بیت اللہ
پہلا وہ گھر خدا کا
مکہ مکرمہ کی دینی عظمت اور تاریخی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ خالق کائنات نے اس کو اپنے سب سے مقدس گھر خانہ کعبہ کے لیے چنا، اسی مبارک شہر کو سیدنا اسمٰعیل و سیدہ ہاجرہ علیہم السلام کا مسکن قرار دیا، بے شمار حضرات انبیاء علیہم السلام، اولیاء عظام اور صالحین نے اس بیت اللہ کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھا، یہیں پر وہ مسجد حرام ہے جس میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں سے زیادہ ہے۔ اسی شہر کو نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہیں پر زمزم کا کنواں ہے۔ یہاں بہت سے تاریخی مقام ایسے ہیں جن کی عظمت نے اس شہر کی اہمیت کو دوچند کر دیا ہے
مکہ مکرمہ کا محل وقوع:
مکہ مکرمہ سلطنت سعودی عرب کی مغربی سمت سرزمین حجاز کی ایک ایسی وادی کے دامن میں واقع ہے جس کے چاروں طرف پہاڑ ہیں، مکہ مکرمہ کا ہموار نشیبی علاقہ ’’بطحاء‘‘ کے نام سے موسوم ہے، جب کہ مسجد حرام کے مشرقی حصہ کو ’’معلاۃ‘‘ (بلند جگہ) کہا جاتا ہے، مغربی اور جنوبی سمت کا علاقہ ’’مسفلہ‘‘ (نشیبی زمین) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اہل معلاۃ میں سے تھے۔ آپ کی جائے پیدائش ہے اور وہیں پر آپ ہجرت سے پہلے تک قیام پذیر رہے۔ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے تین بنیادی راستے معلاۃ، مسفلہ اور شبیکہ ہیں۔ اس کا عرض بلد١٩،ً٢٥ ً شمالاً اور طول بلد ٤٦،ً ٣٩ ً شرقاً ہے سطح سمندر سے اس کی بلندی تین سو میٹر سے زیادہ ہے، یہ کرۂ ارضی کا درمیانی مقام ہے۔
فضائل مکہ مکرمہ:
اللہ تعالیٰ نے اس پاکیزہ شہر کو اپنے گھر کے لیے منتخب فرمایا، اسی شہر میں موجود بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا گیا۔ یہی وہ با عظمت شہر ہے جس کی حرمت کی قسم رب ذوالجلال نے دو مرتبہ کھائی ہے جس کا ذکر سورۂ بلد اور سورۂ تین میں ہے۔
تعمیر قریش:
قریش نے سن ہجری سے ١٨ سال قبل بیت اللہ کو تعمیر کیا۔ تعمیری بجٹ کم پڑ گیا اور چاروناچار حطیم کی جانب بیت اللہ کے تقریباً تین میٹر حصہ کو تعمیر میں شامل نہیں کیا اس تعمیر سے پہلے کعبہ کی چھت نہیں تھی قریش نے چھت کا اضافہ کر دیا۔ اس چھت میں ایک پرنالہ بھی لگایا گیا جو حطیم کی جانب گرتا ہے اسے عرف عام میں ’’میزابِ رحمت‘‘ کہتے ہیں۔ اس تعمیر میں خانہ کعبہ کی عمارت کی بلندی ٦٤، ٨ میٹر کر دی گئی جب کہ سابقہ بلندی صرف ٣٢، ٤ میٹر تھی۔ اس عمارت کی شکل معکب کی سی ہے اس لیے اسے کعبہ کہتے ہیں۔
سعودی دور حکومت میں کعبہ کی تجدید و ترمیم:
کعبہ کی بلندی: ١٤ میٹر، ملتزم کی سمت لمبائی:٨٤، ١٢ میٹر، حطیم کی سمت لمبائی: ٢٨، ١١ میٹر، رکن یمانی اور حطیم کی سمت لمبائی: ١١، ١٢ میٹر، رکن یمانی اور حجر اسود کی سمت کی لمبائی: ٥٢، ١١ میٹر
حجر اسود:
یہ پتھر کعبہ شریفہ کے جنوبی حصہ میں نصب کیا گیا ہے، صحن (مطاف) سے اس کی اونچائی ١٠، ١میٹر ہے، لمبائی ٢٥ سینٹی میٹر اور عرض تقریباً ١٧ سینٹی میٹر ہے۔
ملتزم:
حجر اسود والے کونے اور خانہ کعبہ کے دروازہ کی درمیانی جگہ کو ملتزم کہتے ہیں یہ حصہ تقریباً دو میٹر ہے۔
حطیم:
حطیم سے مراد بیت اللہ سے ملحق وہ جگہ ہے جو نصف دائرے کی شکل میں ہے اس کو حجر اسمٰعیل بھی کہا جاتا ہے اس لیے کہ حضرت ابراہیم ؑنے خانہ کعبہ کے پاس حضرت اسمٰعیلؑ اور ان کی والدہ کے لیے ایک جھونپڑی نما سائبان بنا دیا تھا۔
