کلامِ انیس میں پیکر تراشی کا نظام
کلامِ انیس میں پیکر تراشی کا نظام
ابوالکلام قاسمی
اردو کے مرثیہ نگاروں میں میر انیس کو جو امتیاز حاصل ہے اسے بالعموم ان کی فصاحت و بلاغت کی اصطلاحات میں محدود کر دیا گیا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انیس کے شعری امتیازات، ان تمام فنی تدابیر اور شاعرانہ ہنر مندی میں مضمر ہیں جن کو انہوں نے اپنے شعری اظہار اور لسانی طریق کار کا حصہ بنایا ہے۔ مرثیہ نگاری کا فن چوں کہ ایک مخصوص نوع کے تاریخی واقعات کو نئے سرے سے خلق کرنے اور کر بلا اور سانحۂ کربلا کی پوری فضا کی بازآفرینی سے عبارت ہے، اس لیے مرثیہ کا کوئی مطالعہ اس وقت تک اپنے موضوع اور شعری ہیئت کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا جب تک بعض متعلقہ نکات کو ذہن نشین نہ رکھا جائے۔ اصطلاحی اعتبار سے مرثیہ جن واقعات پر مبنی ہوتا ہے ان کی حیثیت تاریخی اور مذہبی بھی ہے اور نسبتاً طے شدہ بھی اس لیے اس میں نت نئے انداز و اسلوب کے اپنائے جانے کی معنویت بڑی اہمیت حاصل کر لیتی ہے۔ مرثیہ ایک بیا نیہ صنف شاعری توضرور ہے مگر داستانوں یا عام واقعاتی نظموں کے بیا نیہ کی طرح اس میں واقعاتی تبدیلی کی گنجائش برائے نام ہوتی ہے۔ چناں چہ شاعر کو واقعاتِ کر بلا کے طے شدہ دائرہ ٔکار میں رہتے ہوئے بعض ایسی شعری تدابیر سے کام لینا پڑتا ہے جن کے زیر اثر سامع جذباتی اور تاثراتی طور پر کربلا کی فضا، صورت حال اور غم واندوہ کی کیفیت میں خود کو پوری طرح شریک محسوس کر سکے ۔ اگر بات محض بیان کے حُسن ،لفظوں کے محلِ استعمال ، زبان کی روانی اور معانی کی ترسیل کی ہوتی تو مرثیہ کی فنی خصوصیات کو فصاحت اور بلاغت کی عمومی اصطلاحوں میں سمجھ لینا آسان ہو سکتا تھا ۔ لیکن چوں کہ مرثیہ گوئی کا فن ہی کر بلا کے واقعات کونئے سرے سے رونما ہوتے ہوئے دکھانے اور سامع یا قاری کو حسی اور جذباتی اعتبار سے ان میں شریک کرنے سے عبارت ہے اس لیے مرثیے کے لیے ایسی شعری صنعتیں اور فنی تدبیریں زیادہ مستحسن ہیں جن کے ذریعہ بیان کو عمل اور خیال کو احساس میں تبدیل کیا جا سکے ۔ شاید اسی وجہ سے ناصر کاظمی کا خیال تھا کہ انہوں نے تصویر دیکھنے یا لفظی تصویر بنانے کا فن میرانیس سے سیکھا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ :
’’جب میرانیس یہ کہتے ہیں کہ’ نکلے خیمے سے جو لے کر علی اصغر کو حسین ‘ تو مرثیہ شروع ہوتے ہی اس کاسننے والا گویا کر بلا کے میدان میں پہنچ جاتا ہے اور اپنی آنکھوں سے واقعات کو رو بہ عمل ہوتے ہوئے دیکھنے لگتا ہے‘‘.....
