کے طور پر اختر الایمان کی نظمیں زیر بحث لائی جاسکتی ہیں۔

    اخترالایمان کا عرصۂ شاعری تقریباً نصف صدی پر پھیلا ہوا ہے ۔ زمانی مسافت کے تناسب سے ان کی نظموں میں خیال اور اسلوب کا ارتقا ئی بھی ہوا ہے اور ان کے تہذیبی تصور کی پیش کش بھی بعض تبدیلیوں سے دو چار ہوئی ہے ۔ ان کی نظموں کا طرۂ امتیاز فارسی آمیز اسلوب ، تراکیب اور لفظیات سے چھٹکارا حاصل کر کے اپنی سرزمین اور اس کی مقامی اور ثقافتی شناخت پر اصرار ہے۔ غزل کی اشرافیت کے برخلاف غیر مرصع،عوامی بول چال سے قریب لفظیات اور حد درجہ غیر روحانی اسلوب نے ان کی نظموں کی زبان اور فضا کو خود اپنے آپ میں مقامی ثقافت کا نعم البدل بناکر رکھ دیا ہے۔ تاہم اسلوبیاتی ارتقا ء کا انداز ان کی نظم گوئی کے ابتدائی مرحلے اور بعد کے مراحل کے فرق میں زیادہ واضح ہوتا ہے ۔ شاید اسی باعث ان کی شروع کی نظموں میں قدروں پر مبنی تہذیبی اضمحلال اور ثقافتی عناصر کے انتشار کا موثر بیان تو ضرور ملتا ہے مگر لسانی ساخت میں کوئی بڑا انقلاب نظر نہیں آتا، مثلاً اپنے ابتدائی زمانے کی ایک نظم میں مسجد اور اس کے لوازم کو زوال آمادہ اقدار کی علامت بناکر مذہبی مظاہر پر مبنی ثقافتی رویے کو وہ اس طرح ظاہر کرتے ہیں :

    فرش، جاروب کشی کیا ہے سمجھتا ہی نہیں

     کالعدم ہو گیا تسبیح کے دانوں کا نظام

    طاق میں شمع کے آنسو ہیں ابھی تک باقی

     اب مصلی ہے نہ ممبر، نہ موذن نہ امام

    اور یہ کہ :

     تیز ندی کی ہر اک موج طلاطم بر دوش

    چیخ اٹھتی ہے وہیں دور سے فانی فانی

     کل بہالوں گی تجھے توڑ کے ساحل کے قیود

    اور پھر گنبد و مینار بھی پانی پانی

    ماضی کی بازیافت کا عمل ثقافتی مطالعات کا خاص موضوع ہے ۔ اس لیے ما بعد جدید تنقیدی طریق کا رجب آفاقیت اور ہمہ گیری کے نو آبادیاتی رویے سے انحراف کرتا ہے تو اس کی مراجعت تہذیب اور کلچر کے وسیلے سے ماضی کی طرف بھی ہوتی ہے۔ اس لیے معاملہ خواہ تلمیح کا ہو، اسطور کا ہو ، روایتی قصص یا عوامی کہاوتوں کا یہ سب کسی نہ کسی منزل پر کلچر کے سرچشمے اور مانی کی بازیافت بن جاتے ہیں۔ یوں تو شعری اور نثری ادب میں تلمیح کے دور رس اور جامع استعمال کی دیرینہ  روایت رہی ہے مگر یہ روایت تہذیبی مطالعات کے لیے اس وقت قابلِ توجہ بنتی ہے جب اس کے ذریعے ماضی یا ماضی کے مفروضات و مسلمات ثقافتی یا ادبی متن کی تشکیل کا ایک ایسا دائرہ بنتا ہو جس میں شعری محرک اور شعری مدلول دونوں شامل ہوں۔ مشرقی ثقافت ، مذہبی معتقدات ، الہامی کتب کے بیانات اور اسطوری واقعات اردو نظم کے ان گنت نمونوں میں گنجان علامتوں کے ساتھ ظہور پذیر ہوئی ہیں ۔ ان کی درجہ بندی کے ذریعہ ثقافتی عناصر کی نوعیت ، پرانے شعری متون کے مطالعے میں بہ آسانی متعین کی جاسکتی ہے۔ مابعد جدید نقطۂ نظر ،نئی امریکی تنقید کی طرح علامت استعارہ اور تلمیح کو اشیاء کے نمائندے کے طور پر براہِ راست زیر بحث نہیں لاتا۔ بلکہ ان کے وسیلے سے ثقافتی متن کو کلی حیثیت سے موضوع بحث بناتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس کے لیے ثقافتی متن کے دائرے کی وسعت میں ثقافتی اداروں کے ساتھ تو ہمات، معتقدات اور رسومیات کے پھیلے ہوئے جال تک رسائی حاصل کرنا بہت اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس پورے مقدمے کو اخترالایمان کی کی ایک نظم ’’ کالے سفید پروں والا پرندہ اور میری ایک شام‘‘ کے بعض ٹکڑوں کی مدد سے زیادہ واضح کیا جاسکتا ہے :

