فراق کی غزل کے امتیازات تعين قدر كا مسئلہ
فراق کی غزل کے امتیازات
تعين قدر كا مسئلہ
ابوالکلام قاسمی
فراق گورکھپوری کے شاعرانہ امتیازات کی نشاندہی کی ذمہ داری قبول کرنا در اصل ان تنقیدی تصورات اور تجزیوں کو زیر بحث لانے کے مترادف ہے جن کا اظہار اب تک فراق کی شاعری کے حوالے سے کیا گیا ہے ۔ فراق کی شاعری پر تنقیدی تحریروں کا سلسلہ خود فراق کی اپنی تحریر سے شروع ہوا تھا، لیکن نیاز فتح پوری، کلیم الدین احمد اور محمد حسن عسکری کے مضامین نے فراق کی شاعری کا اسطور قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نیاز فتح پوری نے یوں تو بعد میں فراق کی لسانی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی تھی مگر ان کا پہلا مضمون فراق تنقید میں اتنا موثر در کارگر ثابت ہوا کہ بعد کے اعتراضات پر زیادہ توجہ نہ صرف کی گئی۔ کلیم الدین احمد نے فراق کی بعض کمزوریوں کی نشاندہی ضرور کی لیکن مجموعی طور پر ان کے یہاں فراق کی شاعرانہ بڑائی کو تسلیم کرنے کا رویہ ملتا ہے جہاں تک محمد عسکری کا سوال ہے، تو انہوں نے فراق کی تنقید اور شاعری پر جب بھی لکھا ، اس طرح لکھا کہ وہ اول و آخر فراق کے مداحوں میں شمار کیے گئے، گو کہ ان کی مداحی کبھی بھی غیرمشروط اور بلا دلیل نہ تھی۔ عابد علی عابد، جگن ناتھ آزاد اور شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنے مضامین میں فراق کی بہت سی کمزوریوں پر اظہار خیال کیا۔ ان میں شمس الرحمٰن فاروقی کا مضمون سب سے زیادہ موثر اور مدلل ثابت ہوا۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے فراق کے سلسلے میں تقریباً ان تمام تعریفی پہلوؤں کو زیر بحث لانے کی کوشش کی جن کا ذکر اب تک کی فراق تنقید میں نمایاں طور پر کیا گیا ہے اسلوب احمد انصاری اور خلیل الرحمٰن اعظمی نے فراق کی شاعری کے ضمن میں جو نکات اُٹھا نے ان کو فراق کی تحسین کے خانے میں رکھا جانا چاہیے اس لیے ان مضامین کو فراق کے محاسن و معائب کے موازنہ یا تقابل کا نام نہیں دیا جاسکتا .....اس لیے کثرت تعبیر کے اس ہجوم میں ایک ایک مثبت یا منفی پہلو کا ذکر کر کے اس پر بحث کرنا پوری ایک کتاب لکھنے کا متقاضی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس کا حق کسی مختصر مضمون سے ادا نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم تذکرہ تنقیدی نگارشات سے اُٹھنے والے بنیادی مسائل سے صرف نظر کرنا اب فراق پر لکھی جانے والی تنقید کے لیے نہ مناسب ہے اور نہ ممکن .....البتہ فراق کی شاعری، تفہیم و تعبیر کی کثرت اور محاسن و معائب کی نشاندہی کی شدت کے باعث ،تنقید کے لیے نئے سرے سے ایک چیلنج بن کر یقیناً ابھری ہے۔ اس پس منظر میں چند اہم نکات جیسے اردو غزل کی روایت سے فراق کا رشتہ ، فراق کی قائم کردہ اپنی وہ روایت جس سے بعد کے شعراء نے کسبِ فیض کیا ۔ فراق کی شاعری میں معنی آفرینی کی صفت اور اس کی حلاوت ، فراق کے ایسے اشعار جو اپنی مخصوص کیفیت کی وجہ سے بعض معائب کا احساس نہیں ہونے دیتے یا فراق کے لفظی حشو و زوائد یا عجز نظم، جیسے اہم مسائل سے الجھے بغیرفراق کے شعری امتیازات پرگفتگو کرنا کوئی آسان عمل نہیں رہ گیا ہے۔
مناسب یہ ہوگا کہ پہلے اس سوال سے بحث کی جائے کہ اردو شاعری کی روایت سے فراق صاحب نے کس نوع کا استفادہ کیا ؟ اور سب سے اخیر میں یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ ١٩٥٠ ء کے بعد ابھرنے والے بہت سے ممتاز شاعروں کے یہاں فراق کی گونج کیوں کر سنائی دیتی ہے ، یا دوسروں لفظوں میں یہ بات کہ کیا فراق کی خود اپنی قائم کردہ بھی کوئی روایت ہے یا نہیں جس کا اثر واضح طور پر بعد کے شاعروں میں تلاش کیا جا سکتا ہے ؟ .....جہاں تک اردو کی شعری روایت سے فراق کے کسبِ فیض کا سوال ہے ، تو اس ضمن میں شمس الرحمٰن فاروقی کا خیال ہے کہ ’’غزل کی روایت سے فراق صاحب کی آگاہی نہایت قلیل تھی‘‘ اور اپنی بات کے استدلال کے طور پر انہوں نے مختصراً اردو غزل کی روایت کے خدو خال متعین کرنے کی کوشش کی ہے اور پھر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر فراق نے غزل کی روایت سے خاطر خواہ استفادہ کیا ہوتا تو ان کے الفاظ میں عدم مناسبت نہ ہوتی یا الفاظ کے تاثر سے ناواقفیت ان کے حصہ میں نہ آتی۔ اس سلسلے میں فاروقی صاحب نے اپنے ایک پرانے بیان پر بھی نظر ثانی کی ہے جس میں انہوں نے فراق کو لفظی توازن کی روایت کا شاعر قرار دیا تھا..... اس میں کسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں کہ ہماری کلاسیکی غزل میں لفظی توازن ، مناسبات لفظی یا لفظی رعایتوں کا ایسا غیر معمولی اہتمام نظر آتا ہے جس کے سبب بیش تر اہم اور ممتاز شاعروں کے کلام میں لفظیات اور کبھی کبھی تلازمات کا باہمی ربط ، ڈکشن کا پورا نظام سا تیار کر دیتا ہے۔ اور یہ بات بھی بہت غلط نہیں کہ بیسویں صدی کے غزل گو شعراء میں ایسے شاعروں کی تعداد گنتی کی ہے جن کے کلام میں الفاظ اور ان کے تلازمات کے باہمی ربط کا پورا سسٹم ملتا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لفظی توازن اس صدی میں اگر مستحسن سمجھے جانے کے باوجود نئی شعری روایت کا حصہ نہ بن سکا۔ خصوصیت کے ساتھ یگانہ اور فراق کی شاعری میں اس نوع کی کسی شعوری یا غیر شعوری کوشش کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں مثال تو حسرت موہانی اور جگر کی بھی دی جا سکتی تھی مگر یگانہ اور فراق کو خصوصیت کے ساتھ اس لیے قابل ذکر سمجھا گیا کہ ان دو شاعروں نے پرانے اور روایتی طرز احساس سے انحراف کرنے کے سبب اس روایتی رویے کو اپنائے رکھنا زیادہ ضروری تصور نہ کیا ۔ تاہم یگانہ کے مقابلے میں فراق کی غزلوں میں اس رویے کی جزوی نشاندہی ضرور کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ نشاندہی بھی اس شرط کے ساتھ ہے کہ یہ رویہ فراق کا غالب اسلوب یا بنیادی رویہ بنانے میں کوئی اہم رول ادا نہیں کرتا ۔
سکوت را زوہی ہے جو داستاں بن جائے
نگاہِ ناز وہی جو نکالے بات میں بات
کس طرح اے بحر خوبی چھوڑ سکتا ہوں تجھے
طائر کشتی بھی اڑ اڑ کر سوئے کشتی ہی آئے
ہوش میں رہیے تو خود ہوش ہی زنداں ہو جائے
اور وحشت ہو تو وحشت ہی بیاباں ہو جائے
خیال گیسوئے جاناں کی وسعتیں مت پوچھ
کہ جیسے پھیلتا جاتا ہو شام کا سایا
دل دکھے روئے ہیں شاید اس جگہ اے کوئے دوست
خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا
اس بزم بے خودی میں وجود و عدم کہاں
چلتی نہیں ہے سانس حیات و ممات کی
ان اشعار میں لفظی توازن کی وہ شدت تو نہیں ملتی جو اردو کی کلاسیکی غزل میں رعایت لفظی کو استعارے کی سطح تک پہنچانے کی ضامن ہوا کرتی تھی، لیکن ہر شعر کے دونوں مصرعے مفہوم اور لفظی مناسبت کے اعتبار سے باہم مربوط ہیں۔ ہرشعر کے کلیدی لفظ یا الفاظ سے دوسرے الفاظ کا کوئی نہ کوئی رشتہ ضرور تلاش کیا جاسکتا ہے اور غیر شعوری طور پر ہی سہی مگر لفظوں کی باہمی مناسبت میں روایت کا عکس خاصا واضح ہے۔ مزید برآں یہ کہ اگر آپ ذرا زاویۂ نظر تبدیل کرکے ان شعروں کو پڑھیں تو اندازہ ہوگا کہ امیج سازی اور پیکر تراشی کی صفت اس پرمستزاد ہے اس لیے اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ فراق صاحب نے اپنے شعروں میں لفظی توازن کی روایت کو شعوری طور پر برتنے کی کوشش برائے نام ہی کی ہے جب بھی ایسے پیکروں کی تخلیق بہر حال ان کی شعری حسن کاری کا حصہ ہے جن کی نوعیت محض رسمی یا روایتی نہیں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ان میں سے بعض اشعار میں پرا نے مضامین بیان کئے گئے ہیں۔ مگر پرانے مضامین کے بیان کے لیے امیج سازی کے ذریعے کسی نئی جہت کا اضافہ کر دینا بھی فراق کے حق میں جاتا ہے۔ اس نوع کے شعروں پر اسلوب احمد انصاری کی رائے بالکل درست معلوم ہوتی ہے کہ ’’ فراق کی تشبیہیں روایت سے کم اور ذاتی مشاہدے سے زیادہ قریب ہیں ۔‘‘ یہ بڑی حدتک تشبیہات کا اور کسی قدر استعارے کا عمل ہے کہ خیال گیسوئے جاناں کی وسعتوں میں شام کے سایے کے پھیلنے، آنسوؤں کی بدولت خاک یا ذرے کے چمکنے اور بزمِ بے خودی میں حیات و ممات تک کی سانس نہ چلنے کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
