ابوالکلام قاسمی

ابوالکلام قاسمی

نظم گوئی میں فیض احمد فیض کے امتیازات

    نظم گوئی میں فیض احمد فیض کے امتیازات

    ابوالکلام قاسمی

    فیض احمد فیض کی ادبی اور شعری سرگرمیوں کی بساط کم و بیش نصف صدی کے عرصے پر پھیلی ہوئی ہے ۔ اس درمیان ان کے آٹھ مجموعہ ٔکلام شائع ہوئے ۔ زمانی اعتبار سے ان کی مقبولیت اور ہر دل عزیزی کا گراف روز بروز بلند سے بلند ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ انتقال کے وقت ان کا شمار نظم اور غزل کے ممتاز ترین شعراء  میں ہونے لگا تھا۔ فیض کے کئی حوالے ایک ساتھ ان کی شناخت کے لیے استعمال کیے گئے۔ ان کو کبھی رومانیت اور حقیقت پسندی کے دوراہے پر کھڑے شاعر کی حیثیت سے دیکھا گیا۔ کبھی ان کی پہچان ، پرانی علامتوں اور استعاروں کو معاصر صورت حال اور سیاسی معنوں سے ہم آہنگ کرنے والے فن کار کے طور پر متعین کی گئی۔ اور کبھی انہیں ترقی پسند فکر اور جمالیات کو ہم آمیز کرنے والے ممتاز شاعر کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ تاہم ان کی غیرمعمولی مقبولیت میں شاعری کے ساتھ ساتھ قید و بند کی زندگی یا ان کو ایک انقلابی اور آدرش پسند ادیب کے طور پر نمایاں کرنے کا عمل دخل کچھ کم نہ تھا۔ اور پھر یہ کہ ان کی ہر دل عزیزی میں ان کی دلآویز شخصیت اور صلح کل کے رویے نے بھی بڑا اہم رول ادا کیا۔ غرض یہ کہ اپنی زندگی میں ہی وہ ایک لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر گئے۔ شاعرانہ حیثیت، عوامی مقبولیت اور فن کارانہ قدوقامت کے ادبی حوالوں کے ساتھ سماجی اور سیاسی اسباب و عوامل کے باعث، سب سے پہلا اور اہم سوال یہ ہے کہ ان کی شاعری میں رطب ویابس کی پہچان اور کھرے کھوٹے کی پرکھ کا تعین کیوں کر کیا جائے ؟ تاکہ ایک فن کار کی حیثیت سے کا ان کی صحیح قدو قامت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

    فیض کے دو ممتاز ترین معاصرین ، ن م، راشد اور اخترالایمان نے اپنے تخلیقی اظہار کو نظم گوئی تک محدود رکھا ، یہ الگ بات ہے کہ موضوعات کے تنوع اور تجربے کی ہمہ جہتی کے اعتبار سے فیض کو ان کے مقابل نہیں لایا جا سکتا .....اس میں کوئی شک نہیں کہ فیض کی چند غزلیں ، ان کی نظموں سے کچھ زیادہ ہی مقبول عوام وخواص ر ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی قابل توجہ اور نمائندہ ترین نظموں کی تعداد، ان کی اس پائے کی غزلوں سے کہیں زیادہ ہے چوں کہ بیسویں صدی کے وسط تک آتے آتے اردو غزل اور نظم کی شعریات نے الگ الگ اور قدرے مختلف بنیادوں پر اپنی اپنی شناخت متعین کر لی تھی، اس لیے فیض کی نظم گوئی کا کوئی جائزہ محض اس مفروضے کے تحت نہیں لیا جا سکتا، کہ ان کی شاعری بلا امتیاز نظم وغزل، غزل کے روایتی مزاج کی توسیع ہے، اور اگر تغزل کی کوئی تعریف ممکن ہے تو یہ صفت ان کی نظموں تک میں پائی جاتی ہے ، جیسا کہ ایک سے زیادہ قابل ذکر نقادوں نے موقف اختیار کیا اوراس موقف کے باعث کلام فیض کی تفہیم میں غلط زاویۂ نظر کو راہ دی گئی ۔

    فیض نے مختلف تحریروں میں اپنے شعری اور تنقید ی تصورات کا واضح اظہار کیا ہے۔ ان تحریروں میں موضوع اور مواد کے سلسلے میں ان کی ترجیحات کا بار بار ذکر ملتا ہے ۔ انہوں نے سیاسی اور سماجی مسائل و موضوعات سے اپنی وابستگی کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، اور ان کو بجاطور پرایک نمائندہ ترقی پسند شاعر کی قدر ومنزلت حاصل رہی۔ تاہم ان کے قدرے تہہ دار اسلوب اور استعاراتی طرز اظہار پر خود ترقی پسند حلقوں سے جو اعتراضات کیے گئے وہ ہماری نگاہوں سے مخفی نہیں ۔ اس لیے غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا سیاسی اور سماجی موضوعات اور تہہ دار اسلوب میں تضاد کا رشتہ ہے ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، تو دیکھنے کی بات یہ ہے کہ نظم میں فیض احمد فیض اور مخدوم اور غزل میں مجروح سلطان پوری کے حوالے سے ترقی پسند جمالیات کو نئے سرے سے کیوں کر مرتب کیا جا سکتا ہے۔ تیس اور چالیس کی دہائی میں ترقی پسند شعریات کو انتہا پسندی کے ساتھ مرتب کیا جارہا تھا ، اس میں تہہ دار ڈکشن اور ابہام کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی تھی۔ جس کا نتیجہ فیض کی بعض ابتدائی نظموں پر اعتراضات کی صورت میں سامنے آیا۔ لیکن جب فیض کی مقبولیت آسمان کو چھونے لگی اور مختلف ادبی مکتب فکر سے وابستہ حلقوں میں ان کو ایک نمائندہ اور ممتاز شاعر کی حیثیت حاصل ہونے لگی تو پھر ترقی پسند معترضین نے بھی یکسو ہوکران کو ترقی پسند نظریات کا مثالی شاعر ثابت کرنے پر پوری توجہ صرف کر دی۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقی پسند یا جدید یا کسی اور مکتب فکر کے نمائندے کے بجائے فیض کو محض ایک شاعر کی حیثیت سے مطالعے کا موضوع بنایا جائے ، اور براہ راست ان کی نظموں کے تجزیاتی جائزے کی بنیاد پر نظم گو کی حیثیت سے ان کے امتیازات کو نشان زد کیا جائے۔ فیض کی نظموں میں فن اور فکر کا تناسب کیا ہے اور کہاں کہاں ان کی فکر نے فن کا قالب اختیار کرنے میں مواد اور ہیت کے فرق کو مٹا دیا ہے   ؟ فیض کے مطالعے میں ان سوالات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہوگئی ہے کہ ان کے مرتبے کے تعین کی خاطر خالص شعری اور ادبی معیاروں کو بالعموم نظرانداز کیا گیا ہے۔ کسی بھی زمانے میں محض فکر یا طرز نے شاعری کی اہمیت میں اضافہ نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو اپنے ترقی پسند تصورات کے بے محابا اظہار کے باعث ان کے معاصرین مجاز ، سردار جعفری ،کیفی اعظمی اور ساحر لدھیانوی ان سے زیادہ اہم شاعر تسلیم کیے جاتے ، اور ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے اس بات کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے کہ فکر کوفن بنانے اور تصورات کومحسوس سطح پرلا کر شاعری کی صورت میں ڈھالنے کی جوشاعرانہ تدبیریں فیض نے اختیار کی ہیں ، ان کو فیض کے شعری طریق کار کی مدد سے سمجھا جائے ۔