     برگد کے نیچے بیٹھو یا سولی چڑھ جاؤ

     بھینے لڑنے سے باز نہیں آئیں گے

     موت سے ہم نے ایک تعاون کر رکھا ہے

     سڑکوں پر ہر لمحہ اک میت جاتی ہے۔

    پس منظر میں کیا ہوتا ہے نظر کہاں جاتی ہے

    یا یہ مصرعے کہ :

     پھولوں کی خوشبو سے کیا کیا یاد آتا ہے

     چوک میں جس دن پھول پڑے سڑتے تھے

     خونی دروازے پر شہزادوں کی پھانسی کا اعلان ہوا تھا

     یہ دُنیا لمحہ لمحہ جیتی ہے

     دلّی کی گلیاں ویسی ہی آباد شاد ہیں سب

     دن تو کالے پر والے بگلے ہیں

    جو سب لمحوں کو اپنے پنکھوں میں موند کے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں

     چاروں جانب رنگ رنگ کے جھنڈے اڑتے ہیں

    سب جیبوں میں انسانوں کے دکھ درد کا درماں

     خوشیوں کانسخہ، بندھا پڑا ہے

     لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟

     جب نسخہ گھلتا ہے

      ۱۸۵۷ جاتا ہے

      ۱۹۴۷ آجاتا ہے

     اس متن میں تاریخیت کی کارفرمائی وضاحت کی محتاج نہیں۔ مگر یہ تاریخیت محض تاریخی واقعات پر مبنی نہیں ،بلکہ بہت اہم اور پیچیدہ ثقافتی متن کی حیثیت بھی اختیار کر لیتی ہے۔ ’برگد کے نیچے بیٹھو یا سولی چڑھ جاؤ ، جیسا مصرع جہاں ایک طرف مہاتما بدھ اور عیسیٰ مسیح کی روایت سے متعین تاریخی اور مذہبی متن کی سنجیدگی کو ابھارتا ہے، وہیں بھینسے لڑنے سے باز نہیں آئیں گے، جیسا مصرع اس کے گرد اہمال اور لایعنیت کا دائرہ بھی کھینچ دیتا ہے۔ اسی طرح خونی دروازہ اور شہزادوں کی پھانسی کا حوالہ اور پھر اس کے بعد دلّی کی گلیاں ویسے ہی شاد آباد ہیں سب ،کا حالیہ منظرنامہ ، تضاد کشمکش، اور آئرنی ( Irony ) اتا تربھی پیدا کرتا ہے اور تہذیبی موازنے کا بھی، جو تہذیبی علامتوں کے ساتھ اپنی بین المتونی منطق کے اعتبار سے مانوس صورت حال میں حیرت، عبرت اور آگہی کا احساس اجاگر کرتا ہے۔ بعد کے مصرعوں میں لہروں، منصوبوں، وعدوں ، خوش آئند خوابوں کی صورت میں انسان جس طرح اپنے دکھ درد کا درماں ڈھونڈتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس فریب اور فریب شکستگی کی پوری فضا کو دو بڑے تہذیبی اور تاریخی متن ۱۸۵۷ اور ۱۹۴۷ ء کے شکنجے میں رکھ کر پاش پاش کر دیا گیا ہے ۔ اس نظم میں شاعر کا اپنے موضوع کی مناسبت سے فارسیت زدگی اور اشرافیہ رکھ رکھاؤ سے حد درجہ اجتناب ثقافتی اظہار کی مناسب صورت حال کو قائم کرتا ہے۔ اس طرح یہ نظم نثر کی سطح پر آ کر ہم سے ایک ایسے متن کی طرح کلام کرتی ہے جو اپنی کلیت میں بیان کی شاعری نہ بن کر ایسا شاعرانہ بیان بن جاتا ہے جس کے جلو میں ثقافتی ارتعاشات کو بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اسی نظم کی طرح باز آمد’خمیر ‘ ’اپاہج گاڑی کا آدمی‘ اور اس نوع کی متعدد نظموں میں نہایت کھردرے، طنزیہ ، اور ڈرامائی تکلم کے لہجے میں فن کو تہذیبی تشخص کا بدل بنادیا گیا ہے۔ اپنے عہد کی ہولناکی ، انتشار اور خلفشار کو سپاٹ لیکن توانا اور پر قوت اسلوب اور لہجے میں سمیٹ لینا ، اختر الایمان کا ایسا امتیاز ہے جس میں ان کے معاصرین میں سے کوئی ان کا ہم پلہ نہیں۔ ویسے تو اخترالایمان کی نظموں میں اخلاقی قدروں کے بحران ۔ وقت کی ناگزیری ،ظاہر و باطن کا تصادم اور یاس و امید کی کشمکش کا عکس ان کی شناخت سمجھی جاتی ہے، لیکن ثقافتی نشانات کی گم شدگی اور وقت کو تہذیبی تبدیلی یا انقلاب کی علامت کے طور پر پیش کرنے کی کیفیت ان کی نظموں میں تواتر کے ساتھ موجود رہی ہے نسبتاً بعض پرانی نظموں میں برصغیر کی تقسیم یا تہذیبی صورت حال کی تبدیلی کو علامت بنانے کا انداز بہت نمایاں تھا۔ ان کی تقسیم ہند کے بعد کی ایک نظم ’کل کی بات‘ میں جس طرح محض چند مصرعوں کی مدد سے نئے ملک کے بننے کا خوں آشام منظر نامہ تیار کیا گیا ہے، اور اس منظر نامے کو پان کی پیک کے لفظ سے شدید تناؤ کی فضا میں دل بہلاوے کے عمل سے گزارا گیا ہے، وہ ثقافتی سطح کے ساتھ فنی سطح پر بھی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ثقافتی تشخص فنی امتیاز کا روپ کیوں کر اختیار کرلیتا ہے۔

    ’’ یک بیک شور اُٹھا ایک نیا ملک بنا

     اور اک آن میں محفل ہوئی درہم برہم

     آنکھ جوکھولی تو دیکھا کہ زمیں لال ہے سب

     تقویت ذہن نے دی ٹھہر و! نہیں

     خون نہیں

     پان کی پیک ہے یہ ارماں نے تھو کی ہوگی‘‘.....

    خون کی لالی ، پان کی پیک کی لالی یا ہلاکت خیزی کو رنگ کے بصری پیکر میں ڈھالنے کی بات چل نکلی ہے تو قدرے بعد کے ایک شاعر کی نظم ،حضرت زینب کی پینٹنگ کو بھی ملاحظہ کرنا خارج از بحث نہ ہوگا۔ جس کا پس منظر بھی یہی سُرخ رنگ ہے مگر یہ نظم اپنے آپ میں تاریخ اور ثقافت کی تقلیب بن گئی ہے۔

