دلاور فگار

دلاور فگار

شادی کے خط میں تھا جو خلا یاد آ گیا

    شادی کے خط میں تھا جو خلا یاد آ گیا

    بالکل غلط لکھا تھا پتا یاد آ گیا

    جوتے کے انتخاب کو مسجد میں جب گئے

    وہ جوتیاں پڑیں کہ خدا یاد آ گیا

    اس شوخ کے ولیمہ میں کھا کر چکن پلاؤ

    کنکی کے چاولوں کا مزا یاد آ گیا

    مطلع پڑھا جو اس نے رجسٹر نکال کر

    پورا طلسم ہوش ربا یاد آ گیا

    ہم بھی کبھی وزیر تھے کاہے کے تھے وزیر

    ہم تھے وزیر آب و ہوا یاد آ گیا

    سوچا تھا آدمی کا قصیدہ لکھیں گے ہم

    مطلع کہا ہی تھا کہ گدھا یاد آ گیا