یہاں اس وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں کہ مرثیہ گوئی اسی دور میں اپنے نقطۂ عروج پر پہنچی جب مرثیہ خوانی اپنے عروج پر تھی۔ یعنی ایک معنی میں مرثیہ spoken poetry کی ایک ایسی صنف بن کر نمودار ہوا جس کے لیے شاعری کی زبانی روایت یا oral tradition سب سے زیادہ سازگار ثابت ہوئی۔ مرثیہ اور مجلس کا عرصے تک لازم و ملزوم ہونا بھی اس صنف شاعری کے بہ آواز بلند یا زبانی روایت سے تعلق کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ اس لیے بہ آواز بلند پڑھی جانے والی شاعری کے لوازم اور تقاضوں کو سمجھے بغیر مرثیے کے بہترین نمونوں میں استعمال ہونے والی فنی ہنرمندی کی نشاند ہی آسان نہیں۔ شاعری کی زبانی روایت میں عام بیا نیہ شاعری کا سنانے والا بھی لہجے کے اتار پڑھاؤ، آواز کے زیر و بم، چشم و ابرو کے اشارے اور ہاتھ کی جنبش سے اپنے مافی الضمیر کو زیادہ موثر بناتا ہے۔ گویا وہ مناظر اور کیفیات کو بتانے کے انداز سے مرئی اور محسوس شکلوں میں اس طرح تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ سننے والا سامعِ محض کے بجائے اشیاء اور واقعات کو اپنے حو اس کے ذریعہ محسوس کر سکے۔ یہی سبب ہے کہ مرثیہ خوانی کی پوری روایت مرثیہ گوئی کے فن سے ناگزیر طور پر مربوط رہی ہے ۔ اور یہی وابستگی آج کی تحریری روایت (یا Cold Print ) کے عہد میں بھی مرثیہ خوانی کو ایک الگ فن کی حیثیت سے باقی رکھے ہوئے ہے۔
میرانیس کو ذاتی طور پر مرثیہ خوانی کے فن میں جو انفرادیت حاصل تھی اس کے خاصے شواہد موجود ہیں ۔ اس ضمن میں مسعود حسن رضوی ادیب نے انیس کے ایک ہم عصر کا دلچسپ واقعہ یوں تحریر کیا ہے:
’’میں کلام دبیر کا شیدائی تھا۔ انیس کے کمال کا قائل نہ تھا۔ ایک مرتبہ اتفاقاً انیس کی مجلس میں شرکت ہوئی اور میں بے دلی سے ان کو سننے لگا۔لیکن دوسرے ہی بند کی یہ بیت ۔
ساتوں جہنم آتش فرقت میں جلتے ہیں
شعلے تری تلاش میں باہر نکلتے ہیں
انہوں نے اس انداز سے پڑھی کہ مجھے شعلے بھڑکتے ہوئے دکھائی دینے لگے ۔ میں ان کا پڑھنا سننے میں اتنا محو ہوا کہ اپنے تن بدن کا ہوش نہ رہا۔ یہاں تک کہ جب ایک دوسرے شخص نے مجھے ہوشیار کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میں کہاں اور کس عالم میں ہوں .....‘‘ (انیسیات ،ص ۶۴)
اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خود میر انیس کو بلند خوانی کے فن میں کیا امتیاز حاصل تھا۔ مگر یہ امتیاز وہ تھا جس سے ان کے معاصر و معاند دبیر بھی ان کے شریک تھے ، اور ان دونوں کے پیش رو میر ضمیر کو تو مرثیہ خوانی کے ایک نئے طرز کا موجد ہی سمجھا جاتا تھا .....تاہم اگر آپ کلام انیس میں ان عناصر کی تلاش و جستجو کرنا چاہیں جن کے باعث انیس کی بلند خوانی دو آتشہ ہو جایا کرتی تھی ، تو پتہ چلے گا کہ انیس کو محض مرثیہ خوانی سے ہی حسی اور تصویری پیکروں کو جیتا جاگتا بنانے کی ضرورت نہ تھی ۔ ان کے کلام میں لفظوں کے دروبست، احساس کو مہمیز کرنے والے پیکروں کی فراوانی اور واقعات کو لفظوں کے ذریعے رونما ہوتے ہوئے دکھانے کے سارے وسائل بھی موجود تھے۔ اس طرح میر انیس نے دوسرے شاعروں کے برخلاف صرف لہجے اور طرزا داہی سے منظر کشی اور تاثر آفرینی پر اکتفانہ کیا۔بلکہ مرثیہ گوئی کو داخلی طور پر بھی لفظی صورت گری کا آئینہ خانہ بنا دیا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر نیر مسعود نے اپنے ایک مضمون میں انیس کے منظر ناموں کا حوالہ دیتے ہوئے بعض اہم نکات اُٹھائے ہیں:
’’میر انیس کے منظرناموں کی تشکیل موضوع کی ڈرامائی پیش کش، متفرق اجزا کے ترک و اختیارا اور تفصیلات کی فنی ترتیب سے ہوتی ہے۔ جزئیات کے ماہرانہ انتخاب اور الفاظ کے خلاقانہ استعمال سے وہ ایسا مرقع تیار کرتے ہیں کہ جب ان کے کسی مرثیے میں اچانک کوئی منظر نامہ آجاتا ہے تو ہم خود کو سامع یا قاری کے بجائے تماشائی محسوس کرنے لگتے ہیں.....۔‘‘ (میرانیس کے منظر نامے)