لفظوں کی مدد سے حسی امیج بنانے کی بات چل نکلی ہے تو آئیے فراق کے بعض اور ایسے شعر بھی دیکھیں جو اپنے اس مخصوص امتیاز کی وجہ سے قابل توجہ ہیں اور جن کی تحسین کے لیے صرف روایتی سیاق و سباق کو واحد وسیلہ قرار دینا بہت مناسب نہیں معلوم ہوتی۔
سفید پھول زمیں پر برس پڑیں
جیسے فضا میں کیفِ سحر ہے جدھر کو دیکھتے ہیں
کیا ہے سیر گہہ زندگی میں رخ جس سمت
ترے خیال سے ٹکرا کے رہ گیا ہوں میں
آگئی بادِ بہاری کی لچک رفتار میں
موجِ دریا کا تبسم بس گیا رخسار میں
تو ایک تھا مرے اشعار میں ہزار ہوا
اس اک چراغ سے کتنے چراغ جل اُٹھے
ایک آئے گی نظر اصلیت غیب و شہود
دونوں عالم ترے دیدار میں یکساں ہوں گے
اکا دکا صدائے زنجیر
زنداں میں رات ہو گئی ہے
یہ زندگی کے کڑے کوس یاد آتا ہے
تیری نگاہ کرم کا گھنا گھنا سایا
فضا تبسم صبحِ بہار تھی لیکن
پہنچ کے منزلِ جاناں پہ آنکھ بھر آئی
ان اشعار میں جس طرح کے حسی پیکر اُبھرتے ہیں ان میں بصارت کا عمل دخل نمایاں ہے۔ اس لیے اگر فراق کے شعری تجربے کو ان کے مشاہدے سے ہم آہنگ کر کے دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر فراق کے مشاہدے کی شدت نے ان کی امیج سازی میں بنیادی رول ادا کیا ہے سحر کی کیفیت کو سفید پھولوں کی شکل میں دیکھنا اور دکھانا، باد بہاری کی لچک اور موجِ دریا کے تبسم جیسے تجریدی تصورات کو رفتا را ور رخسار پر مذکور اور مجسم انداز میں دیکھ لینا، یا سیرگہہ زندگی میں محبوب کے خیال سے ٹکرا کے رہ جانا، متحرک پیکر تراشی کے عمدہ ترین نمونے ہیں۔ اسی طرح محبوب کے تصور سے اس کی مختلف شعری شبیہیں اس طرح بنا نا کہ ایک چراغ سے ان گنت چراغوں کے جلائے جانے کا سماں بندھ جائے، یا محبوب کے دیدار کے عالم میں غیب شہود کی ساری منزلیں طے کر لینا یا سماعت کے حوالے سے زنداں کی رات کو اکا دکا صدائے زنجیر ے محسوس کر لینا یا پھر زندگی کے کڑے کوس میں کسی کی نگاہِ کرم کے گھنے سایے کا احساس اُجاگر کر لینا، فراق کے تخلیق کردہ پیکروں میں سے صرف چند ایسے سامنے کے پیکر ہیں جن میں فراق کی اپنی انفرادیت کا رنگ پوری طرح نمایاں ہے۔ ان اشعار کے ضمن میں شاید اس وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں کہ حسی طور پر قاری کو اپنے ساتھ شریک کرنے والے ان پیکروں میں شاعر کی تشبیہوں کے ساتھ استعاروں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر رسمی تشبیہات اور استعارات پر مبنی امیج سازی کو اگر فراق کی شاعرانہ حسن کاری کا زاویۂ نظر بنا کر نئے سرے سے دیکھا جائے تو ہو سکتا ہے کہ یہ فراق کے مطالعے کا کوئی ایسا تناظر فراہم کر دے جس سے فراق کی شاعری کے تعین قدر کا ایک ایسا وسیلہ ہاتھ آجائے جس کو بہت کم بروئے کار لایا گیا ہے۔
نیاز فتح پوری نے فراق کے شعروں میں معنی آفرینی اور کیفیت کو ایک ساتھ سراہا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست معلوم ہوتی ہے کہ شاعری کی یہ دونوں صفات ایک ساتھ مشکل سے ہی جمع ہوتی ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ فراق کے یہاں معنی آفرینی کا انداز پا یا ہی نہیں جاتا۔ یہ الگ بات ہے کہ فراق کے جن اشعار میں معنی آفرینی کا انداز ملتا ہے ان کو کیفیت کے اشعار کا نام دنیا مناسب نہیں ۔ اس کی وجہ بادی النظر میں اس کے علاؤہ اور کچھ نہیں کہ ہمارے اساتذہ سے لے کر ماضی قریب تک کے شعراء کے ان اشعار کو عموماً کیفیت کی صفت سے متصف قرار دے دیا جاتا ہے جن کا تعلق معروف شاعرانہ تدبیروں سے نہیں ہوتا۔ کیفیت کی اصطلاح ہماری تنقید میں آج تک قدرے مبہم اور نا قابل تشریح ہے۔ البتہ اتنی بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ غزل کی روایت میں ایسے ان گنت شعر ملتے ہیں جن کی تنقیدی تو جیہیں کرنا آسان نہیں معلوم ہوتا۔ پھر بھی وہ اشعار اپنی تاثر آفرینی اور جمالیاتی خط کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہوتے ہیں بعض تنقید نگاروں نے اپنی سہل پسندی کی خاطر اس قسم کے اشعار کو تغزل کا نمونہ بتایا ہے اور اس طرح وہ کیفیت سے بھی زیادہ مبہم بلکہ گمراہ کن اصطلاح کے استعمال کے مرتکب ہوئے ہیں لیکن دوسری کسی اور اصطلاح کی غیر موجودگی میں کیفیت کی اصطلاح زیادہ موزوں اور جامع معلوم ہوتی ہے ۔ فراق کے سلسلے میں ان کے سخت ناقدین بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بہت سے اشعار کو کیفیت کی صفت کا حامل بلاشبہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن نیاز صاحب کی یہ بات بہت غلط نہیں کہ فراق کے یہاں معنی آفرینی بھی ملتی ہے اور کیفیت بھی۔ یہ الگ بات ہے کہ جن اشعار میں معنی آفرینی کا انداز ملتا ہے ان کو کیفیت کے اشعار کہنا زیادہ مناسب نہیں۔ اوران کے جو اشعار کیفیت کی نمائندگی کرتے ہیں وہ معنی آفرینی سے الگ اپنی صفت کے تعین کی دعوت دیتے ہیں۔ معنی آفرینی اردو شعریات کی ایک ایسی صفت ہے جس کی نشاندہی تذکروں کی تنقید میں کثرت سے کی گئی ہے۔ عاشق اور محبوب کے رشتے کی نت نئی جہتیں عشق کے تجربے سے کم اخذ کی گئی ہیں اور معنی آفرینی کی صلاحیت سے زیادہ نمایاں کی گئی ہیں۔ فراق کی غزلوں میں معنی آفرینی کی صفت بہت نمایاں تو نہیں لیکن گاہے گاہے ایسے اشعار ضرور ملتے ہیں جن کو معنی آفرینی کے خانے میں رکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر صرف یہ تین شعر دیکھئے جن میں معنی آفرینی نمایاں ہے :
کچھ آدمی کو ہیں مجبوریاں بھی دنیا میں
ارے وہ درد محبت سہی تو کیا مرجائیں
ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی
اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے
بعض نقادوں نے معنی آفرینی کے عمل کے لیے حسن تعلیل کی صفت کو زیادہ سازگار بتایا ہے۔ فراق کے شعروں میں حسن تعلیل کا انداز نہ ہونے کے برابر ہے، البتہ ان اشعار میں معنی کا کوئی نہ کوئی نیا پہلو نکالنے کی کوشش کو ضرور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ تاہم فراق کی غزلوں میں تناسب کے اعتبار سے معنی آفرینی کی مثالیں خاصی کم ملتی ہیں ۔ جب کہ اس کے برخلاف کیفیت کے اشعار کی فراوانی ہے۔ نمونے کے طور پر ان کی بہت سی مثالوں میں سے چند کو خصوصیت کے ساتھ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔
مدتیں گزریں تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
تیرہ بختی نہیں جاتی دل ِسوزاں کی فراق
شمع کے سر پہ وہی آج دھواں ہے کہ جو تھا
مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلوؤں کی
چراغ دیر وحرم جھلملائے ہیں کیا کیا
ہم سے کیا ہو سکا محبت میں
خیر تم نے تو بے وفائی کی
غرض کہ کاٹ دیئے زندگی کے دن اے دوست
وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں
فراق کی دوسری تمام شاعرانہ صفات کے مقابلے میں ان کی کیفیت کے اشعار نے ان کو غیر معمولی مقبولیت بخشی۔ اور شاید یہ بات بھی زیادہ غلط نہیں کہ ان کے بعض لفظی حشو و زوائد اور زبان یا وزن کی ناہمواری وغیرہ کی طرف کیفیت کے غلبے نے قاری کے ذہن کو بالعموم متوجہ ہونے نہیں دیا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ فراق کے شعری امتیازات ، ان کے جزوی نقائص اور بھرتی کے اشعار کے باوجود اہمیت رکھتے ہیں۔ فراق کی غزل میں ان کی انفرادیت اتنی غالب ہے کہ وہ اپنے آپ میں فراق کے اپنے مخصوص اسلوب کا تعین کر دیتی ہے۔ محمد حسن عسکری نے فراق کے کلام میں عاشق کی انفرادیت پر بڑا زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہاں عاشق کا کر دار غزل کے روایتی کردار سے بڑی حدتک مختلف ہے۔ اس کی اپنی الگ ایک شخصیت ہے اور یہ شخصیت محبوب کو بھی ایک شخصیت ہی کے طور پرقبول کرتی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’فراق کے عاشق اور معشوق کے پاس جسم تو خیر ہے ہی۔ لیکن دماغ بھی ہے اور بڑے مصروف قسم کا ، اور جسے عشق کے علاؤہ اور بھی مصروفیتیں ہیں اس لیے ان دونوں کے تعلقات میں اور پیچیدگیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہاں دو جسم ہی ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں ہیں بلکہ دو دماغ بھی گتھے ہوئے ہیں ہیں۔ انہیں دو دماغوں کے داؤ پیچ سے فراق کی شاعری تشکیل پاتی ہے۔‘‘
