بمبئی
وسکی وسولن کا آبائی وطن ہے بمبئی
لندن و پیرس کی سوتیلی بہن ہے بمبئی
مختلف دولھے ہیں جس کے وہ دلہن ہے بمبئی
فلم و علم عشق کی ایک انجمن ہے بمبئی
بمبئی جس نے بسایا وہ بڑا استاد تھا
ورلڈ کا جغرافیہ اس کو زبانی یاد تھا
بمبئی میں عشق فرمایا ہے بہت آسان ہے
اس تجارت میں منافع کا بہت امکان ہے
عشق والوں کا یہاں میدان ہی میدان ہے
بمبئی کا بچہ بچہ ماہر رومان ہے
وہد اول وصل کا پیغام ہوتی ہے یہاں
حسن کی دوشیزگی نیلام ہوتی ہے یہاں
اپنا اپنا مارکیٹ ہے اپنا اپنا ریٹ ہے
شیخ جی بکتے رہیں ایسا ہے ویسا ہے خدا
بمبئی والے یہ فرماتے ہیں پیسہ ہے خدا
عشق کے میداں میں یاں گھوڑے بھی ہیں سائیں بھی
عقل کی محفل میں یاں جبریل بھی ابلیس بھی
حسن کے بازار میں یاں تھا ن بھی کٹ پیس بھی
چار سو بیسیوں کے لیڈر آٹھ سو چالیس بھی
کیا بتاؤں میں تمہیں اس شہر کا جغرافیہ
بمبئی ہے اک غزل گڑبڑ ہے جس کا قافیہ
حسن یاں ہنس ہنس کے کہتا ہے کہ میخانے میں چل
عشق کہتا ہے کہ مس چھمو کے کاشانے میں چل
وحشت دل کا تقاضہ ہے کہ ویرانے میں چل
اور پولیس کہتے ہی میرے ساتھ آتھانے میں چل
جیب کہتی ہے ابے الو یہاں سے بھاگ جا
یا بدایوں کا ٹکٹ لے سوئے پریاگ جا
دل کو بہلانے یہاں تم کھیل میں جاؤ تورش
سنٹرل سے باندرہ تک ریل میں جاؤ تورش
چھوڑ کر جنتا کو پونا میل میں جاؤ تورش
قوم کی خدمت کے بدلے جیل میں جاؤ تورش
ہے یہاں یہ حکم ہر مجبور وبیکس کے لیے
صبح سے لائن لگا دو شام کی بس کے لیے
ہے یہاں اک مرحلہ ایسا جوسرہوتا نہیں
یعنی گھر والی تو ہو جاتی ہے گھر ہوتا نہیں
بام ہوتا ہے اگر گھر میں تو در ہوتا نہیں
یعنی گھر معلوم ہوتا ہے مگر ہوتا نہیں
ایک شوہر ایک بیگم ایک بھاوج ایک نند
بے تکلف ایک ہی کھولی میں ہو جاتے ہیں بند
گفتگو میں بھی یہاں اک خاص انداز عوام
ہم بروبربات کرتا ہے اپن جھوٹا نہیں
تم تو بنڈل پھینکتا ہے مال ابھی چھوٹا نہیں
بمبئی میں سینکڑوں علمی و فلمی شخصیات
وہ ایڈیٹر جن کے ہاتھوں میں نظام کائنات
وہ پروڈیوسر کے جن کے جام میں آب حیات
اور وہ شاعر کہ جن کی شاخ آہو پر برات
یاں دلیپ وراج ہیں نوشاد ومحمود ولتا
ان سے ملنا ہوتو پہلے بھول جا اپنا پتا
بمبئی میں عام ہے ہر جنس کا بہتر بلیک
آرزو کا وقت کا سنگم کا لیڈر کا بلیک
یاں شکیل و ساحر ومجروح واختر کا بلیک
جعفری تو جعفری ٹھہرے ،مظفر کا بلیک
دیکھ کر اس شہر کے انداز دل حیران ہے
بمبئی کا ہے کو ہے پورا جمالستان ہے