لیکن نیر مسعود نے اپنے مضمون میں صرف ان منظر ناموں کی نشان دہی کی ہے جن کا تعلق غیر استعاراتی اور براہ راست شعری بیانیہ سے ہے ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میر انیس کی پیکر تراشی کے حد در جہ فن کارانہ نمونے ان حسی پیکروں میں ملتے ہیں جن کو تہہ دار اور بالواسطہ اسلوب بیان کے ذریعہ استعاراتی اظہار کا نقطہ ٔکمال بنایا گیا ہے ۔ یہ بات اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ امیج سازی اور پیکر تراشی کا عمل بنیادی طور پر اشاراتی یا علامتی زبان کا حصہ ہوا کرتا ہے ۔ اس ضمن میں اگر شعری امیج کے فنی تصور پر بعض نکات کو پیش نظر رکھا جائے تو بات مزید واضح ہو سکتی ہے۔
امیج کے لفظی معنی یوں تو پیکر کے ہوتے ہیں لیکن جب یہ لفظ شاعری کے حوالے سے استعمال ہوتا ہے تو شاعرانہ امیجری کا تصور لفظوں کی مدد سے ایسے پیکر تخلیق کرنا قرار پاتا ہے کہ اس کو سننے یا پڑھنے والا شاعری سے صرف افہام و تفہیم کا تعلق قائم نہیں کرتا بلکہ اس کے حواس میں سے کوئی مخصوص حس متحرک ہونے پر مجبور ہوتی ہے۔ گویا امیجری کی تخلیق کسی واقعہ یا تصور واقعہ کی عملی تصویر بن جاتی ہے مشہور نقاد C. day Lewis نے اپنی معرکہ آرا کتاب The Poetic image میں لکھا ہے کہ :
’’ لفظی تصویریں بنانا امیج سازی کا بنیادی مقصد ہے اور یہ کہ اس وقت پوری نظم ایک مکمل امیج بن جاتی ہے جب اس کے مختلف حصوں میں متنوع پیکروں کی تخلیق ایک ساتھ مل کر مبسوط اور مرکب تشکیل کا روپ اختیار کرلیتی ہے۔‘‘
امیج کا سب سے اہم رول مجرد تصورات کو مجسم اور ٹھوس شکلوں میں تبدیل کرنا ہے۔ اس طرح پیکر تراشی کے ذریعے شاعر ایسی فضا خلق کرتا ہے کہ ہم مناظر کو دیکھنے ، آوازوں کو سننے اور بعض کیفیات کو لمس ، ذائقہ اور شامہ کی مدد سے محسوس کرنے لگتے ہیں۔ نئی امریکی تنقید کے زیراثر شاعرانہ امیجری کو ایسی غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی کہ بعض نقادوں نے تو شاعری کا اعلیٰ ترین منصب امیج سازی سے مخصوص کر دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس بات سے اختلاف کی گنجائش ہوسکتی ہے مگر اس حقیقت کو مختلف دبستانوں کے ما ہر ین شعریات نے یکساں طور پر تسلیم کیا ہے کہ امیج سازی کے عمل میں استعارہ، تشبیہ اورحسنِ تعلیل سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شعری امیجری کے ان تصورات سے اس بات کا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ بالعموم اس نوع کی شاعری میں پیکر تراشی وافر مقدار میں ملتی ہے جس میں لفظی ومعنوی صنائع اور محاسن پر زیادہ توجہ صرف کی گئی ہو ، اور شاید اس وضاحت کی ضرورت نہیں کہ میرا نیس شعری صنعت گری اور محاسن کلام کے معاملے میں ایسا امتیاز رکھتے ہیں جس میں اردو کے دو ایک شاعر ہی ان کے مقابل ٹھہرتے ہیں۔ مشرقی شعریات کے ماہرین نے لفظی معنوی صنائع کے سلسلے میں اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ شاعری میں صنعتوں کو اتنا نمایاں نہ ہونے دیا جائے کہ وہ معنی کی ترسیل میں مزاحمت پیدا کرنے لگیں یا ان کی تخلیق میں شعوری کا وش نمایاں ہونے لگے۔ انیس نے خود بھی کہا ہے کہ مرثیے میں ایسی ہی صنعت گری مستحسن ہے جو کہ سریع الفہم ہو۔
” سا معیں جلد سمجھ لیں جسے صنعت ہے وہی‘‘۔
میرانیس نے شعری تصویر بنانے اور تا ترخلق کرنے کی خاطر جس انداز کے پیکروں کی تخلیق کی ہے ان میں بصری پیکروں کی فراوانی ہے۔ ان کے مرثیوں کے ان گنت بندمناظر کا بیان کم کرتے ہیں انہیں روبہ عمل ہوتے ہوئے زیادہ دکھاتے ہیں ۔ ان مناظر سے کبھی خوش گوار تاثر ابھرتا ہے، کبھی ہیبت طاری ہوتی ہے، کبھی حیرت و استعجاب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور کبھی عبرت کا سماں بندھ جاتا ہے۔ انہوں نے خود بھی اپنی اس ہنر مندی کا احساس دلایا ہے :