فراق کی شاعری میں عاشق کا کردار اس روایتی عاشق سے خاصا مختلف ہے جس کو غزل میں ایک ٹائپ کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ ان کی غزل میں عاشق کبھی ایک کردار کے طور پر او ر اکثر واحد نظم کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ۔ عاشق کے کردار کے اس غیر رسوماتی ہونے کے باعث مختلف نقادوں نے اسے بدلی ہوئی عشقیہ کیفیات کا نام دیا ہے۔ فراق کا عاشق وصل کو بھی تنہائی بلکہ انفرادیت کے اظہار کی ایک صورت قرار دیتا ہے ، جب وہ کہتے ہیں کہ :
کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں
تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وصال و ہجر کے روایتی تجربے کے برخلاف عاشق کا یہ احساس اس کی شخصیت کا اظہار ہے ۔ فراق نے اس احساس کو
ہر نظارے میں ہر حقیقت میں
نظر آتا ہے کچھ تضاد مجھے
کہہ کر اس طرح ظاہر کیا ہے کہ متکلم کا زاویۂ نظر ہمارے سامنے واضح ہو کر آجاتا ہے۔ اس کردار کا اظہار چند اور اشعار میں بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔
دل دُکھ کے رہ گیا یہ الگ بات ہے مگر
ہم بھی ترے خیال سے مسرور ہو گئے
ارے خود اپنا فریب نگاہ کیا کم ہے
یہ کیا ضرور کہ اس کی نظر کے دھو کے کھاؤ
مدتیں گزریں تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
اس پرسش کرم پہ تو آنسو نکل پڑے
کیا تو وہی خلوص سراپا ہے آج بھی
ترے پہلو میں کیوں ہوتا ہے محسوس
کہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں
ان تمام شعروں میں عاشق کے مختلف اور منفرد کر دار پر اصرار نہ صرف عاشق کو ٹائپ عاشق بننے سے آزاد رکھتا ہے بلکہ عاشق کا کردار محض مجہول ، غیر شخصی اور تابع مہمل بننے سے بھی انکار کرتا ہے۔ بیدل کا مشہور زمانہ یہ شعر، جو کہ اپنی تازگی اور تجربہ کی پیچیدگی اور ہمہ گیری کے سبب آج بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے ۔
ہمہ عمر با تو قدح زدیم و نہ رفت رنج خمارما
چہ قیامتے کہ نمی رسی رکنار ما بہ کنار ما
میں سارا زور بحیثیت مجموعی عشق کے احساس کی نارسانی پر ہے ، جب کہ :
ترے پہلو میں کیوں ہوتا ہے محسوس
کہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں
میں کلیدی حیثیت واحد متکلم یا عاشق کو حاصل ہے ۔ اور شاید یہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں کہ فراق کے اسی نوع کے بعض شعروں نے خلیل الرحمٰن اور ان کے بعض معاصرین کے اس طرح کےاشعار کی راہ ہموار کی کہ ۔
ایسی راتیں بھی ہم پر گزری ہیں
تیرے پہلو میں تیری یاد آئی
محسن عسکری نے فراق کے عاشق کے کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس کے محبوب کی انفرادیت اور آزاد وجود کو بھی روایتی محبوب سے الگ قرار دیا ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ غزل کے محبوب کی انفعالیت اور طے شدہ صفات نے اسے محض ایک معروض کی حیثیت دے رکھی تھی ۔ فراق نے اس کو ایک شخصیت اور ایک باشعور ذات کے طور پر قبول کیا ہے۔جب وہ یہ کہتے ہیں کہ :
تیرے جمال کی تنہائیوں کا دھیان نہ تھا
میں سوچتا تھا مرا غم گسار کوئی نہیں
توگویا محبوب کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس ضمن میں بعض دوسرےاشعار بھی ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
یہ سر سے تا بہ قدم محویت کا عالم ہے
کہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے جیسے بدن
جیسے سکون تھر تھرائے، جیسے سکوت کچھ سنائے
جیسے سگندھ مسکرائے، حسن کی طرفگی تو دیکھ
عشق میں سچ ہی کا رونا ہے
جھوٹے نہیں تم، جھوٹے نہیں ہم
حُسن سر تا پا تمنا ، عشق سر تا پا غرور
اس کا اندازہ نیاز و نازہ سے ہوتا نہیں
مائل بے داد وہ کب تھا فراق
تو نے اس کو غور سے دیکھا نہیں
دیکھ پھر حسن کے محاسن کو
حسن کی پہلے ہر برائی دیکھ
آخری شعر کو پڑھ کر بے ساختہ میر کا شعر
وفائیں دیکھ لیاں، کج ادا ئیاں دیکھیں
بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں
یاد آتا ہے اور فراق کے شعر میں بلاشبہ میر کے شعر کی بازگشت بھی موجود ہے ، مگر میر کے شعر میں محبوب کو ساری خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کرنے پر اصرار ہے جب کہ فراق محبوب کے منفرد اور آزاد وجود کی اہمیت کو واضح کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لیے اس نوع کی مثالوں کی موجودگی میں عسکری کی یہ رائے قابل وثوق معلوم ہونے لگتی ہے جس کا اظہار انہوں نےاپنے متذکرہ مضمون کے اختتام پر کیا ہے :
’’فراق نے محبوب کو ایسی معروضی حیثیت دے دی ہے جو اردو شاعری میں اسے حاصل نہیں تھی ..... انہوں نے محبوب کو عاشق کی ہستی سے الگ کر کے بھی دیکھا ہے۔ ان کا محبوب ایک کردار ہے اور اس کردار کی نفسیات بھی سیدھی سادی نہیں ہے ۔ ایسی ہی پیچ در پیچ ہے جیسے عاشق کی نفسیات‘‘
عاشق او ر محبوب کے کردار کی انفرادیت کے ساتھ ہی عشق کے تجربے میں بعض ایسی کیفیات کو اپنی گرفت میں لینے کا معاملہ بھی وابستہ ہے جو روایتی غزل پر اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ عشق کے تجربے کے غیر رسمی ارتعاشات کو لفظوں کی گرفت میں لے آنے کو بعض نقادوں نے فراق کی ایسی انفرادیت کا نام دیا ہے جس میں برائے نام ہی ان کا کوئی شریک نظر آتا ہے۔ بعض نے اس خوبی کو طرزِ احساس کی تبدیلی کہا ہے اور بعض نے فراق کے عاشق کے کردار کی تشکیل کا اسے ایک اہم عنصر ثابت کیا ہے ۔ فراق صاحب عشق کے تجربے کو جب کبھی کوئی حتی نام نہیں دیتے یا کسی غیر یقینی کیفیت سے تعبیر کرتے ہیں یا انہیں خوشی اور غم ، اندھیرے اور اجالے اور خیر اور شر کی سرحدیں ملتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں تو وہ دراصل اسی طرح تجربے کے انتہائی منفرد پہلوسے دو چار دکھائی دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے یہ چند اشعار توجہ طلب ہیں :
قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکن
آج وہ ربط کا احساس کہاں ہے کہ جو تھا
کہاں وہ خلوتیں دن رات کی اور اب یہ عالم ہے
کہ جب ملتے ہیں دل کہتا ہے کوئی تیسرا بھی ہو
اوروں کی بھی یاد آرہی ہے
میں کچھ تجھے بھول سا گیا ہوں
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں
کچھ گتھیوں کو میں نے سلجھنا سکھا دیا
کچھ گتھیوں کو اور بھی اُلجھا گیا ہوں میں
ظلمت و نور میں کچھ بھی نہ محبت کو ملا
آج تک ایک دھند لکے کا سماں ہے کہ جو تھا
ان اشعار میں تجربے کی جن کیفیتوں کو بیان کیا گیا ہے ان کا اقداری فیصلہ یہاں مقصود نہیں، اہمیت اس بات کی ہے کہ بیسویں صدی کے معاشرے نے احساس کے جن نئے گوشوں کا اضافہ کیا ہے ان کی جھلک ان شعروں میں ضرور دیکھی جاسکتی ہے۔ اگر آپ ان شعروں میں فراق کے لہجے کا تعین کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بالعموم اپنا لہجہ استفہامیہ رکھتے ہیں اور یہ استفہام بھی خود کلامی کا انداز لیے ہوئے ہے ۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ عشق کے تجربے کی غیر قطعیت کو خود کلامی کے انداز نے اور بھی زیادہ نمایاں کر دیا ہے ۔ ربط کے احساس میں اشتباہ کا پیدا ہونا، کشیدہ تعلقات میں گریز حاصل کرنے کی خاطر کسی تیسرے آدمی کی ضرورت محسوس کرنا ، اوروں کی یاد سے محبوب کے بھولنے کا احساس کرنا ، دیکھنے اور بات کرنے کے مابین فرق کر کے معروض سے رابطے کا نیا گوشتہ پیدا کر لینا، بات کا بنتے بنتے بگڑ جانے کی ذمہ داری خود قبول کر لینا ، اور امید اور مایوسی یا ظلمت اور نور میں سے کسی ایک کو اپنا مقدر قرار نہ دینے کا اعتراف کرنا جیسے رویے طرزِ احساس کی تبدیلی کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں۔ طرز احساس کی اس تبدیلی کو مزید مستحکم کرنے میں رائے زنی سے زیادہ خود احتسابی یا خود کلامی کے لہجے نے بنیادی کر دار ادا کیا ہے۔ ان اشعار کے ساتھ اگر بعض اور ایسے اشعار ملاحظہ کیے جائیں جنہوں نے بعد کے بدلے ہوئے طرز احساس پر مبنی شعروں اور ان کے شاعروں کے لیے راہیں ہموار کیں تو ناصر کاظمی اور ان کے بعض دوسرے معاصرین پر فراق کے اثرات کی نوعیت بھی واضح ہو جاتی ہے
اسی عالم کے کچھ نقش و نگارا شعار ہیں میرے
جو پیدا ہو رہا ہے حق و باطل کے تصادم سے
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
یہ حسن و عشق کا دھوکا ہے سب مگر پھر بھی
ایک وہ ملنا ایک یہ ملنا
کیا تو مجھ کو چھوڑ رہا ہے