     حقیقت یہ ہے کہ فیض بنیادی طور پر مفکر اور فلسفی شاعر نہیں ہیں۔ ن م ۔ راشد نے ان کے پہلے مجموعۂ کلام پر لکھتے ہوئے یہ کوئی غلط بات نہیں کہی تھی کہ ’’فیض کسی مرکزی نظریے کا شاعر نہیں صرف احساسات کا شاعر ہے ‘‘ ۔ کہنے کو تو خود فیض شروع سے ہی اس طرح کے دلکشن اعلانات کرتے رہے کہ ’’مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ‘‘۔

    یا پھر یہ کہ :

    اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

    یا یہ کہ:

     لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے

    اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجئے

    یہ تمام باتیں اپنے اندر حسن کے معیار کو بدلنے کا داعیہ توضرور رکھتی ہیں..... مگر ان تمام ریڈیکل تصورات میں شاعری کا عنصرنہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ پوری نظم ہیئتی اعتبار سے مکمل  اور مربوط ہونے کے با وجود بیان کے اس جادو اور پیرایۂ اظہار کے اس حسن سے عاری ہے جو قدرے بعد میں فیض کی نظموں کاطرۂ امتیاز ٹھہرا ۔اس نظم کے بالمقابل ’’نقش فریادی‘‘ میں ہی ایک ایسی نظم شامل ہے جس کے بعض اشعار میں تہذیبی، معاشرتی، حتی ٰکہ معاشی مسائل کوفنی حسن کے لوازم ،تشبیہہ، استعارہ اور پیکر تراشی کا سہارا لے کر حسن بیان کا جادو جگایا گیا ہے۔ نظم کا عنوان ہے ’’ موضوع سخن‘‘ اور اس نظم میں فیض اپنےآپ کو شعوری اور تحت الشعوری دونوں سطحوں پر خود کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ نظم فیض کی افتاد طبع اور جبلی رجحان کی ہی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ ایک فن پارے کی سطح پر ان کے جمالیاتی طریق کار اور فکری یا جذباتی ترجیحات کو بھی نشان زد کرتی ہے۔

    ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق

    کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے

     یہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جو بن جن کا

    کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے

    ان مصرعوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مرنے کی حسرت  میں جینا، حسین کھیت کے جو بن کا پھٹا پڑنا اور کھیتوں سے اناج  کے بجائے بھوک کا اگنا ، جیسی استعاراتی اور تمثیلی پیش کش اپنے اندر کیسا ہمہ جہت ترسیل کا امکان رکھتی ہے ۔ اور پتہ چلتاہے کہ بقول خلیل الرحمٰن اعظمی ’’فیض سماجی حقائق کے بیان میں بھی فنی  حسن کو قائم رکھتے ہیں‘‘، تاہم اس نظم کا اختتام جس بند پر ہوتا ہے اس سے شاعر کی موضوعاتی اور ذہنی ترجیحات واضح ہو کر سامنے آجاتی ہیں اور ان ترجیحات سے فیض کی افتاد طبع کا پورا اندازہ لگایا جاسکتا ہے :

    یہ بھی ہیں ، ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گے

     لیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ

     ہائے اس جسم کے کمبخت دلآویز خطوط

    آپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہوں گے

     اپنا موضوع سخن ان کے سوا اور نہیں

     طبع شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں

    اسی سلسلے میں کلیم الدین احمد نے فیض کی بنیادی مشکل کا ذکر اس طرح کیا ہے :

     ’’مشکل یہ آپڑی ہے کہ فیض شعوری طور پر مارکسی شاعر بننا چاہتے ہیں اور غیرشعوری بہاؤ انہیں کسی دوسری سمت لے جاتا ہے۔ ان کے شعور اور تحت الشعور میں ایک قسم کا تصادم ہے، اور اس تصادم کا اثران کی شاعری پر اچھا نہیں پڑ اہے۔‘‘