قلم فکرسے کھینچوں جو کسی بزم کا رنگ
شمع تصویر پر گرنے لگیں آآئے پتنگ
صات حیرت زدہ مانی ہو تو بہزاد ہو دنگ
خوں برستا نظر آئے جو دکھاؤں صفِ جنگ
رزم ایسی ہو کہ دل سب کے پھڑک جائیں ابھی
بجلیاں تیغوں کی آنکھوں میں چمک جائیں ابھی
بزم کا رنگ جدا ، رزم کا میداں ہے جدا
یہ چمن اور ہے زخموں کا گلستاں ہے جدا
فہم کامل ہو تو ہرنامے کا عنواں ہے جدا
مختصر پڑھ کے رلا دینے کا ساماں ہے جدا
دبدبہ بھی ہو ، مصائب بھی ہوں تو صیف بھی ہو
دل بھی محفوظ ہوں رقت بھی ہو تعریف بھی ہو
ان دونوں بند کے مصرعوں سے ایک طرف تو میرا نیس کے تصور فن پر روشنی پڑتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ امیجری کو خلق کرنے میں انیس نے کیا کیا طریق کار اختیار کیے ہیں اور دوسری طرف سامع کو مرثیہ کے واقعات اور عمل میں شریک کرلینے کی نوعیت کا بھی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پران کا ایک ایک مصرع محا کاتی ہنرمندی کے اظہار کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ لیکن ان بیانات کی توثیق صرف انیس کے دعوے سے تو نہیں ہوسکتی ۔ اس لیے مثال کے طور پر یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان کے مرثیوں میں رزم ، بزم یا حظ آفرینی اور رقت انگیزی کے کیسے کیسے نمونے ملتے ہیں ؟ بعض مناظر کی صورت گری آپ بھی ملاحظہ فرمائیں :
روشن کیا ہے روئے منور نے راہ کو
رخ پر نہیں ٹھہرنے کا یارا نگاہ کو
حیر اں ہے عقل دیکھ کے زُلفِ سیاہ کو
آغوش میں لیے ہے شب قدر ماہ کو
چہرے کے نور سے شب مہتاب ماند ہے
خالق گواہ ہے کہ اندھیرے کا چاند ہے
یہ ذکر تھا کہ نورِ خدا جلوہ گر ہوا
گویا رسولِ پاک کا دن میں گزر ہوا
چلائے اہل شام کہ طالع قمر ہوا
ہنگامِ ظہر تھا پہ گمانِ سحر ہوا
جلوہ دکھایا برقِ تجلی طور نے
خورشید کو چھپا دیا چہرے کے نور نے
ان دونوں بند میں جس نوع کے شعری پیکر تراشے گئے ہیں ان کا تعلق سننے یا پڑھنے والے کی قوتِ بصارت کو مہمیز کرنے سے ہے ۔ ہر پیکر متحرک ہے جو بصارت کو ایسے مناظر دکھاتا ہے جن میں ڈرامانی کیفیت کی فراوانی ہے۔ دونوں بند میں حضرت امام حسینؑ کے حسن صورت کی تصویر کشی کے لیے سفیدی سیاہی اور نور کے مختلف استعارے استعمال کیے گئے ہیں۔ لفظیات کا غالب حصہ حسن و جمال یا روشنی اور نور کے تلازمات سے عبارت ہے ۔ دو بند کے صرف بارہ مصرعوں میں روئے منور ، روشن ، رُخ ، نگاہ ، سیاه ، شب ، ماه ، چہره ، نور، مہتاب، اندھیرا ، نور خدا، جلوه ، دن ، طالع ، قمر، سحر ، شام ، برق ، تجلی، طور، چاند، ما نداور خورشید جیسے چوبیس تلازمات جگمگا رہے ہیں۔ ان سے استعارے اور پیکر کا پورا نظام سا مرتب ہو گیا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دکھانے والا ایک تصویر مختلف زاویوں سے دکھانا چاہتا ہے ، وہ حسن اورکشش کے تمام مضمرات سے پردے اٹھاتا ہے اور انسانی جمال وجلال کے ہر رنگ اور ہر روپ کو مشاہدہ کی حد تک قابل یقین بنا دیتا ہے ۔ ایک ایک مصرع ایک ایک زاویے سے دیکھنے کے قابل تصویر ہے کبھی شاعر اپنا مشاہدہ کرتا ہے، کبھی انسانی عقل کی کوتاہی کا احساس دلاتا ہے، کسی جگہ وہ مہتاب کو ماند ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اور کسی جگہ اہل شام کے تاثر کو نمایاں کرتا ہے اور کبھی اس جمال میں اسے برقِ تجلی طور کی جھلکے دکھائی دیتی ہے۔
مندرجہ بالامثالوں کے بعد موازنے کے طور پر ذیل کے بند میں بعض متحرک بصری پیکروں کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ، جن میں ہرتصویر چلتی پھرتی اور تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی گئی ہے۔
کاٹھی سے اس طرح ہوئی وہ شعلہ خو جدا
جیسے کنار شوق سے ہو خو بر وجدا
مہتاب سے شعاع جدا گل سے بو جدا
سینے سے دم جدا رگ جاں سے لہو جدا
گر جا جو رعدا بر سے بجلی نکل پڑی