    سر پہ ہے آکاش مگر وہ نیلا نہیں ہے ، لال

    پاؤں کے نیچے مٹی ہے، پر بھوری نہیں ہے، لال

    آنگن میں اک بھیڑ بھی ہے پر اس کا اون بھی لال

    وہیں کہیں مشکیزہ بھی ہے اس کا جگر بھی لال

     چولہے سے جو دھواں اٹھا ہے وہ بھی بالکل لال

    آگ تو لال تھی پہلے سے بھی اور بھی ہوگئی لال

     ایک ردا زینب کے سر پر، اب بھی تھی سرسبز

     وہ بھی رنگ نہ غیر کو بھایا ، چھین کے کر دیا لال

     ایک حسین کے لال ہونے سے سب جگ ہو یا لال

    زینب تیرے گھر رنگوں کا کیسا ہو گیا حال

     ایک ہی رنگ اسے من بھایا اب ہو وہ پامال

    صلاح الدین پرویز کی اس نظم میں تاریخی واقعے کے ساتھ مذہبی اور ثقافتی رنگ بھی شامل ہیں۔ اور ان کا شعری معروض تمام علامتوں کو محض رنگ کے ذریعے روشن ، تابناک اور پھر ہیبت ناک بنا دیتا ہے، پرویز اپنی تہذیب و ثقافت سے جس انداز کے استعارے اور علامتیں چنتے ہیں ان کے ساتھ پینٹنگ، موسیقی اور رقص کی کیفیت کبھی ان کی نظموں کو صوفیانہ جذب ومستی کی فضا میں لے جاتی ہے اور کبھی آوازوں کے زیرو بم اور کبھی رنگوں کی آمیزش سے انہیں شاعری سے مربوط دوسرے فنون لطیفہ کے قریب پہنچا دیتی ہے۔ مزید یہ کہ روایات، قصص اور مائیتھالوجی سے استعارہ سازی کا عمل ان کے یہاں ایک ایسا ثقافتی ماحول تیار کرتا ہے جس میں ہند اسلامی روایات کے متنوع رنگ اور جھلکیوں کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

    ہمارے تہذیبی شخص میں جس  مشترکہ کلچر کارنگ نمایاں ہے اس کے بھر پور استعمال اور تاثر آفرینی کی ہمہ جہت تصویر عمیق حنفی کی نظمیں  پیش کرتی ہیں۔ عمیق حنفی کی شاعری کوان کی معاصر شعریات نے بیانیہ شاعری یا نثر زدگی کے الزام کے ساتھ جدید نظم کے مرکزی دھارے سے الگ کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر ثقافتی شعریات کے نقطۂ نظر سے ان کی نظمیں خصوصی توجہ کے قابل بن جاتی ہیں اور بڑی اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ عمیق حنفی کی نظموں میں انسان کو بالعموم ایک تہذیبی وجود کی حیثیت سے پیش کرنے کا رجحان اتنا غالب ہے کہ مشترکہ کلچر میں شامل ہند سلم ثقافت سے کشید کی ہوئی علامتیں ان کی طویل اور مختصر نظموں میں یکساں طریقے پر کار فرما دکھائی دیتی ہیں، شہری زندگی ، ثقافتی نشانات کو جس قدر مدھم کر دیتی ہے۔ اس کی تلافی ان کے یہاں دیہی، عوامی اور کبھی کبھی قبائلی تہذیب کے عناصر سے ہوتی ہے۔ تفصیلی مثالوں سے احتراز کرتے ہوئے اس بات کو ان کی ایک چھوٹی سی نظم ’ابال‘ کی مد سے زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھاجاسکتا ہے:

     ’’یہ ہانڈی اُبلنے لگی ہے

    یہ مٹی کی ہانڈی ابلنے لگی ہے

    یہ مٹی کی دیوانی ہانڈی  ابلنے لگی ہے

    ہزاروں برس سے مری آتما اونگھ میں پھنس گئی تھی

    جب انسان ، دو پتھروں کو رگڑ کر کہن سال سورج کی سُرخ آتما کو بلانے لگا تھا

     مگر تیز آنچ اور بہت تیزبو،نے جھنجھورا تو اب آنکھ پھاڑے ہوئے

     دم بخود ہے

    ابلنے لگیں سبزیاں ، پھول، پھل، گوشت، دالیں ، اناج

    ابھی شور بے کے کھدکنے کی آواز چھائی ہوئی تھی

    ابھی سانپ چھتری لگائے ہوئے بھاپ نیلے خلاؤں کی جانب رواں ہے

     وہ جس کی ضیافت کی تیاریاں تھیں، کہاں ہے ؟

    مری آتما جاگ کر چیختی ہے

     یہ ہانڈی ابلنے لگی ہے

    یہ مٹی کی ہانڈی ابلنے لگی ہے

     یہ مٹی کی دیوانی ہانڈی ابلنے لگی ہے.....‘‘

    ہماری ثقافت میں دیوانی ہانڈی ،کا تصور عرصے سے موجود ہے۔ عمیق حنفی نے مٹی کی دیوانی ہانڈی کو جدید انسان کا استعارہ بنایا ہے اور انسان کے آپے سے باہر ہونے کی مناسبت سے سورج کی سرخ آتما ، سانپ چھتری ، پتھروں کی رگڑا اور اس نوع کی متعدد ثقافتی علامات کو ایک شعری سسٹم میں ڈھال دیا ہے جس میں دیوانی ہانڈی کا استعارہ بعض چھوٹی چھوٹی استعاراتی کڑیوں کے ساتھ مل کر جامعیت اختیار کر لیتا ہے ۔ اس نظم کی لفظیات، اس کا نثری آہنگ اور اس کا کہاوتی رنگ جدید عہد کے انسان کو قدیم، روایتی اور عوامی مزاج کے