میزابِ رحمت:
یہ ایک پرنالہ ہے جو کعبہ کی چھت پر لگا ہوا ہے اس کے ذریعہ بارش کا پانی یا چھت کی دھلائی کا پانی حطیم کی سمت گرتا ہے۔
کعبۃ اللہ کا اندرونی منظر:
کعبہ شریف میں لکڑی کے تین ستون ہیں جن پر چھت ہے، ان کا قطر ٤٤ سینٹی میٹر ہے ہر دو ستون کا درمیانی فاصلہ ٣٥، ٢ ہے دروازہ کے سامنے ہی ایک محراب ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ محراب عین اس جگہ پر بنا ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا فرمائی تھی۔
خانہ کعبہ کی چھت:
زمانہ دراز تک کعبہ شریف کی عمارت بغیر چھت کے تھی، قریش نے اپنی تعمیر میں سب سے پہلے چھت بنائی، اور اب تو دو چھتیں ہیں ایک اوپر اور دوسری اس کے نیچے، کعبۃ اللہ کا فرش سفید سنگ مرمر سے بنایا گیا ہے۔ چھت میں ایک سوراخ ہے جس کا طول و عرض ٦٧، ١ ٤، ١ میٹر ہے۔
کعبہ شریف کا دروازہ:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبۃ اللہ کی تعمیر فرمائی تو کعبہ کے دو دروازے زمین کے برابر بنائے تھے لوگ مشرقی دروازہ سے داخل ہوتے اور مغربی دروازہ سے باہر آجاتے، واضح رہے کہ دونوں دروازوں پر کوئی ایسی چیز نہ تھی کہ ان کو بند کیا جا سکے تاآنکہ یمن کے ایک بادشاہ اسعد تبع ثالث نے ایک پٹ کا دروازہ لگوا دیا جو بوقت ضرورت کھولا اور بند کیا جاتا تھا۔ قریش نے جب کعبہ شریف کی تعمیر کی تو اس میں مغربی سمت کا دروازہ بند کردیا ، اور مشرقی دروازہ کو زمین سے بلند کرکے دو پٹ کا دروازہ لگایا۔
غلافِ کعبہ:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرات خلفاء رضی اللہ عنہم نے اپنے اپنے دور میں کعبہ شریف کو غلاف پہنایا سنہ ٦٥٦ھ / ١٢٥٨ء میں خلافت عباسیہ کا دور ختم ہوا تو غلاف کعبہ مصر یا یمن سے آتا تھا تاآنکہ سلطان اسمٰعیل قلادون نے قاہرہ کے اطراف میں تین بستیوں کی آمدنی غلاف کعبہ کے لیے وقف کی تو صرف مصر سے تیار ہو کر آنے لگا۔
مطاف:
اس سے مراد بیت اللہ شریف کے چاروں طرف کھلا ہوا صحن ہے جس میں طواف کعبہ کے چکر لگائے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے سب سے پہلے اس طواف کی جگہ کو پختہ بنایا جس کا عرض تقریباً ٥ میٹر تھا، اس کے بعد بھی اس کی توقع ہوتی رہی یہاں تک کہ ١٣٧٥ھ میں ٤٠ سے ٥٠ میٹر کی وسعت دے کر مطاف کو گول دائرہ کی شکل میں بنا دیا گیا۔ مطاف میں ایسا عمدہ پتھر لگایا گیا ہے جو ٹھنڈا رہتا ہے اور دھوپ کی تپش اس پر اثر انداز نہیں ہوتی نتیجتاً طواف کرنے اور شدید سے شدید دھوپ میں بھی ننگے پاؤں طواف کر سکتے ہیں۔
مطاف میں زمزم کے تہہ خانہ کی دیواریں اژدحام کے وقت طواف کرنے والوں کے لیے رکاوٹ بنتی تھیں لہٰذا تہہ خانے میں داخلہ کی جگہ کو مسعیٰ سے باہر مشرقی صحن میں منتقل کرنا زیرغور ہے۔ اس سے مطاف میں مزید وسعت ہو جائے گی۔
مقامِ ابراہیم:
مقامِ ابراہیم سے مراد وہ مبارک پتھر ہے جس کو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کعبۃ اللہ کی تعمیر کے وقت اٹھا کر لائے تھے تاکہ اس پر کھڑا ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کی دیواریں اوپر اٹھائیں ، دورانِ عمیر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پتھر دیتے جاتے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے دست مبارک سے پتھروں کو رکھتے جاتے، اور جیسے جیسے تعمیر اوپر اٹھتی جاتی ’’مقامِ ابراہیم‘‘ بھی بلند ہوتا جاتا۔