محمل میں دم جو گھٹ گیا لیلیٰ نکل پڑی
زور بازو کا نمایاں تھا بھرے شانوں سے
دستِ فولاد دبا جاتا تھا دستانوں سے
برچھیوں اڑتا تھا دب دب کے فرس رانوں سے
آنکھ لڑ جاتی تھی دریا کے نگہ بانوں سے
خود رومی سے جو ضوتا بہ فلک جاتی تھی
چشم خورشید میں بجلی سی چمک جاتی تھی
پہلے بند میں تلوار کے نیام سے باہر آنے کو مختلف تشبیہی پیکروں میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک مصرعے میں تلوار کو تلوار کے بجائے شعلہ خو بتایا گیا ہے اور باقی مصرعوں میں ’شعلہ‘ اور ’خو‘ دونوں کی رعایت ملحوظ خاطر رکھی گئی ہے۔ شعلہ خو کی مناسبت سے کنار شوق سے خوبرو ،مہتاب سے شعاع، گل سے بو، سینے سے دم ،اور رگ ِجاں سے لہو ،کے جدا ہونے کی ایسی خوبصورت تشبیہیں تلاش کی گئی ہیں کہ رعد کے گرجنے کے ساتھ ابر سے بجلی کا نکل پڑنا اور محمل میں دم گھٹنے کے احساس سے لیلیٰ کا بے نقاب ہو کرباہر آجا نا سامع کی بصارت کو متحرک کیے بغیر نہیں رہتا۔ اسی طرح دوسرے بند میں بازو کے زور اور دستانوں کے دباؤ کو اسے مرئی انداز میں دکھلا یا گیا ہے کہ ہے
بر چھیوں اُڑتا تھا دب دب کے فرس رانوں سے
آنکھ لڑ جاتی تھی دریا کے نگہہ بانوں سے
ایسے پیکر میں تبدیل ہو گیا ہے کہ ان مصرعوں کے سننے کے ساتھ ساتھ دیکھنے کا التباس بھی آنکھوں پر غالب رہتا ہے۔ مزید براں یہ کہ اس متحرک صورت گری کا کمال اس وقت اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے جب ہم کو اندازہ ہوتا ہے کہ اگر کہیں زمین برابر نہ ہو اور دیکھنے والے شخص اور منظر کے درمیان زمین کی قدرے اونچی سطح حائل ہو تو اوپر اٹھ کر دیکھنے کے سوابصری رابطے کی کوئی اور صورت نہیں باقی رہتی ۔ ان مصرعوں میں فرس کے برچھیوں اُڑنے کے الفاظ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دریا کے دشمن نگہبانوں سے آنکھ لڑ جانے کا پیکر بنایا گیا ہے ۔ اس طرح یہ امیج ایسی متحرک ، مربوط اور حسی طور پر مخلوط تصویہ بن گئی ہے جس کو لفظوں میں اتارنا کوئی معمولی فن کاری نہیں ۔
بصری امیجری کے مذکورہ نمونوں میں ایک بات مشترک ہے کہ ہر بند میں شامل امیج قاری یا سامع کو مثبت احساس اور دل کی بہجت و انبساط سے گزارتی ہے ۔ روشنی ، نور، حسن اور خوب صورتی ان پیکروں کی تخلیق کا سرچشمہ بھی ہے اور مدعا بھی ۔ پھر یہ کہ سننے والے دل میں بھی اسی کی مناسبت سے کیفیات جنم لیتی ہیں اور حواس برانگیختہ ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا دوسرا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کربلا کے سانحے میں آلات حرب و ضرب کے استعمال ،قتل وغارت گری کے مناظر، ہیبت و دبدبہ کی فضایا گرمی کی شدت ، آفتاب کی تمازت، لو کی ستم ظریفی اور موسم کی حدت کو جن اشعار میں پیکر تراشی کے عمل سے گزارا گیا ہے ان کی فضا خاصی مختلف ہے اور ان اشعار کوسن کر تاثر انگیزی بھی خاصی مختلف ہوتی ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ دونوں طرح کے پیکروں میں احساس کو بیدار کرنے اور حسی وسائل کو متحرک کرنے کی صفات یکساں طور پر پائی جاتی ہیں، مگر ایک طرح کے پیکر کا تعلق خوشگوا را در فرحت بخش جذبات سے ہے اور دوسری طرح کے پیکر کبھی خوف و دہشت سے دو چار کرتے ہیں اور کبھی شدید جذباتی رد عمل کو دعوت دیتے ہیں ۔ اس نوع کے بعض بنداگر متذکرہ بالا چار بند کے تقابل میں رکھ کر دیکھے جائیں تو ان کے فرق کو زیادہ بہتر طریقے پرمحسوس کیا جاسکتا ہے:
وہ لو وہ آفتاب کی شدت وہ تاب و تب
کالا تھا رنگ دھوپ سے دن کا مثالِ شب
خود نہر علقمہ کے بھی سوکھے ہوئے تھے لب
خیمے تھے جو حبابوں کے پتتے تھے سب کے سب
اُڑتی تھی خاک خشک تھا چشمہ حیات کا
کھولا ہوا تھا دھوپ سے پانی فرات کا
آبِ رواں سے منھ نہ اُٹھاتے تھے جانور
جنگل میں چھپتے پھرتے تھے طائر ادھر ادھر
مردم تھے سات پردوں کے اندر عرق میں تر
خس خانۂ مژہ سے نکلتی نہ تھی نظر