    اس نظم کے ضمن میں اگر صرف ڈکشن کی سطح پر لفظوں کے تلازمات اور تراکیب پر ایک نگاہ ڈال لی جائے تو آسانی سے پتہ چل جاتا ہے کہ شاعر نے اپنے تخلیقی طریق کار کی مدد سے فکر کومحسوس فکر بنا کر اس طرح پیش کر دیا ہے کہ اس کے مزاج اور افتاد طبع سے ہم آہنگ تصورات کا ایک جال سا بن گیا ہے اور ان کی درجہ بندی بھی سامنے آگئی ہے۔ افسردہ سلگتی ہوئی شام کا گل ہونا۔ چشمہ مہتاب سے رات کا ڈھل کے نکلنا ،مشتاق نگاہوں کی بات کا سنا جانا ، آنچل ، رخسار یا پیراہن سے چلمن کارنگین ہونا ، زلف کی گھنی چھاؤں میں آویزے کا ٹمٹمانا، جوانی کے چراغ کا جل بجھنا ، دماغ کا چراغاں ہونا ، یا ، کاجل کی لکیر، غازے کا غبار، خوابوں کی مقتل گا ہیں، اور حنا کی دھندلی سی تحریر، جیسی تراکیب میں استعاراتی پیکروں کی جو بہتات ہے وہ ایک ایک پیکر ایک مکمل اور بھر پور  تخلیقی اکائی بناکر رکھ دیتی ہے۔ استعارے اور امیجری کی اس جھرمٹ پر مبنی نظم سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شاعر کا تخیل متفرق اور منتشر اشیاءمیں باہم اشتراک اور ترتیب کے امکانات کیوں کر تلاش کر لیتا ہے۔ اس نظم میں شاعرانہ صناعی کے نمونے اس طرح مجتمع ہوگئے ہیں جن کے پیچھے ایک ایسے فن کار کے ذہن اور وجدان کی کار کردگی دیکھی جاسکتی ہے جو حقائق کو ماورائے حقیقت یا استعارے کی سطح پر ادراک کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

    ویسے اگر فیض احمد فیض کے شاعرانہ ارتقاء کے زمانی پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا وہ رومانی ذہن جس میں انقلاب،   بغاوت اور آدرش پسندی سب کچھ ہے۔ مگران سب کے ساتھ محبت اور احساس جمال کو اساسی حیثیت حاصل ہے۔ جمالیاتی ذوق اور محبت کی مرکز یت کو فیض کی شاعری کے ہر دور میں یکساں طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بالکل ابتدائی زمانے کی نظموں میں سے فیض کی ایک نظم ’سرود شبانہ‘ بھی ہے :

    نیم شب ، چاند ، خود فراموشی

     محفل ہست و بود ویراں ہے

    پیکر التجا ہے خاموشی

    بزم انجم فسردہ ساماں ہے

     آبشار سکوت جاری ہے

    چار سو بے خودی سی طاری ہے

     زندگی جزو خواب ہے گویا

     ساری دنیا سراب ہے گویا

     سور ہی ہے گھنے درختوں پر

     چاندنی کی تھکی ہوئی آواز

     کہکشاں نیم وانگاہوں سے

    کہہ رہی ہے حدیث شوق و نیاز

     ساز دل کے خموش تاروں سے

    چھن رہا ہے خمار کیف آگیں

     آرزو ، خواب ،تیرا روئے حسیں

    یہ نظم، جدید نظم کے عضویاتی کل کےجس تصور کی عملی تصویر ہے۔ اس کے ساتھ ہی خیال کے ارتقا، ایک ایک مصرعے کی ناگزیریت ، اور پہلے مصرعے سے آخری مصرعے تک میں تسلسل اور نمو کی کیفیت نے اسے ایک بھر پور، مکمل اور فنی اعتبار سے مثالی نظم بنا دیا ہے ۔فیض کی ابتدائی نظموں میں سے یہ وہی نظم ہے جس میں گویا بعد کی بعض نمائندہ نظموں مثلا ًتنہائی، منظر، یاد اور ہم لوگ،    وغیرہ کی تخلیقی بشارت موجود ہے۔ ’سرود شبانہ‘ میں شاعر کے مشاہدے نے صرف بصارت سے کہیں زیادہ ہمہ جہت حو اس اور جذبے کی کارکردگی کا طلسم پیدا کیا ہے۔ خاموشی کو التجا کا پیکر کہنا، ستاروں کی محفل میں فسردہ سامانی ڈھونڈھ لینا ، وہ آبشار جواپنی مترنم جھنکار سے پہچانا جاتا ہے اسے سکوت سے ہم آہنگ کر کے پیراڈو کس کی کیفیت پیدا کر دینا۔ اور گھنے درختوں پر چاندنی کی تھکی ہوئی آواز کو سوتا ہوا دیکھ لینا ، یا پھر سازِ دل کے خاموش تاروں سے کیف آگیں خمار کے ساتھ آرزو ، خواب اور محبوب کے روئے حسین کو چھنتا ہوا محسوس کر لینا ، یہ ساری تراکیب ایک طرف فیض کی امیجری میں مختلف حواس کی متوازی کار فرمائی ثابت کرتی ہیں اور دوسری طرف حسی یا جذباتی ارتعاشات کو ذہنی سطح سے ہم آہنگ کر کے پیش کر دینے کانمونہ پیش کرتی ہیں۔ ساقی فاروقی کا کہنا ہے کہ                                               ؎                      ’        سورہی ہے گھنے درختوں پر ..... چاندنی کی تھکی ہوئی آواز ‘ہی وہ پہلا منفرد حسی پیکر ہے جہاں سے فیض نے اپنی آواز الگ کرنی شروع کی ، ورنہ اس سے قبل ان کے کلام پر غالب اور اقبال کے اثرات کی واضح نشاندہی کی جاسکتی ہے۔“ ہو سکتا ہے اس بات میں جزوی صداقت موجود ہو۔ ویسے حقیقت یہ ہے کہ یہ بات نظم کی وحدت کے تصور کے خلاف جاتی ہے کہ اس کا کوئی شعر الگ سے اپنا تاثر قائم کرنے لگے۔ نظم کی شعریات میں ہر مصرعے اور ہر ٹکڑے کو اس وحدت کی تشکیل میں معاون ہونا چاہیے۔ جس کو ایک فنی کل کا نام دیا جا سکتا ہو۔ ’سرودِ شبانہ‘ بھی فیض کی ایسی ہی نظم ہے جس کے مصرعوں کی غیر معمولی تخلیق اور اظہاری قوت پوری نظم کے تاثر میں اضافہ کرتی ہے ۔ الگ سے کسی شعر یا مصرعے کی شناخت قائم نہیں ہو پاتی۔

     جدید نظم میں مصرعوں کی ناگزیریت کی بات چل پڑی ہے تو آئیے فیض کی ایک اور نظم دیکھیں جو اپنے موضوع کے اعتبار سے اردو شاعری اور بالخصوص غزل کے روایتی مسلمات سے الگ زاویۂ نظر اور نادر تصور پر مبنی ہے۔ اس نظم کا عنوان ہے، ’رقیب سے‘ اور یہ نظم اس طرح شروع ہوتی ہے۔