ترا فراق تو اس دن ترا فراق ہوا
جب ان سے پیار کیا جن سے کوئی پیار نہ تھا
ہزار شکر کہ مایوس کر دیا تو نے
یہ اور بات کہ تجھ سے بڑی امیدیں تھیں
اے دل بے قرار دیکھ وقت کی کارسازیاں
عشق کو صبر آگیا صبر کیے بغیر بھی
ان اشعار کے پس منظر میں اگر آزادی کے بعد ابھرنے والے بعض نمائندہ شاعروں کے یہ شعر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ عشق کے تجربے کے نئے گوشے اور عاشق اور محبوب کے مابین تعلقات کے بالکل نئے پہلو فراق کے ہی زیر اثر ایک خاص رحجان کی شکل اختیار کر گئے تھے ۔
ایسی راتیں بھی ہم پہ گزری ہیں
تیرے پہلو میں تیری یاد آئی
خلیل الرحمٰن اعظمی
یوں جی بہل گیا ہے تیری یاد سے مگر
تیرا خیال تیرے برابر نہ ہو سکا
خلیل الرحمٰن اعظمی
تو کون ہے تیرا نام ہے کیا
کیا سچ ہے کہ تیرے ہو گئے ہم
ناصر کاظمی
یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر
جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو
ناصر کاظمی
سایے کو سایے میں گم ہوتے تو دیکھا ہوگا
یہ بھی دیکھو کہ تمہیں ہم نے بھلایا کیسے
سلیم احمد
وہ مری روح کی الجھن کا سبب جانتا ہے
جسم کی پیاس بجھانے پہ بھی راضی نکلا
ساقی فاروقی
نہ جس کا نام ہے کوئی نہ جس کی شکل ہے کوئی
اک ایسی شے کا کیوں ہمیں ازل سے انتظار ہے
شہریار
ظاہر ہے کہ عشق کے تجربے کی ایسی کیفیتوں کو گرفت میں لینے کی مثالیں فراق صاحب کے متقدمین میں برائے نام ہی ملتی ہیں، لیکن ان کے نسبتاً کم عمر معاصرین اور بعد کے شاعروں نے ایسے ایک رحجان میں تبدیل کر دیا۔ یہ بات بجائے خود فراق کو ایک موثر اور رجحان ساز شاعرقر ار دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ کوئی غلط بات نہیں کہ بعض نسبتاً اوسط درجے کے شاعر اپنی اگلی نسل کے لیے فکر اور فن دونوں کے معاملے میں راہیں ہموار کرتے ہیں ، سو یہ کام فراق کی غزل نے بھی انجام دیا۔ اب رہی یہ بات کہ فراق گورکھپوری کا اسطور اس صدی کی چو تھی اور پانچویں دہائی میں جس طرح قائم ہو گیا تھا اس سے یہ تاثر بھی ابھرا کہ گویا وہ اردو کے عظیم شاعروں میں سے ایک ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت مبالغہ آمیز رائے ہے۔ غزل میں عرصۂ دراز سے عظیم شاعر پیدا ہونے بند ہو گئے۔ اس حقیقت کو ہمیں جی کڑا کر کے تسلیم کر لینا چاہیے۔ ورنہ بار بار وہی صورت حال پیدا ہوگی کہ جب کسی شاعر کو عظیم یا غیرمعمولی قرار دیا جائے گا تو اس کے رد عمل میں اس کی شاعری کا موازنہ میراور غالب سے بھی کیا جائے گا اور نتیجے میں بے اطمینانی اور مایوسی ہاتھ آئے گی۔
فراق صاحب نے خود اپنی تحریروں سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر جس طرح اپنی شاعری کا دفاع کیا اس کے باعث ان کے تعین قدر میں دشواریاں حائل ہوتی رہیں ۔ مثال کے طور پر جب وہ اس قسم کا شعری معیار متعین کرتے ہیں تو دراصل اپنی شاعری کو اس کا مصداق بھی ثابت کرتے ہیں کہ :
’’ تمام گزشتہ صدیاں اور تمام گزشتہ ادوار ِحیات و کائنات کی گونج اور آواز بازگشت نئی سے نئی شاعری میں سنائی دینی چاہیے ۔ اس کے لیے کروڑوں برس پرانی دنیا اور زندگی اور حیات و کائنات کی پوری تاریخ کو آج کی حیات و کائنات سے ملاکہ ایک زندہ اور عالمگیر اکائی بنا دینا شاعری کا منصبی فرض ہے۔ محض جدت اور نیا پن نہایت فرسودہ اور باسی چیزیں ہیں۔‘‘
یہ باتیں بڑی آئیڈیل ہیں اور آئیڈیل اور غیرمعمولی شاعری پر ہی ان کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔ اس آئیڈیل صورت حال کی مثال میں اگر فراق صاحب اپنی شاعری کو پیش کریں تو یہ بات قابل قبول نہ ہوگی۔ البتہ ان کا یہ خیال درست ہے کہ :
’’ میں نے اپنی شاعری میں اسی امر کی کوشش کی ہے کہ اس کا مزاج ، اس کے خط وخال، اس کی روح ہندوستانی رہے ، اور دوسری زبانوں کے ادب و شاعری کے کلچر کا عطر بھی اس میں کھینچ آئے ۔‘‘