گر چشم سے نکل کے ٹھہر جائے راہ میں
پڑ جائیں لاکھ آبلے پائے نگاہ میں
ان دونوں بند میں دھوپ کی حدت اور لو کی شدت کے اثرات مختلف مظاہر فطرت پر دکھائے گئے ہیں۔ پہلے بند کے مناظر میں آفتاب کی حدت دن کے رنگ کو بھی سیاہ کرنے پر تلی بیٹھی ہے ، وہ نہر جس کا نام ہی پانی کی موجودگی کی ضمانت ہے ، خود اس کے لب پیاس سے سوکھے ہوئے ہیں۔ پانی کے اندر حبابوں کے شامیانے تپ رہے ہیں اور خشکی کا یہ عالم ہے کہ زندگی کے چشمے تک کے خشک ہونے کا اندیشہ لاحق ہے ،یا پھر یہ کہ فرات کا پانی اپنی موجوں کے پیچ وخم سے ابلنے کا سماں پیش کر رہا ہے۔ یہ فضا آفرینی تو ضرور ہے مگر محض فضا آفرینی نہیں ۔ ’’وہ لوں وہ آفتاب کی حدت وہ تاب و تب‘‘ کی بنیاد پر شاعرانہ پیکر تراشی کا عمل اگلے مصرعوں میں ایک وحشت ناک منظر پیش کرتا ہے۔ یہ منظر اپنے مختلف حوالوں کی وجہ سے پڑھنے والے کے احساس کو ہر طرف سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اسی طرح دوسرے بند کے مصرعوں میں جانور ، پرندے ، اور انسان،سبھی پر گرمی کی شدت کے اثرات دکھانا مقصود ہے، ہر مصرعے میں حسن تعلیل کا کوئی نہ کوئی پہلو پیدا کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے امیج سازی کی گئی ہے ۔ آب رواں سے جانوروں کا منھ نہ اٹھانا ، طائر کا ادھر ادھر چھپتے پھرنا ، انسان کا سات پردوں کے اندر بھی عرق میں تر ہونا اور نگاہ کا خس خانۂ مژہ سے باہر نکلنے کی ہمت نہ کر پانا ، اگر غیرمعمولی طور پر متحرک پیکر نہیں تو اور کیا ہیں۔ اگر صورت گری ، اور منظر نگاری کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ اگر آنکھ سے تارِنظر بھی باہر نکل کے راہ میں ٹھہرنے کی جرأت کرلے تو پائے نگاہ میں لاکھوں آبلے پڑ جائیں۔ یہ ٹیپ کے دو مصرعے ایک ساتھ استعارہ سازی، حسن تعلیل اور امیجری کی ایسی مثال ہیں جن کو انیس کے فن پیکر تراشی میں سنگ میل کا نام دیا جا سکتا ہے ۔ انیس نے صورت حال کی شدت ظاہر کرنے کی خاطر اس نوع کے اشعار میں فرحت و انبساط کے بجائے ہیبت، خوف و ہراس اور اذیت ناکی کے ایسے ٹھوس اور مرئی پیکر تراشتے ہیں کہ پڑھنے والا گویا اپنی آنکھوں سے قیامت کے ماحول اور منظر کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے ۔ اس ماحول اور منظر میں موسم کی شدت کے نتیجے کے طور پر جب ہم مندرجہ ذیل دو بند پڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک کے بعد دوسری امیجری پورے پورے مرثیے میں ایک تصویری نظام مرتب کرتی ہے جس کے باعث مختلف بند کے متحرک پیکر باہم مربوط ہوکر تصویروں کا نگارخانہ تیار کردیتے ہیں ۔
اس دھوپ میں بستان محمد کا تھا یہ حال
سنولائے ہوئے رنگ تھے لالے کی طرح لال
چہرے پہ کوئی دھوپ میں روکے ہوا تھا ڈھال
رکھتا تھا بھگو کر کوئی رخسار پر رومال
لوتھی کہ شجر جل گئے تھے دشت بلا میں
معلوم یہ ہوتا تھا کہ ہے آگ ہوا میں
تھا بس کے روز قتلِ شہ آسماں جناب
نکلا تھا خوں ملے ہوئے چہرے پہ آفتاب
تھی نہر علقمہ بھی خجالت سے آب آب
روتا تھا پھوٹ پھوٹ کے دریا میں ہر حباب
پیاسی تھی جو سپاہ خدا تین رات کی
ساحل سے سرپٹکتی تھیں موجیں فرات کی
یہ دونوں بند بین کے اشعار کے پیش خیمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چناں چہ وہی لو اور دھوپ جو اس سے پہلے کی مثالوں میں صرف موسم کی ستم ظریفی کی عمومی نمائندگی کر رہی تھی ، ان اشعار میں بستانِ محمد اور شہ ِآسماں جناب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سننے والے کی سماعت اور بصارت پر ذاتی افتاد بن کر اثر انداز ہوتی ہے۔ ان بصری پیکروں کو غیر جانب دار ہو کر دیکھنا ممکن نہیں رہتا، رنگ کے سنولانے ، ڈھال سے دھوپ روکنے ، رخسار پر رومال رکھنے، ہوا کے ساتھ آگ برسنے اور شجر کے جل جانے کے سارے مناظر نہ صرف یہ کہ ہماری آنکھوں میں مناظر کا عکس کھینچ دیتے ہیں بلکہ ان حزنیہ اور المیاتی جذبات کو بھی بدرجہ اتم برانگیختہ کردیتے ہیں جن کی برانگیختگی مرثیے کا مقصد ومنتہیٰ ہوا کرتی ہے۔ اسی طرح دوسرے بند میں روز شہادت کا حوالہ دے کر سارے مناظر کو دکھ، درد اور کرب و ابتلا کی کیفیت سے ہم رشتہ کر دیا گیا ہے ۔ یہاں گرمی کی وجہ سے فرات کے پانی کے کھولنے اور خاک کے اُڑنے جیسی امیجوں کی طرح غیر جانب دار مشاہد بنار ہنا کافی نہیں ۔ یہاں تو اس دن کے روز شہادت ہونے کی مناسبت سے ہرمنظر، رقت، ندامت، اضطراب اور بے چینی کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ یہ نازک اور بار یک فرق دو طرح کے مناظر کے دیکھنے اور دکھانے کا زاویہ ہی تبدیل کر دیتا ہے۔ یہاں آفتاب اپنے چہرے پر خون ملے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ نہر علقمہ خجالت سے آب آب ہے ، دریا کا بلبلہ پھوٹ پھوٹ کر روتا نظر آتا ہے اور چوں کہ فرات کو سپاہ ِخدا کی تشنگی دور کرنے کا شرف حاصل نہیں۔ اس لیے اس کی موجیں ساحل سے ٹکرا ٹکرا کراپنی محرومی پر ماتم کناں دکھائی دیتی ہیں۔ اس بند میں حسن تعلیل کی صنعت کے ذریعے فطرت اور مظاہر فطرت کے ہر عمل کو کربلا طبلِ وغا کا تھم جانا، جلاجل کا خاموش ہو جانا اور دم بخود ہونے کے سبب ساز بجانے والوں کے ہاتھوں کا رک جانا یا سرودوں پر مہر سکوت لگ جانا، امام حسین کے رعب و دبدبہ کے نتیجے میں مخالف فوج پر سکتہ طاری ہونے کے مختلف مظاہر بن گئے ہیں۔ ان مصرعوں میں بہ ظاہر ہر ساز کے بند ہونے کا ذکر ہے مگر اس طرح کہ اس سے پہلے کی ہر آواز کی گونج بھی پس منظر میں موجود ہے۔ پورے بند کا ہر سماعی پیکر آوازوں کی آلودگی کی پوری فضا کانوں میں گونجتی ہوئی ہونے کا احساس دلاتا ہے ۔ جب کہ دوسرے بند میں پہلے بند کی پس منظری آوازوں کے برخلاف پیش منظر کی آوازوں کا احساس دلایا گیا ہے ۔ ایک طرف طبل کی آواز کے ساتھ فوج میں بادل گرجنے کا سماں بندھتا ہے اور دوسری طرف تلواروں اور ڈھالوں کی چمک پیغام اجل بن کر نمودار ہوتی ہے۔ لفظی رعایتوں کا یہ عالم ہے کہ اس غیرمعمولی رجزیہ فضا میں بھی انیس کا احساس جمال اور حس لطیف اس طرح کارفرما ہے کہ وہ ڈھالوں کو پھول اور تلواروں کو پھل کی شکل میں دکھا کر شعری حُسن کاری کے عمل سے لحظہ بھر کے لیے بھی غافل نہیں ہوتے۔ پہلے بند میں اگر جلاجل کا ہاتھ جوڑنا یا ’بجاتے‘ اور ’’بجا تھے‘‘ کے لفظوں میں صوتی مناسبتوں کا خیال رکھا گیا ہے تو دوسرے بند میں پھول اور پھل کے لفظی اور معنوی سارے تحسینی امکانات کو بروئے کار لایا گیا ہے۔
شاعرانہ امیجری کے ماہرین کا عام خیال ہے کہ ایسے حسی پیکر تراش لینا جو کسی مخصوص قوتِ حاسہ کو برانگیخت کرلیں ہر چند کہ اہم اور قابل تعریف محاسن شعری میں سے ایک ہے، لیکن ایک ساتھ مختلف حواسِ انسانی کو متحرک کر دینا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہوتا، تاہم اس ضمن میں بھی میر انیس کا امتیاز غیر عملی طور پر استثنائی ہے۔ ان کے ایک ایک مسدس میں یکساں اور متوازی طور پر ایک سے زیادہ حواس کو متحرک کرنے والے مخلوط پیکروں کی فراوانی ہے۔ ان کے مرثیوں کے ایسے بند کی سماعت کے ساتھ سننے والا ایک سے زیادہ حواس کے ساتھ ان کی پیکر تراشی میں اس طرح محو ہوتا ہے کہ اس کا پورا وجود شاعر کی بنائی ہوئی فضا ، آواز ، خوشبو، رنگ اور منظر میں شریک ہو جاتا ہے ۔ اختصار کی خاطر صرف یہ دوبند ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
کے سانحے سے اس طرح مربوط کیا گیا ہے گویا اشیاء اور مظاہر میں فطرت کے عمل اور رد عمل کا سارا نظام اسی اندوہ ناک سانحے پر مرکوز ہے ، اور ہر عمل کی معنویت آج کے دن کے روزشہادت ہونے سے ہی متعین ہوتی ہے۔ ان تمام مناظر میں انیس نے ایک طرف تو لفظی صورت گری کا کمال دکھایا ہے اور دوسری طرف ہر تصویر کو ایسا ہشت پہل بنا دیا ہے کہ دیکھنے کا ہرزاویہ منظر کا کوئی نہ کوئی نیا پہلوہمارے سامنے لاتا ہے۔