    آکے وابستہ ہے اس حسن کی یادیں تجھ سے

     جس نے اس دل کو پری خانہ بنارکھا تھا

    جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے

     دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

     یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اس نظم میں فیض نے شاعرانہ بیانات کے بجائے بیانیہ شاعری کا انداز اختیار کیا ہے ۔ اسی باعث اس میں بالواسط طرز اظہار یا استعاراتی طریق کار کا کہیں نام ونشان بھی نہیں ملتا۔ تاہم یہ نظم اپنی ندرت خیال اور اچھوتے نقطۂ نظر کے سبب فیض کی شاعری میں ہی نہیں بلکہ اردو شاعری کے پورے سرمایے میں خاصے کی چیز تصور کی جاتی ہے۔ اس کے با وجود آٹھ بند پر مشتمل یہ نظم جب پانچویں بند

     ہم پہ مشتر کہ ہیں احسان، غم  الفت کے

    اتنے احسان کے گنواؤں تو گنوا نہ سکوں

     ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے

     جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

    کی تکمیل کرتی ہے ۔تو گویا اپنے منطقی انجام تک پہنچ جاتی ہے ،مگر جب فیض اگلے تین بند میں’’ ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے‘‘ ؟ کی وضاحت اور تشریح کی طرف مائل ہوتے ہیں تو پھر وہ صراحت کرتے ہی چلے جاتے ہیں’’ عاجزی سیکھی ،غریبوں کی حمایت سیکھی ، یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے، زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا۔ سرد آہوں کے رخِ زرد کے معنی سیکھے‘‘ وغیرہ وغیرہ بیانات کو وہ مسلسل بارہ مصرعوں تک خطابیہ انداز میں جاری رکھتے ہیں، اور وہ نظم جو پا نچویں  بند میں اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ کر منطقی طور پر اختتام پذیر ہوگئی تھی۔ اس کے لیے ، بعد کے تین بند ایسے الحاقی بن جاتے ہیں جو نظم کی ہیئت کو بری طرح مجروح بھی کرتے ہیں اور تاثر کی وحدت کو انتشار سے بھی دوچار کر دیتے ہیں۔ ایسے موقع پر فیض کی نظم ’موضوع سخن‘ کو ایک بار پھر یاد کرنا پڑتا ہے۔ جس میں انہوں نے غربت وافلاس، استحصال، طبقاتی کشمکش ، سماجی نابرابری ، اور اس طرح کے دوسرے مسائل کا ذکر کرنے کے باوجود نظم کے بنیادی موضوع سے صرف نظر کرنے کا ارتکاب نہیں کیا ہے ، اور ترجیحی طور پر محبت اور درد کے رشتے کو اپنے جمالیاتی تجربے کا مرکز و محور ثابت کیا ہے۔ واضح رہے کہ درد کے اس رشتے کی عظمت کا اعتراف فیض کی شاعری کے ہر دور میں ملتا ہے۔

     مثلاً :

    بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی

    تمہارے نام پہ آئیں گے جا نثار چلے

    یا یہ کہ:

     درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ

     یایہ کہ :

     وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے

    یایہ  کہ:

     شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اُٹھے گا

     یا پھریہ کہ :

     اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں

     یا پھر نظم ملاقات کا آغاز کہ :

    یہ رات اس درد کا شجر ہے

     جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے

     ان متفرق مصرعوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فیض کی پوری شاعری میں ان کی ترجیحات کی کلید کیا ہے ، اور اپنی تمام سیاسی اور سماجی وابستگیوں کے باوجود فیض کا جمالیاتی وجدان کیوں کر واشگاف انداز میں جمالیاتی محرکات کی طرف مراجعت کرتا رہتا ہے ۔

    شاید یہی سبب ہے کہ فیض کی شاعرانہ ہنرمندی اور فن کاری کی معراج ان کی بعض وہ نظمیں ہیں جن میں انہوں نے حسی ، جذباتی اور جمالیاتی واردات کو شاعری کی سطح سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مثال کے طور ان کا ایک محبوب شعری طریق کار،حسی اور جذباتی کیفیات کو راست انداز میں بیان کرنے کے بجائے خارجی معروض کے حوالے سے بیان کرنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اردو کی قدیم شعریات کی اصطلاح میں ، وہ صفات منتقلہ کا ہنرمندانہ استعمال جانتے ہیں۔ اس شعری تدبیر کو اگر ہم مغربی تنقید کی اصطلاح کا کوئی نام دینا  چاہیں تو اسے Transferred Epithet کہہ سکتے ہیں۔ اس شاعرانہ تدبیر کاری کا سب سے بہتر استعمال ان کی نظم ’تنہائی‘ میں ہوا ہے۔ لیکن ’تنہائی‘ کے صحیح سیاق و سباق کو سمجھنے کے لیے ان کی دو اور نظموں ’یاد‘ اور’ انتظار‘ کو بھی سامنے رکھا جائے تو بات زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ ’تنہائی‘ کا ذکر کرتے ہوئے کلیم الدین احمد نے بھی نظم ’انتظار‘ سے اس کا تقابل کیا ہے ۔ مگران کا طریق کار اور نتائج چوں کہ مختلف ہیں۔ اس لیے قدرے مختلف موازنے کو یہاں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ فیض کی تین نظموں ’انتظار‘،’ یاد‘ اور ’تنہائی‘  میں ان کے اسلوب کی تین جہتیں سامنے آتی ہیں۔ سب سے پہلے انتظار کا ذکر مناسب ہوگا۔ تاکہ اندازہ ہوسکے کہ ہیئت واظہار کی سادگی سے پیچیدگی کی طرف فیض کے سفر کی نوعیت کیا ہے ۔

     گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آئیں

     ریاضِ زیست ہے آزردۂ بہار ابھی

     مرے خیال کی دنیا ہے سو گوار ابھی

     جو حسرتیں ترے غم کی کفیل ہیں پیاری

     ابھی تلک مری تنہائیوں میں بستی ہیں

     طویل راتیں ابھی تک طویل ہے پیاری

     اداس آنکھیں تری دید کو ترستی ہیں

     بہارِ حسن پہ پابندیٔ جفا کب تک

    یہ آزمائش صبرگریز پا کب تک

    قسم تمہاری بہت غم اُٹھا چکا ہوں میں

     غلط تھا وعدهٔ صبر و شکیب آجاؤ

     قرار خاطر بے تاب، تھک گیا ہوں میں

     (انتظار)