    بے ہنگم تسلسل کا حصہ بنا دیتا ہے۔

    عمیق حنفی کے اس فنی رویے سے جدید نظموں کی تفہیم کا بھی ایک خاص سیاق وسباق بنتا ہے۔ اور یہ اندازہ لگانے میں بھی دشواری نہیں ہوتی کہ جدیدشاعروں کی ایسی جن نظموں کو جن کو اقدار کی شکست و ریخت اور معاصر صورت حال کا رد عمل تو بتایا گیا مگران کی تفہیم میں ثقافتی اقدار اور ثقافتی انتشار کو بطور محرک زیر بحث لانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس لیے اگر اس نقطۂ نظر سے بعض نمائندہ  جدید نظم نگاروں کانئے سرے سے مطالعہ کیا جائے تو ان کی نظموں کی معنویت اس مخصوص زاویے سے دو چند ہو جاتی ہے مثلاً بلراج کومل کی ایک نظم ’سرکس کا گھوڑا‘ جس طرح واحد حکم کی تہذیبی شناخت کو گھوڑے کی علامت میں بیان کرتی ہے یا شہر یار کی نظم ’امرت‘ میں جس انداز میں زہر کو ز ندگی کے مصائب و آلام سے نجات کی علامت میں ڈھالا گیا ہے اس سے ثقافتی اقدار کے فشار اور اس سے رونما ہونے والے داخلی ردعمل کا بھر پور اظہار ہوتا ہے ۔ اسی طرح کمار پاشی کی نظم ’پرانے موسموں کی آواز ‘،’خواب تما شا‘ اور ایودھیا،   میں آرہا ہوں ، ہند و مایتھالوجی کی بازیافت اور عادل منصوری کی نظم’ حشر کی صبح‘ درخشاں ہو مقام محمود، اور تبوک آواز دے رہا ہے ، یاز بیر رضوی کی نظم پرانی بات ہے لیکن، اسلامی ثقافتی ورثے کی بازگشت ہیں، اور شفیق فاطمہ شعریٰ کی نظم رت مالا، صدا بہ صحرا، اور متعدد دوسری نظمیں ،انکشاف ، سرشاری اور وجدانی تجربے کے حوالے سے اسی ثقافتی شعریات کے اطلاق و انطباق کی متقاضی ہیں جس کو ثقافتی مطالعات نے ایک نئی جہت دینے کی کوشش کی ہے۔

    چوں کہ تہذیبی تشخص کے اس جائزے میں فہرست سازی یا نام شماری سے گریز کیا گیا ہے بلکہ طریق مطالعہ کے نمونے یا علامات کے طور پر بعض نمائندہ شاعروں اور ان کی نظموں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس لیے کسی مخصوص نام یاکسی مخصوص نظم کی تلاش یا مطالبہ اس ضمن میں حق بجانب نہیں ہوگا ۔

     اخیر میں دو ایسے شاعروں کے حوالے سے تہذیبی شخص کے مسئلے کو دیہی کلچر  اور دیسی پن کے سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے جو ہندوستانی ثقافت کا اصل اور غیر ملوث روپ پیش کرنے میں مصروف ہیں ، ندا فاضلی کی نظموں میں جس طرح معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی انسلاکات ابتدا سے ہی دخیل رہے ہیں ، ان کے باعث ان کی نظمیں ہندوستانی کلچر کی خالص اور غیر مصنوعی سادگی اور معصومیت پر مبنی کردار بناتی ہیں ۔ ان کے بلند آہنگ اور قدرے واضح بیانیہ نے انہیں جدید تنقید کے لیے اس حد تک قابل اعتنا نہیں ہونے دیا جس کے وہ مستحق تھے، لیکن چوں کہ تہذیبی مطالعات میں نظم کے اس نوع کے بیانیہ کو بھی اہمیت حاصل ہوئی ہے اور دیسی پن کو بھی ، اس لیے ان کی نظمیں اس نقطۂ نظر سے ایک بار پھرنئی  تفہیم اور نئی تعبیر کی متلاشی معلوم ہوتی ہیں۔