زمزم کا کنواں:
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو لے کر مکہ مکرمہ تشریف لائے تو کچھ پانی اور کھجور کا توشہ ان کو دے کر واپس چلے گئے، جب یہ توشہ ختم ہوا اور ماں بیٹے پیاس سے بیتاب ہو گئے، تو حضرت ہاجرہ علیہا السلام صفا پہاڑی پر اس غرض سے چڑھیں کہ شاید کوئی آدم زاد نظر آجائے اور ہمیں پانی فراہم کر سکے، جب کوئی نظر نہ آیا تو مروہ پہاڑی کی جانب گئیں اس پر چڑھ کر نظریں دوڑائیں کہ شاید کوئی نظر آجائےمگر کوی نظر نہ آیا اسی پریشانی کے عالم میں صفا، مروہ کے درمیان چکر لگاتی رہیں ساتویں بار مروہ پر تھیں کہ ایک آواز سنائی دی آکر دیکھا تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے پیروں کے قریب پانی موجود تھا۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو پانی پلایا اور پھر اپنی پیاس بجھائی۔
صفا، مروہ اور مسعیٰ:
کوہِ صفا: یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس سے حج و عمرہ کے اہم رکن سعی کا آغاز کیا جاتا ہے، یہ جنوب مشرق سمت میں واقع ہے، اور کعبۃ اللہ سے اس کا فاصلہ ١٣٠ میٹر ہے۔ اس پہاڑی پر ایک گنبد نما چھت بنائی گئی ہے، قرآن پاک میں اس کا ذکر موجود ہے۔ (سورۃ بقرہ، آیت نمبر ١٥٨)
مروہ:
یہ بھی ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے، اس کے پتھر کا نام مروہ ہے، جو مائل بسفیدی اور نہایت سخت ہوتا ہے کعبہ شریف کے رکن شامی سے اس کا فاصلہ تقریباً تین سو میٹر شمال مشرق جانب ہے۔ اس کے پاس آ کر سعی کی انتہا ہوتی ہے، یہ مبارک پہاڑی بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے قرآن میں اس کا ذکر موجود ہے۔ (سورۃ بقرہ، آیت نمبر ١٥٨)
ترکوں کی تعمیر:
٩٧٩ھ/١٥٧١ء میں مسجد حرام کے متصل مدرسہ قایتبائی کے گر جانے کی وجہ سے مسجد کی مشرقی چھت سے شگاف پڑ گیا، اس لیے سلطان سلیمان قانون نے حکم دیا کہ مسجد حرام کی تعمیر نو کی جائے۔ ٩٨٠ھ/ ١٥٧٦ء میں تعمیر اتی کام شروع کر دیا گیا، جس کی تکمیل سلطان سلیمان کے بیٹے سلطان مراد کے زمانہ ٩٨٤ء/ ١٥٧٢ء میں ہوئی یہ تعمیر مطاف کے چاروں سمت ہے اور آج ٤٤٠ سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود قائم ہے۔
١٣٤٤ھ/ ١٩٢٥ء میں شاہ عبدالعزیز نے ایک فرمان جاری کیا، جس میں یہ ہدایت کی گئی، کہ مسجد حرام میں جو بھی اصلاح و مرمت کا کام ہے اس کو بحسن و خوبی انجام دیا جائے، مسعیٰ میں پختہ فرش لگا دیا جائے اور اس کی چھت نئی بنائی جائے مطاف میں موجود تعمیرات کو گرا کر طواف کی جگہ کو کشادہ کر دیا جائے۔ شاہ عبدالعزیز مسجد حرام کی اصلاح و مرمت اور دیگر ضروریات کا بہت خیال رکھتے تھے۔
ادھر مسجد حرام میں صرف پچاس ہزار افراد نماز ادا کر سکتے تھے، ٣٠٦ھ/ ٩١٨ء سے کوئی قابل ذکر توسیع نہیں ہوئی تھی جب کہ آمدورفت کے وسائل کی کثرت ہوائی جہاز، سمندری جہاز، بس، کار وغیرہ کی بہتات کی وجہ سے حج کا سفر آسان ہو گیا، مزید یہ کہ سعودی دور حکومت میں امن و امان قائم ہو چکا تھا۔نتیجتاً حجاج کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا، اور مسجد حرام کی توسیع کی شدید ضرورت پیش آئی، چناں چہ شاہ عبدالعزیز نے ١٣٢٨ھ/ ١٩٤٨ء میں مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع کا عزم ظاہر کیا اور اس کی تیاریاں شروع کر دی گئیں، ابھی تعمیر و توسیع کے منصوبے تیار ہو رہے تھے۔ کہ ملک عبدالعزیز ١٣٧٣ ء میں انتقال فرما گئے۔