    اس نظم میں انتظار کی کیفیت کو براہ راست انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ بالواسطہ طرز تخاطب کے وسائل تشبیہ ، استعارہ ،مجاز مرسل ، امیجری یا پھر لفظی یامعنوی رعاتیں نظم میں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ ریاض ِزیست ، آزردہ ٔبہار ، پابندیٔ جفا، بہارِ حسن، آزمائش صبرگریز پا ، وعدهٔ صبر و شکیب اور قرارِ خاطر بیتاب، جیسی تمام تراکیب پیش پا افتادہ ہی نہیں کلیشے کی حدتک پہنچی ہوئی روایتی بھی ہیں۔ کوئی ترکیب کسی استعاراتی جہت کو نمایاں نہیں کرتی ۔ عاشق کا اضطراب، بے چینی اور زندگی کی بے کیفی تجربے کے سپاٹ پن کوظاہر کرتی ہیں، اورعام بیا نیہ اسلوب، اس نظم کوکسی طرح کے فنی ارتفاع سے محروم رکھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ رومانی تجربہ، شعری یافنی کیفیت میں ڈھل نہیں پاتا۔شاید یہی سبب ہے کہ اس نظم کو وہ حیثیت حاصل نہ ہو سکی جواہمیت اسی موضوع پر لکھی ہوئی ان کی بعض دوسری نظموں کو حاصل ہوئی۔ فیض کی نظم ’تنہائی‘ کا موضوع بھی کم و بیش یہی ہے اور اسی موضوع کو ’یاد‘ میں بھی برتا گیا۔ انتظار ، تنہائی، یاد، اضطراب، اور امید و بیم کی کیفیت کو تینوں نظمیں پیش کرتی ہیں ، انتظار، کا موازنہ اگر تنہائی، سے کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کی ایک نظم عامۃ الورود تجربے کا قدرے اکہرا بیان ہے جب کہ دوسری نظم جمالیاتی اور وجدانی کیفیت کے نہایت تخلیقی اور فن کارانہ بیانات پر مبنی ہے۔ تنہائی محض نو مصرعوں کی نظم ہے :

    پھر کوئی آیا ، دل زار! نہیں ، کوئی نہیں

     راہ رو ہوگا ، کہیں اور چلا جائے گا

     ڈھل چکی رات بکھر نے لگا تاروں کا غبار

     لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ

    سوگئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار

     اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ

    گل کرو شمعیں ، بڑھا دومئے و مینا و ایاغ

    اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو

     اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا

     (تنہائی)

     ایسا نہیں ہے کہ یہ نظم موضوع یا فکر کے اعتبار سے کسی اچھوتے موضوع کو پیش کر رہی ہو۔ من وعن وہی موضوع اور وہی مضمون ہے جو ’انتظار‘ یا ’یاد‘ میں اپنایا گیا ہے۔ لیکن یہاں لفظوں کے برتنے کا انداز بالکل مختلف ہے۔ کوئی بات براہ راست نہیں بیان کی گئی۔ لہجے کا اتار چڑھاؤ، اور خود کلامی کی کیفیت نے الفاظ کو الگ الگ اکائیوں میں تقسیم کردیا ہے، پھر کوئی آیا؟ کا استفہامیہ انداز، دلِ زار، کا تخاطب ،نہیں ، میں شک و شبہے کی کیفیت اور ’کوئی نہیں‘، میں شک و شبہے کو قدرے حتمی بنانے پر اصرار ،محض ایک مصرعے میں آواز اور لہجے کے چارنشیب و فراز اور امید و بیم کی ساری کیفیت کو اپنے اندر سمیٹ لینے کا انداز موجود ہے۔ دوسرے مصرعے میں ’راہرو ہوگا‘۔ اور ’کہیں اور چلا جائے گا‘۔ کا ایک بیان لہجے کے اعتبار سے دو تاثرات میں منقسم ہے۔ راہ رو ہوگا، میں ایک لا تعلقی ہے، جو کہیں اور چلا جائے گا، کی مایوس کن کیفیت سے ہم آہنگ ہو کر احساس محرومی کو اور بھی شدید کر دیتی ہے ..... درمیان کے چھ مصرعے ’’اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو‘‘کی خود کلامی پر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ اس خود کلامی کے ساتھ مایوسی اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ جاتی ہے..... ان تمام مصرعوں میں اس طرح دل پر وارد ہونے والی کیفیات اور احساسات کو خارجی حوالوں کی مدد سے نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جس کے باعث نظم کے بیان اور شاعر کے کردار میں ایک ایسا معروضی فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے جو پورے تجربے میں تعمیم کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ ایک ایک بیان مظہر یا معروض کا بیان نہ ہو کر اس کے وسیلے سے قلبی واردات کو مجسم پیکروں کی شکل میں بدل دیتا ہے۔ خارجی صفات کو داخلی کیفیات کی عقدہ کشانی کے لیے استعمال کرنا، صفت منتقلہ کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ چنانچہ راست انداز اختیار کرنے کے بجائے، فیض احمد فیض، معروض کو موضوع کا نعم البدل بناکر پیش کرتے ہیں ۔ اور اس طرح گمان اور احتمال سے شروع ہونے والا سفر یاس و حرماں کے استحکام تک کا سفر بن جاتا ہے..... نظم کے آغاز میں ’پھر کوئی آیا‘ کہہ کر جس طرح پہلے سے موجود امیدو بیم کی کیفیت کے تسلسل کو ’پھر‘ کے لفظ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ تسلسل نظم کے اختتام ’’اب یہاں کوئی نہیں ، کوئی نہیں آئے گا‘‘ کے ساتھ ایک مکمل اور طے شدہ مایوسی سے ہم کنار ہو جاتا ہے نظم کے آغاز اور اختتام ، میں لہجے کا جوغیر یقینی اور پھر یقینی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس سے تنہائی کے آغاز ،ارتقاء اور اختتام کے پس منظر میں نظم کی ہیئتی وحدت، منطقی تکمیل تک پہنچ جاتی ہے۔