    لہجے اور لفظیات کے اعتبار سے ندا فاضلی سے مماثل اور دیہی کلچر کی مدد سے لفظیات اور استعارات منتخب کرنے کے معاملے میں درجہ منفرد شاعر عنبر بہرائچی کی نظموں کی فضا میں نہایت غیر آلودہ ہندوستانی دیہات کی تصویریں ملتی ہیں۔ ان کی ایک نظم میں دیہی کلچر اپنی خاص شناخت کے ساتھ اس طرح نمودار ہوتا ہے ۔

    ’’ ہوئی صبح کا ذب

     دھند کے بھرے نور زاروں نے شب رنگ فرغل اتا رے

    بہکتی ہواؤں کے شانوں نے خوشبو کے گجرے لٹائے

    وہ پاکیزہ جذبے کو جاں سے لپیٹے ہوئے باو ضواک چٹائی پہ اللہ کے سامنے

     سر سجدہ ہوئی

     ادھر صبح صادق نے اُجلے پہاڑوں پر سونا لٹایا

    اٹھی دودھ دہ کر مسرت کی پیکر

    انڈیلا کنول رنگ مٹکی میں وہ دودھ شائستگی سے

     جو کنڈے جلا کر وہ مٹکی دہکتے الاؤ پہ رکھی

     توسوندھی مہک اڑ چلی دور تک ، زندگی تھر تھرائی

     جگالی میں مصروف بھینسوں کو کھولا

     انہیں ایک چرواہے کے ہاتھ سونپا

    کیا غسل، ٹوٹی چٹانی پہ آکر تلاوت میں گم ہے

    ہزاروں مسائل ہیں، لیکن رضا کی رو پہلی قبامیں بہت مطمئن ہے

    اس نظم میں شعری کردار کی تخلیق ہی ان معنوں میں غیر مولی اہمیت اختیار کرلیتی ہے کہ اردو شاعری کی اشرافیہ فضا اور شہری مزاج نے عموماً   دیہی کلچر یاعوامی سواد اعظم کی پہچان کرنے والے کرداروں سے ہمیشہ ایک فاصلہ قائم کر رکھا تھا۔عنبر بہرائچی نے موضوع کی مناسبت سے جس طرح لفظیات کا حصار قائم کیاہے اس میں ہندوستانی شناخت کے وہ مخصوص نشانات ایک دوسرے سے مربوط اور مجتمع ہو گئے ہیں جن سے ہمارے تشخص کی ایک فضا تیار ہوتی ہے ۔یہ وہ انفرادیت ہے جو عنبر کو صرف ان کے معاصرین میں نہیں بلکہ اردو شاعری کی عام مرصع فضامیں ا یک نماندہ اور ممتاز نظم گو بنادیتی ہے۔ اوران کی نظموں کے بیانیہ کی قوت اور اس سے ابھرنے والے پیکر انہیں فنی اعتبار سے بھی دوسروں سے ممیز کرتے ہیں۔

     گذشتہ دو دہائیوں میں نئی صارفیت کے بڑھتے ہوئے زور اور ذرائع ابلاغ اور ماس میڈیا کی مقبولیت نے جس طرح ہمارے تہذیبی تشخص کے لیے طرح طرح کے چیلنج پیدا کر دیے ہیں وہ بہر حال رد عمل کے طور پر مقامیت اور ثقافتی شناخت پر اصر ارکے لیے ایک طرح کی نئی بیداری پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی مزاج کے مقابلے میں مقامی ثقافت اور اعلیٰ ادب کے مغربی تصور کے مقابلے میں ایک طرح کی مقامی اور عوامی شعریات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی ہے۔ جس میں ماضی کی بھگتی شاعری، صوفیانہ شعری روایت اور ان سب کے حوالے سے ہمارے حافظے کی بازیافت بھی ہمارے تہذیبی تشخص کی کلید بن گئی ہے۔

    ( ۱۹۹۹ ء)