فراق صاحب کے اس بیان کا بہترین مصداق تو ان کی رباعیات ہیں لیکن ان کی غزل کی لفظیات اور فضا میں بھی ہندی اور سنسکرت شاعری کے حوالے سے کلچر کا عکس دیکھا جاسکتا ہے ۔ فراق کی غزل کو رس اور دھونی کے نظریات کے سیاق و سباق میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ، اس لیے کہ یہی طریق مطالعہ ان کی شاعری کے ہندوستانی عناصر کو زیادہ نتیجہ خیز اور وثوق انگیز بنا سکتا ہے ۔ جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ ان کی لفظیات کس حد تک ان کی شاعری کے مزاج کو ہندوستانی ثابت کرتی ہے تو اس بات میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ انہوں نے سیاق و سباق سے اپنے لفظوں کا مزاج متعین کرنے اور بعض مشتقات بنانے میں ہندی سے خاصا استفادہ کیا ہے۔ الفاظ کے استعمال سے ہندوستانیت یا ہندو دیومالا کا تاثر قائم کرنے کا عمل متعدد قدیم شعراء کی غزلوں میں بھی ملتا ہے مگر اس سلسلے میں فراق کا امتیاز یہ ہے کہ وہ محض لفظ یا اس کے مشتقات تک ہی خود کو محدود نہیں رکھتے بلکہ وہ کبھی کبھی ایسے حسی پیکر تراشتے ہیں جس کے پہلے حصے سے ایک طرف اسلامی روایت کا پس منظر ابھرتا ہے تو دوسری طرف ہندو دیومالا یا اجتماعی حافظہ پیکر کے کسی دوسری حسی پہلو کو متحرک کر دیتا ہے ۔ ان کا شعر ہے کہ :
سکوت، توڑ کہ قم کی صدا ہے تیری صدا
نظر ا ٹھا کہ ان آنکھوں کا رس ہے سنجیون
اسی طرح ان کی غزلوں میں جگہ جگہ ایسے شعر ملتے ہیں جن کی فضا یا جن کا کوئی نہ کوئی پہلو مقامی سرزمین اور ہندی زبان کی روح سے مربوط اور اس سے کسبِ فیض حاصل کرتا معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح کے بعض شعروں کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے ،لیکن اس مخصوص تناظر میں بھی ان کی اہمیت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔
چپکے چپکے اٹھ رہا ہے مدھ بھرے سینوں میں درد
دھیمے دھیسے چل رہی ہیں عشق کی پروائیاں
یہ سر سے تا بہ قدم محویت کا عالم ہے
کہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہو جیسے بدن
یہ تیرا شعلۂ آواز ہے کہ دیپک راگ
قریب و دور چراغ آج ہو گئے روشن
جیسے سکون تھر تھرائے ،جیسے سکوت کچھ سنائے
جیسے سگندھ مسکرائے جس کی طرفگی تو دیکھ
ان شعروں میں مقامی ہندوستانی فضا کے ساتھ فراق صاحب کے شعری طریق کار کا وہ پہلو بھی ہے جس کو کلیم الدین احمد نے اجتماع ضدین یا محمدحسن عسکری نے زندگی کے تضادات میں ہم آہنگی پیدا کر لینے کا نام دیا ہے۔ سکون میں تھر تھرا ہٹ ہو اور سکوت میں گنگناہٹ یا پھر حسن کی طرفگی کے حوالے سے سگندھ اپنی شامیانی خصوصیت کے ساتھ مسکرانے کا بھی احساس پیدا کرے، ایسی تراکیب ، تضادات اور امیج سے یہ دراصل ایک پیراڈاکس تخلیق کرنے کی کوشش کے علاؤہ اور کچھ نہیں اور بعینہٖ اسی طرح جب فراق صاحب اپنے بعض اشعار میں برق ِتجلی سے دوچار رہنے والوں کو نرم نگاہی کا فریب کھاتے ہوئے دکھاتے ہیں یا جب وہ مدتوں سے کسی کو یاد نہ کرنے کے باوجود اس کو پوری طرح بھلانے سے انکار کرتے ہیں، تو یہ سارے رویے اپنے اندر اجتماع نقیضین کا احساس ضرور دلاتے ہیں۔
فراق صاحب کے فکری اور فنی امتیازات کی اس اجمالی نشاندہی سے اور کچھ ثابت ہوتا ہو یانہ ہو یہ بات ضرور واضح ہوجاتی ہے کہ فراق صاحب عظیم یا بہت عظیم شاعر نہ ہونے کے باوجود ایک اہم اور ر جحان ساز شاعر ضرور ہیں۔ ان کی شاعری کی قدر و قیمت کے تعین میں جس طرح ان کا موازنہ میر تقی میر یا غالب سے کیا گیا ہے وہ اس لیے مناسب نہیں کہ ان دونوں شاعروں نے محض روایت کا احترام ہی نہیں کیا بلکہ روایت سازی میں بھی اہم کر دار ادا کیا تھا۔ فراق کی طرح کا بالکل نئی فضا اور نئے رحجان کی نمائندگی کرنے والا شاعر روایت سے فیض بھی اپنی شرطوں پر حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور یہ کہ فراق کے یہاں روایت سے جو رابطہ ملتا ہے وہ احترام کا رابطہ ہے تقلید کا نہیں..... اپنے اس رویے سے فراق نے متکلم یا عاشق کے کردار میں جونئی جہتیں پیدا کیں ، اپنے نئے احساس سے جس طرح اگلی نسلوں کے لیے راہیں ہموار کیں اور جس انداز میں انہوں نے اسلامی کلچر کے عناصر کے ساتھ ہندوستانی یا مقامی سیاق و سباق کو اُبھارا اور نمایاں کیا ، یہ سب ان کے ایسے امتیازات ہیں جن کی دریافت کے عمل سے غیر جانب دار تنقیدہمیشہ دوچار ہوتی رہے گی۔
( ۱۹۹۶)