    ’ تنہائی‘ اور ’انتظار‘، جیسی نظموں کے ساتھ اگر فیض کی نظم ’یاد‘  کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ تقابلی جائزہ مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ ’انتظار‘ اور ’تنہائی‘ کے تلازمات میں سے ایک اہم تلازمہ یاد بھی ہے جس کے محرکات ہمیں انتظار، اور تنہائی، دونوں نظموں میں دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی نظم ’یاد‘ میں فیض احمد فیض متذکرہ دو نظموں کے برخلاف اپنے گرد تصورات اور التباسات کی ایک ایسی دنیا تعمیر کر لیتے ہیں جو محبوب کے وصال کا فریب ہوتے ہوئے بظاہر وصل کی رات کے آنے کا مژدہ بن جاتی ہے ۔

    دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں

    تیری آواز کے سایے ترسے ہونٹوں کے سراب

     دشتِ تنہائی میں دوری کے خس و خار تلے

     کھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب

    تین بند مشتمل اس نظم کے ابتدائی بند میں جہاں دشت تنہائی کا لفظ اپنے آپ میں ایک استعاراتی ترکیب ہے وہیں لرزاں ہونے کی مناسبت سے ’آواز کے سایے‘ اور ’ہونٹوں کے سراب‘ میں ایک طرف سماعی پیکروں کو بصری پیکروں سے ہم آمیز کرنے کی ایسی امیجری ملتی ہے جس میں ایک سے زیادہ حو اس کو بیک وقت متحرک کرنے کی صلاحیت ہے ۔ اور دوسری طرف ان دونوں پیکروں میں التباس کی کیفیت قدرے نامانوس استعاروں کے ذریعے واضح کی گئی ہے ۔ تیسرے اور چوتھے مصرعے میں دوری کے خس و خار تلے محبوب کے پہلو کے سمن اور گلاب کا کھلنا ، اس بات کا اشاریہ ہے کہ ’یاد‘ نے شعر کے ہجر کو وصل کا نعم البدل بنانے کی بنیاد قائم کردی ہے۔ اسی باعث ، بعد کے بند میں قربت ، سانس کی آنچ اور دلدار نظر کی شبنم کا ذکر، ہجر و وصال کے قصے کو ختم کرتا ہو امعلوم ہوتا ہے۔ چوتھے بند میں پیکروں کا انداز بدلا ہوا ہے۔

    اس قدر پیار سے اے جانِ جہاں رکھا ہے

     دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہاتھ

    یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق

    ڈھل گیا، ہجر کا دن آبھی گئی وصل کی رات

     دل کے رخسار پہ  مجوب کی یاد کا ہاتھ رکھنا، کچھ ایسا دور ازکار پیکر ہے جو پہلی نظر میں مانوس نہیں معلوم ہوتا۔ مگر یہ پیکر پوری نظم کے مزاج سے ہم آہنگ بھی ہے اور ابتدائی مصرعوں میں ’آواز کے سائے‘ اور ’ہونٹوں کے سراب ‘سے جو مخلوط پیکروں کا نظام قائم کیاگیا تھا، یہ بیان اس کی توسیع بھی کرتا ہے اور اپنے مخصوص تناظر میں موثر بھی بن جاتا ہے .....یاد، کو تنہائی کے پایے  کی غیرمعمولی نظم تو یقینا ً قرار نہیں دیا جاسکتا ۔لیکن ارتقائے خیال، نمو کی کیفیت اور تمام مصرعوں کانظم کی کلیت میں ناگزیر طور پرضم ہو جانے کے باعث یہ نظم بھی فیض کی ممتاز نظموں میں شمار کیے جانے کے قابل ٹھہرتی ہے۔

    اب تک جن نظموں کے حوالے سے فیض کی نظم گوئی کے بعض امتیازات متعین کیے گئے ہیں وہ اپنے غالب تاثر کے اعتبار سے رومانی نظموں کے خانے میں رکھی جانی چاہئیں۔ تاہم جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ فیض نے کثرت سے ایسی نظمیں کہی ہیں جن میں ان کے سماجی آدرش اور ترقی پسند تصورات کا واضح اظہار ہوا ہے۔ البتہ اس نوع کی نظموں میں ایسی نظمیں کم ہیں جن میں فکر اور فن کا متوازن امتزاج موجود ہو۔ ایسی نظموں میں ہم لوگ ،بول ،کتے، صبح آزادی، اور ’آج بازارمیں پابجولاں چلیں ‘کو امتیاز حاصل ہے۔ لیکن اس ضمن میں بھی فیض کا امتیاز یہ ہے کہ دوسری موضوعاتی نظموں کے برخلاف انہوں نے ان نظموں میں وقتی اور اضطراری مسائل اور چیخ و پکار کی سطح تک پہنچ جانے والی بلند آہنگی سے احتراز کیا ہے۔ اس لیے کہ وہ وقتی طور پر فیشن بن جانے والے ترقی پسند موضوعات کے مقابلے میں آفاقی قدروں کے حامل سماجی مسائل اور موضوعات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ شاید اسی باعث سجاد ظہیر نے’ زنداں نامہ‘ کا دیباچہ لکھتے ہوئے تحریکی وابستگی کے ساتھ فیض کی ہمہ گیری کو بھی تسلیم کیا تھا:

    ’’جہاں تک اُن اقدار کا تعلق ہے جن کو شاعر نے ان (نظموں) میں پیش کیا ہے وہ تو وہی ہیں جو اس زمانے میں تمام ترقی پسند انسانیت کی اقدار ہیں لیکن فیض نے ان کو اتنی خوبی سے اپنایا ہے کہ وہ نہ تو ہماری تہذیب و تمدن کی بہترین روایات سے الگ نظر آتی ہیں اور نہ شاعر کی انفرادیت ، اس کا نرم، شیریں اور مترنم انداز کلام کہیں بھی ان سے جدا ہوتا ہے۔ اگر تہذیبی ارتقاء کا مطلب یہ ہے کہ انسان مادی اور روحانی عسرت سے نجات حاصل کر کے اپنے دلوں میں گداز، اپنی بصیرت میں حق شناسی اور اپنے کردار میں استقامت ورفعت پیدا کریں۔ تو غالباً فیض کا کلام ان تمام تہذیبی مقاصد کو چھولینے کی کوشش کرتا ہے۔“