اب تک میرانیس کے مرثیوں سے صرف ان پیکروں کی مثالیں پیش کی گئی ہیں جن کا تعلق وسیع معنوں میں ایسے متحرک منظر ناموں کی تشکیل سے ہے جو سامع کی نگاہ کو دعوتِ مشاہدہ دیتے ہیں، لیکن انیس کے مرثیوں میں ایسے پیکروں کی بھی کمی نہیں جو بصارت کے علاوہ دوسری حسی قوتوں کو بھی متاثر کرتے ہیں اور کبھی آوازوں کی گونج ،کبھی خوشبو کی کیفیت اور کبھی لمس یا ذائقے کے احساس سے دو چار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پران اشعار کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ سماعت کو متحرک اور برانگیختہ کرنے کے کیا کیا وسائل بعض سمعی پیکروں کی تخلیق کر رہے ہیں۔
یہ صدا سنتے ہی خود رک گیا قرنا کا خروش
تھم گیا طبل وغا کی بھی وہ آواز کا جوش
ہو گئے جوڑ کے ہاتھوں کو جلا جل خاموش
کیا بجاتے کہ بجا تھے نہ کسی شخص کے ہوش
چھیڑنا ان کو سرو دوں کا بھی ناساز ہوا
رعب فرزندِ علی سرمۂ آواز ہوا
یک بیک طبل بجا فوج میں گرجے بادل
کوہ تھرائے زمیں ہل گئی گونجا جنگل
پھول ڈھالوں کے چمکنے لگے تلواروں کے پھل
مرنے والوں کو نظر آنے لگی شکل اجل
واں کے چاؤش بڑھانے لگے دل لشکر کا
فوجِ اسلام میں نعرہ ہوا یا حیدر کا
اگر آپ غور کریں تو پتہ چلے گا کہ پہلے بند کے آخری مصرعے میں
رعب ِفرزند علی سرمۂ آواز ہوا
کے نتائج ابتدائی پانچی مصرعوں میں اس طرح پیش کر دیے گئے ہیں کہ قرنا کا خروش رک جانا،
ٹھنڈی ٹھنڈی وہ ہوائیں وہ بیاباں وہ سحر
دم بہ دم جھومتے تھے وجد کے عالم میں شجر
اوس نے فرشِ زمرد پہ بچھائے تھے گہر
لوٹی جاتی تھی لہکتے ہوئے سبزے پہ نظر
دشت سے جھوم کے جب باد ِصبا آتی تھی
صاف غنچوں کے چٹکنے کی صدا آتی تھی
یا یہ بند کہ:
گھوڑوں سے گونجتا ہے وہ سب وادی بزد
گردوں میں مثلِ شیشہ ساعت بھری ہے گرد
ہے چرخ چار میں، میں رُخِ آفتاب زرد
ڈر ہے گرے زمیں پہ نہ مینائے لاجورد
گرمی ہجوم فوج سے دو چند ہو گئی
خاک اس قدر اُڑی کہ ہوا بند ہو گئی
پہلے بند میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں سے احساس لمس ، فرش زمرد پر گہر کے بچھے ہونے سے احساسِ بصارت ،غنچوں کے چٹکنے سے احساس سماعت اور غنچوں کی خوشبو سے قوتِ شامہ جیسے حو اسِ انسانی ایک ساتھ متحرک ہوتے ہیں ۔ اسی طرح متذکرہ دوسرے بند میں گھوڑوں کی ٹاپوں کی گونج، رخ آفتاب کی زردی ، ہجومِ فوج کی گرمی اور خاک کے اُڑنے سے ہوا کی بندش سماعت ، بصارت اور احساسِ لمس کی مخلوط حسی کیفیات ، سُننے والے کے تمام حواس کو صرف ایک ساتھ متحرک ہی نہیں کرتیں بلکہ اپنے سحرمیں گرفتار کر لیتی ہیں..... ۔
میرانیس کے مرثیوں میں صورت گری ، مرقع نگاری اور پیکر تراشی کے جس نظام کی نشاندہی کی گئی ہے اس کا ایک اہم رول کر بلا کے واقعات اور صدیوں بعد کے سامعین کے در میان حائل زمانی اور مکانی فاصلے کو ختم کر دینا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پہلی صدی اور تیرہویں صدی ہجری کے زمانی اورلکھنواور کربلا کے مکانی فا صلے ان کے مرثیوں میں مٹتے ہوئے محسوس نہیں ہوتے ۔ میرانیس کی پیکر تراشی سانحۂ کربلا کی پوری فضا کو اپنی مخصوص تہذیبی صورت حال میں تبدیل کر دیتی ہے اور ایک مختلف تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں پروردہ مخاطب کو انیس کے مرثیے خود اس کے اپنے ثقافتی حوالوں سے مربوط دکھائی دیتے میں ۔ انیس نے حسی صورت گری کے اپنے اس فن میں بشری تقاضوں اور انسانی نفسیات کا جو پاس و لحاظ رکھا ہے اس کا غالب عنصران کے پیکر تراشی کے پورے نظام سے وابستہ ہے ۔ اس لیے اگر محولہ بالا معروضات کی روشنی میں میر انیس کو انسانی جذبات و احساسات کا ایسا عارف قرار دیا جائے جس کی فنی قدریں بھی بشری اور ارضی سرچشموں سے قوت نمو حاصل کرتی ہیں تو کوئی غلط بات نہ ہو گی ۔ یہی انیس کی شاعرانہ حسن کاری کا راز بھی ہے اور تہذیبی حوالوں کا جواز بھی .....
(1996)