دکھ
-
دیوار کی اوٹ سے نکلا میری طرف بڑھا اور میرے اندر اتر گیا میں ہنس پڑی اندھے کنویں میں اتر کر دکھ رونے لگا دکھ اور بھی دکھی ہو گیا اب اندھیرے میں ٹکریں مارتا ہے کرب سے چیختا ہے میں دکھ کی حالت پر ہنستی ہوں اور دکھ اور بھی دکھی ہو جاتا ہے!