    اس پس منظر میں اگر فیض کی ایسی نظموں کو ان کا طرۂ امتیاز تصور کیا جائے جن کو سجاد ظہیر نے ہماری تہذیب و تمدن کی بہترین روایات اور اقدار کا نام دیا ہے تو کھرے اور کھوٹے کی پرکھ کا صحیح معیار متعین کیا جاسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ تہذیبی اور فکری حوالوں نے فنی ارتفاع بھی حاصل کر لیا ہو۔ دُنیا میں ایسے عینیت پسند باغیوں کی کمی نہیں جو انقلاب کے عزم کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں، مگر ان کا انجام بالآخر اضمحلال ، مفاہمت ، اور سرد مہری کی صورت میں ہوتا ہے۔ فیض کی بعض نظمیں جن میں عدم تحرک ، انفعالیت اور احتساب ذات ،کا احساس اجاگر کیاگیا ہے۔ ان میں ’ہم لوگ‘ ایک اہم اور ممتاز نظم ہے۔ اس نظم کا امتیاز اس بات  میں مضمر ہے کہ سماجی ذمہ داریوں پر اصرار اور حرکت و عمل کی ترغیب بھی اس نظم میں بلند آہنگی کی صورت اختیار نہیں کرتی۔ یہ نظم ان تمام لوگوں کے لیے اپنے منفعل رویوں اور معاشرتی لاتعلقی پر نظرثانی کی محرک ہے۔ جن کی بغاوت، مفاہمت اور سمجھوتے کی راکھ کے تلے دبی سسک رہی ہے..... دل کے ایوانوں میں گل شدہ شمعوں کی قطار لیے ہونا، نور خورشید سے سہما اور ڈرا ہوا ہونا۔ اپنی تاریکی سے ہم آغوش رہنا ۔ ساعت امروز یا موجودہ زندگی کی بے رنگی کاشا کی ہونا ۔ اپنے ماضی کی ہزیمتوں سے اداس، اور مستقبل کی دہشت سے خوفزدہ ہونا۔ یہ تمام کیفیات ، خود احتسابی کی ایک ایسی منزل پر پہنچ جاتی ہیں کہ یہ نظم خودکلامی ہوتے ہوئے اپنے ضمیر، احساسِ انا ، اور عزت نفس کے لیے بہت سے سوالات سامنے لاکھڑا کرتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان آخری مصرعوں میں.... .

     اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلنا ہی نہیں

     دل کے تاریک شگافوں سے نکلتا ہی نہیں

     اور اک الجھی ہوئی موہوم سی در ماں کی تلاش

    دشت و زنداں کی ہوس چاک گریباں کی تلاش

    پوری نظم جامع ہو کر سمٹ آئی ہے ۔ ان مصرعوں میں درد کا گیت میں ڈھلنا ، یا دل کے تاریک شگافوں سے نکلنا ، یا در ماں کی تلاش یادشت و زنداں کی طلب میں دیوانگی اختیار کرنا، سارے کے سارے امیج در حقیقت حرکت و عمل اور معاشرتی ذمہ داری کے داعیہ کے طور پر سامنے آئے ہیں مگر لہجہ اتنا سجل، محتاط ، مہذب اور دھیما ہے کہ فیض کے اکثر ترقی پسند نقادوں نے اس نظم کی حرکیات کی صحیح داد ہنوز نہ دی ۔ انتہا پسندی کے عہد میں سماجی ذمہ داریوں اور وابستگی کے نام پر انقلاب ،بغاوت، گرفتاری ،نعرے بازی اور بلند آہنگ اعلانات کو کچھ اس طرح ترقی پسندی کا نعم البدل مجھ لیاگیا تھا کہ فیض جیسے شائستہ لہجے اور دھیمی آواز کے شاعروں کی بھی نسبتاًکم تراور اکہری نظموں کو ہی ترقی پسندی کا نمونہ قرار دیا جاتارہا۔

    فیض احمد فیض کے یہاں متعدد نظمیں ایسی ملتی ہیں جو اوپری سطح پر سماجی نہیں معلوم ہو تیں مگر استعارے کی سطح پر اور کبھی تمثیلی انداز میں ، وہ اپنے سماجی آدرش کا احساس ضرور دلا دیتے ہیں کُتے ان کی ایک ایسی ہی نظم ہے۔ پہلی نظم میں یہ پوری نظم بہت واضح ، براہ راست اور قدرے بلند آہنگ معلوم ہوتی ہے۔ مگر ہیئت کے اعتبار سے خیال کے ارتقاء اور موضوع پر ارتکاز نے اسے ایک مکمل فن پارہ بنا دیا ہے، جو فیض کا شاہکار تو نہیں مگر فیض کے اسلوب کو سمجھنے میں اس سے مدد ضرور لی جاسکتی ہے ۔نظم میں جگہ جگہ استعارے اور سلامت کا استعمال نہیں بلکہ پوری نظم ایک استعارہ ہے جو احساس ذلّت، مظلومیت ، استحصال اور سوئی ہوئی انا کی بازیافت کی خاطر ’کتے‘کے مزاج اور ردعمل کے پر دے میں اپنے مفہوم کی ترسیل کرتی ہے ۔

    یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

     تو انسان سب سرکشی بھول جائے

     کوئی ان کو احساسِ ذلت دلا دے

     کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلادے

    جب فیض کی ایسی نظموں کا ذکر چل نکلا ہے جو ان کی معاشرتی وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں تو یہ وضاحت خارج از بحث نہ ہوگی کہ اس نوع کے موضوعات پر فیض کی کھلے دُھلے اسلوب کی نظموں کے مقابلے میں محض وہ نظمیں فنی طور پر کامیابی سے ہم کنار ہو سکی ہیں جن میں انہوں نے بالواسط طرز تخاطب اختیار کیا ہے۔ یا پھر تا ثر کی شدت کی خاطر دوسرے معروض کے حوالے سے اپنا مدعا پیش کرنے کی تکنیک اپنائی ہے۔ اس اسلوب کی ایک اہم نظم ’بول‘ ہے جس کے ابتدائی مصرعوں میں جو باتیں بیانیہ انداز میں کہی گئی ہیں۔ ان ہی باتوں کومزید موثر بنانے کے لیے بعد کے مصرعوں میں تمثیل کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔

    بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

    بول ، زباں اب تیری ہے

    تیر استواں جسم ہے تیرا

     بول ،کہ جاں اب تیری ہے

    ان چار مصرعوں میں شاعر کا اکہرا اسلوب ِاظہار، بیان کی سطح سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ مگر جب وہ بعد کے چند مصر عوں میں ایک ایسا تمثیلی منظر نامہ تیار کرتے ہیں جو ہر طرح کے جبر، حبس کی کیفیت، اور زباں بندی کے برخلاف آزادی ، اختیار اور کھلی فضا کی تجسیم کرتا ہے ، تو پتہ چلتا ہے کہ شاعر نے متوازی طور پر بیانیہ شاعری اورشاعرانہ بیان کو اس طرح خلط ملط کر دیا ہے کہ ابتدائی مصرعوں کے بیانات بھی پوری نظم کی تمثیلی وحدت میں ڈھل جاتے ہیں۔

    دیکھ ، کہ آہن گر کی دکاں میں

     تند ہیں شعلے، سرخ ہے آہن

    کھلنے لگے قفلوں کے دہانے

     پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

    اب اس طرح کےتمثیلی مصرعوں کے بعد نظم کے وضاحتی مصرعے :

    بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے

     جسم و زبان کی موت سے پہلے

    بول ، کہ سچ زندہ ہے اب تک

    بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

    نہ  تو غیر فطری معلوم ہوتے ہیں اور نہ محض سپاٹ بیان کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے کہ ابتدا اور وسط میں دو اسالیب اظہار کو مربوط کرکے ایک ایسا منظر نامہ تیارکیاگیا ہے جس کا منطقی انجام، نظم کو ایک اکائی بنائے رکھتا ہے اور تاثر میں اضافے کا وسیلہ بھی بن جاتا ہے ۔

    فیض کی نمائندہ نظموں میں ’آج بازار میں پابجولاں چلو‘ کو خاص اہمیت دی جاتی ہے ۔ مگر ’ہم لوگ‘اور ’بول‘ جیسی نظموں کے مقابلے میں اس نظم کی بلند آہنگی فیض کی امتیازی شان نہیں بن پاتی ..... اس نظم میں موجود ’’تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں‘‘ چشم نم، جان شوریده کافی نہیں “ جیسے مضامین کا جتنا بھر پور اور طاقت وراظہار ’ہم لوگ‘ اور ’بول‘ میں ہوا ہے ، اس کے مقابلے میں یہ مضامین ’’آج بازار میں پابجولاں چلو‘‘ میں تکرار، تلقین اور تحریک بن کر رہ جاتے ہیں ویسے اس پس منظر میں اگر فیض کی نظم ’صبح آزادی‘ کا ذکر نہ کیا جائے تو نا انصافی ہو گی۔ نصف صدی گزرنے کے باوجود ’صبح آزادی‘  کا ہمارے اجتماعی حافظے میں گونج کی صورت باقی رہنا ، اور امتداد وقت کے باوجود ایک اہم نظم کی حیثیت سے حوالہ بنے رہنا ، اپنے آپ میں سردار جعفری کے اس فیصلے کی تردید ہے جو انہوں نے اس نظم کے استعاراتی اور سیال اسلوب کے خلاف صادر کیا تھا۔ ’صبح آزادی‘ کے اجالے کو داغ داغ ،اور سحرکو ’شب گزیدہ کہہ کر جس شکستِ التباس کا تصور دیا گیا۔ ہے اس کا نقطۂ عروج اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا۔

    کہاں سے آئی نگار صبا، کدھر کو گئی

     ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبرہی نہیں

     ابھی گرانیِ شب میں کمی نہیں آئی

     نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی

     چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

    فیض کی متذکرہ اعلیٰ اور اوسط درجے کی نظموں کے اس جائزے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مزاج کے ضبط و توازن نے انہیں اکثر اکہرے اور سپاٹ اسلوب بیان سے کس حدتک محفوظ رکھا ہے۔ لہجے کے اتار چڑھاؤ ، فضا آفرینی کی خوابناک کیفیت ، رچاؤ اور بیان کی شگفتگی نے فیض کی نظموں میں جس توازن اور فضا کو قائم رکھا ہے اسے اردو کی کلاسیکی شاعری کی بلند پایہ فنی  قدروں کے تسلسل کے علاوہ اور کیا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اپنی مخصوص لفظیات اور تراکیب کے باعث فیض کا مطالعہ کرتے وقت جس تکرار اور یکسانیت کا احساس ہونے لگتا ہے وہ ان کی ایسی مجبوری ہے جس سے وہ ’’نقش فریادی‘‘ اور ’دستِ صبا ‘کے بعد کی شاعری میں اپنے آپ کو آزاد نہ کر سکے۔ ’نقش فریادی‘ اور ’دست صبا‘ کی نظموں اور غزلوں میں بلاشبہ بعض کلاسیکی شعراء بالخصوص غالب کی گونج سنائی دیتی ہے۔ مگر یہ بات بھی اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ ان ہی دونوں مجموعۂ کلام میں فیض کی ساری شاعرانہ صلاحیتیں ابھر کر سامنے آگئی تھیں ۔ اور چوں کہ ان کے موضوعات اور تجربات کا دائرہ خاصا محدود تھا، اس لیے پیرایۂ اظہار کی رنگارنگی اور غنائیہ لہجہ یا پھر تحت البیان کے اسلوب کے باوجود ترقی پسند شاعروں میں تو ان کا امتیاز قائم رہامگر جیساکہ پہلے عرض کیاگیا کہ وہ اپنے بعض بلند پایہ معاصر نظم نگاروں کے تنوع اور کینوس کی وسعت تک نہ پہنچ پائے۔ تاہم یہ کوئی کم اہم بات نہیں کہ ترقی پسند فکرسے وابستہ رہ کر ترقی پسند جمالیات کی تشکیل کرنے والوں میں ان کی انفرادیت کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ..... فیض کا امتیاز بھی کوئی معمولی امتیاز نہیں کہ بیسویں صدی کے شعراء میں اقبال کے علاوہ کوئی اور ایسا شاعر نظر نہیں آتا جس نے اپنے بعد کی نسل پر اتنے گہرے اثرات چھوڑے ہوں اور جس کے اسلوب کا تتبع ایک عام رجحان بن گیا ہو ۔