تاج محل
مشہور و معروف دانشور و ادیب عبدالرحمٰن بجنوری نے کیا خوب کہا ہے کہ ہندوستان کی تین چیزیں الہام کا درجہ رکھتی ہیں، ہندوؤں کی مذہبی کتاب گیتا ، دیوانِ غالب اور تاج محل۔ واقعہ یہ ہے کہ تاج محل کا خاکہ ابوالمظفر شہاب الدین محمد شاہ جہاں نے خواب میں دیکھا تھا اور اسی کے مطابق اس کی تعمیر ہوئی ہے۔ تاج محل کا عمارت کار اسمٰعیل آفندی بار بارشاہ جہاں کی ہدایت کے موافق لکڑی کے نمونہ میں تبدیلی کر کے لاتا اور شاہ جہاں پھر کوئی نئی بات بتا کر تحیر کر دیتا۔ یہ عمارت جیسا کہ آپ جانتے ہیں شاہ جہاں کی چہیتی بیوی ارجمند با نو ملکہ ممتاز حل کا مقبرہ ہے جو ہندوستان کے شہر آگرہ میں جمنا کنارے آج بھی چار سو سال کے بعد اپنی روایتی خوبصورتی کے ساتھ قائم و دائم ہے اور تمام دنیا اسے ایک ’’عظیم الشان‘‘ عمارت سمجھتی ہے اور اس عمارت کو دنیا کے سات عجائبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر کا قصہ بھی عجیب ہے ۔ .....قصہ کچھ یوں شروع ہوتا ہے کہ .....مرزا غیاث بیگ ایک شخص ایران کے ایک سر بر آوردہ خاندان کا فرد تھا، زمانے نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ وہ اپنی قسمت آزمانے ہندوستان کی طرف سفر کرنے پر مجبور ہو گیا۔ ہندوستان میں اُس وقت نور الدین محمد جہاں گیر کی حکومت تھی، یہ تقریباً 1605 ء سے 1611ء کے درمیان کا واقعہ ہے کیوں کہ 1605ء میں ہی جہاں گیر تخت نشین ہوا ہے۔ مرزا غیاث بیگ نے کسی طرح شاہی خاندان میں رسوخ حاصل کیا اور اس حد تک محنت کی کہ جہاں گیر کی حکومت میں اس کا عمل دخل ہو گیا ، اس نے ایسی حیثیت حاصل کر لی کہ اُسے اعتماد الدولہ کا خطاب حاصل ہوا ۔ جب وہ ایران سے چلا ہے تو اس کے ساتھ دوسرے لوگوں کے علاؤہ ایک بیٹا محمد آصف بیگ اور ایک لڑکی مہر النساء بھی تھی جو غالباً شادی شدہ تھی اور اُس کے شوہر کا نام شیر افگن تھا۔ مغل شہنشاہوں میں رواج تھا کہ عمال حکومت یعنی وزیروں سفیروں کے خواتین و مرد حضرات سال میں ایک دفعہ ایک مینا بازار کسی شاہی باغ میں منعقد کرتے اور تمام خواتین اس میں بے پردہ تشریف لاتیں، جب کہ پردہ کا اس زمانے میں عام رواج تھا۔ ایسے ہی ایک مینا بازار میں جہاں گیر کی نظر مرزا غیاث بیگ کی لڑکی مہرالنساء پر پڑی اور جہاں گیر دل ہار بیٹھا حالاں کہ وہ شادی شدہ تھی۔ اوپر بیان ہوا کہ مہرالنساء کے شوہر کا نام شیر افگن تھا، شیر انگن یا تو اتفاقاً یا کسی سازش کے تحت بنگال کے کسی جنگل میں شیر کے شکار میں ہلاک ہو گیا ، اب جہاں گیر کے لیے میدان صاف تھا ، لہٰذا 1611ء میں جہاں گیر کی شادی مہرالنساء سے ہوگئی اور یہ خاتون ہندوستان کی عظیم ملکہ ’’نور جہاں“ کہلائی۔ .....جہاں گیر کا تیسرا بیٹا خرم تھا جو بعد میں ابوالمظفر شہاب الدین محمد شاہ جہاں کے نام سے مشہور ہوا اور یہی ہمارے قصہ کا ہیرو ہے یعنی ’’تاج محل‘‘ کا خالق۔ جس مینا بازار میں مہر النساء جہاں گیر کی منظور نظر ہوئی تھی اسی باغ میں اس کی بھتیجی اور مرزا آصف بیگ کی بیٹی ارجمند با نو بھی موجود تھی، خرم کی نظرار جمند بانو پر پڑی اور وہی معاملہ پیش آیا جو جہاں گیر کے ساتھ پیش آچکا تھا یعنی خرم ارجمند بانو کے حسن کا اسیر ہو چکا تھا۔ ارجمند بانو کے والد مرزا آصف بیگ کا مزار لاہور میں نورجہاں کے مزار کے قریب ہی واقع ہے۔ آصف بیگ نے جہاں گیر کے وزیر کے درجہ تک ترقی کی اور وہ ابو الحسن آصف خان کہلایا۔ ارجمند بانو اور شہزادہ خرم کی محبت خوب پروان چڑھی، شہزادہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر شاہی رسم ورواج کچھ ایسے تھے کہ یہ شادی نہیں ہو سکتی تھی۔ غالباً مغلوں میں کسی شہزادہ کی پہلی شادی کسی شہزادی سے ہونی ضروری تھی یہی وجہ ہوئی کہ شہزادے کے لاکھ چاہنے کے باوجود جہاں گیر نہ مانا اور سیاسی وجوہات کی بنیاد پر شہنشاہ فارس (ایران) کی بھتیجی سے اُس کا رشتہ طے کر دیا۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ مغل بادشاہ ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے ہندوستان سے ایک وقت میں مار بھگایا تھا، اس موقع پر ہمایوں ایران کی طرف جان بچا کر چلا گیا تھا، یہ شادی اُسی مہربانی کا جواب تھا۔ ایرانی بادشاہ نے اپنی بھتیجی کو بڑے کروفر کے ساتھ رخصت کیا اور وہ شہزادی جس کی شادی خرم سے ہونے والی تھی بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ ہندوستان پہنچی اور شہزادہ خرم کی پہلی بیوی بنی ۔ شہزادہ خرم تو ارجمند بانو کی محبت میں دیوانہ تھا، لہٰذا یہ ملکہ خرم کی محبت کبھی بھی حاصل نہ کر سکی اور اسی کیفیت میں ان کی غالباً علیحدگی ہوگئی کیوں کہ کچھ عرصہ بعد وہ ایران واپس چلی گئی۔ اس سے قبل کہ شہزادہ خرم ارجمند بانو سے شادی کرے، نور جہاں نے پوری کوشش کی کہ خرم کی شادی اُس کی بیٹی سے ہو جائے جو اُس کے پہلے شوہر شیر افگن سے تھی مگر شہزادہ نہ مانا، بعد میں نور جہاں نے اپنی بیٹی کی شادی دوسرے شہزادہ شہر یار سے کر دی اور اس کوشش میں لگی رہی کہ جہاں گیر کے بعد حکومت بجائے شہزادہ خرم کے شہر یار کومل جائے مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا۔ چناں چہ دس مئی 1612ء کو شہزادہ خرم کی شادی ۱۹ سالہ ارجمند بانو سے ہوگئی۔ شہزادہ نے ٹوٹ کر اس سے محبت کی جس کا ارجمند نے بھی بھر پور جواب دیا ۔ 1627ء میں جہاں گیر کے انتقال کے بعد 1628ء میں خرم تخت نشین ہوا اور شاہ جہاں کا لقب اختیار کیا اس طرح اب اس کا پورا نام ابوالمظفر شہاب الدین محمد شاہ جہاں ہوا۔ شاہ جہاں نے اپنی بیوی کو ممتاز محل کا خطاب دیا ، یوں تو شاہ جہاں نے کئی اور بھی شادیاں کیں مگر ارجمند بانو اُن میں ممتاز ہی رہی اور جیسی رفاقت و چاہت ان دونوں میں رہی وہ کسی اور بیوی کے ساتھ کبھی نہ ہوئی۔ ممتاز شاہ جہاں کی نہایت قابل اعتما در فیق تھی ، وہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہر سفر میں ہر مہم پر رہتی تھی ، اس نے پورے ملک کا دورہ کیا اور شہنشاہ کا ہر طرح خیال رکھا۔ اس کے کوئی سیاسی مفادات نہیں رہے، نہ اس نے کبھی درباری معاملات میں دخل اندازی کی ۔ شاہ جہاں اس پر اس قدر بھروسہ کرتا تھا کہ شاہی مہر بھی اس کے پاس رہتی تھی۔ اس نے اپنی سیاسی حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کبھی کوشش نہ کی۔ ممتاز محل نے شاہ جہاں کے ساتھ تقریباً بیس سال گزارے اور اس کے سولہ میں سے چودہ بچوں کی ماں بنی، لیکن اس کے باوجود مغلیہ سلطنت کے طول و عرض میں جنگی مہمات اور مختلف بغاوتوں کے دوران اپنے شوہر کے ہم رکاب رہی۔ وہ اس کی مستقل ساتھی ، با اعتماد دوست تھی جب کہ ان کا باہمی رشتہ کسی بھی قسم کے کھنچاؤ اور شکوک و شبہات سے پاک تھا۔ درباری مؤرخین نے ان کے پر جوش ازدواجی تعلق کا بہ طور خاص تذکرہ کیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ انیس سالوں میں شاہ جہاں کے تیرہ بچوں کی ماں بنی جب کہ چودھویں بچے کی پیدائش کے دوران عین عالم شباب میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ 1631ء میں اپنے انتقال کے وقت بھی وہ اپنے شوہر کے ہمراہ تھی جو ان دنوں سطح مرتفع دکن میں باغیوں کے خلاف ایک مہم میں مصروف تھا۔
ممتاز محل کو عارضی طور پر زین آباد نامی ایک باغ میں دفن کیا گیا جسے شاہ جہاں کے چچا دانیال نے دریائے تاپتی کے کنارے تعمیر کرایا تھا، کہا جاتا ہے کہ ممتاز محل نے بستر مرگ پر اپنے شوہر سے اس آخری خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اس کی موت کے بعد ان کی محبت کی شاندار یاد گار تعمیر کی جائے۔ اس نے اپنے شوہر سے یہ فرمائش بھی کی کہ وہ اس کے بعد کوئی اور شادی نہ کرے۔ محبت سے معمور اور جذبات سے سرشار بادشاہ نے وعدہ کرنے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں کی۔ مؤرخین نے ملکہ ممتاز محل کے انتقال پر شاہ جہاں کے غیر معمولی رد عمل اور سوگ کا بہ طور خاص ذکر کیا ہے، کہا جاتا ہے کہ:
ملکہ کی موت پر بادشاہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ کتابوں میں ہے کہ شاہ جہاں نے ایک سال تک گوشۂ تنہائی میں سوگ منایا تھا۔ جب وہ دوبارہ نمودار ہوا تو اس کے سر کے تمام بال سفید ہو چکے تھے اور کمر جھک گئی تھی۔
1631ء ہی میں زین آباد سے ملکہ ممتاز محل کے جسد خاکی کو ایک طلائی تابوت میں آگرہ منتقل کر دیا گیا۔ پہلے آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے ایک چھوٹی سی عمارت میں دفن کیا گیا۔
اس کے بعد اسے تاج محل میں دفن کیا گیا جس عمارت کی منصوبہ بندی شاہ جہاں نے اس کے انتقال کے فوراًبعد برہان پور ہی میں کر لی تھی۔ یہی عمارت تاج محل کہلائی جس کے بارے میں شکیل بدایونی نے کس قدر عمدہ شعر کہا ہے کہ ۔
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
ساری دنیا کو محبت کی نشانی دے دی
ارجمند بانو ممتازمحل اپریل 1593ء میں پیدا ہوئی، وہ نور جہاں کے بھائی ابوالحسن آصف خان کی بیٹی تھی۔ 10 مئی 1612 ء میں انیس سال کی عمر میں اس کی شادی شہزادہ خرم ( شاہ جہاں) سے ہوئی۔ اور اس کا انتقال 17 جون 1631 ءکو دکن میں برہان پور، موجودہ مدہیہ پردیش کے مقام پر اپنے چودھویں بچے گوہر آراء بیگم کی پیدائش کے دوران ہوا۔
جیسا کہ بیان کیا گیا کہ ارجمند بانو کے انتقال کے فوری بعد برہان پورہی میں شاہ جہاں اس کا عظیم الشان مقبرہ بنانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ غم واندوہ اور سوگ سے جب اسے کسی حد تک نجات ملی تو اس نے آگرہ میں تعمیرات سے متعلق لوگوں کو جمع کرنا شروع کیا۔ عمارت کا راسمٰعیل آفندی اور علی مردان خان سے اپنی تمام خواہشات کا اظہار کیا جو اس کے دل میں مقبرہ سے متعلق تھیں۔
اپنے خواب کا تذکرہ کیا اور مقبرہ کا نمونہ ( ماڈل) بنانے کا حکم دیا۔ یہ نمونہ لکڑی سے بنایا گیا لیکن بادشاہ ہمیشہ اس میں ترامیم اور رد و بدل کرتا رہا اور بڑی مشکل سے وہ جزوی طور پر مقبرہ کے بعض حصوں کی اشکال پر اپنی رضامندی کا اظہار کرتا۔ اس طرح مقبرہ کا نقشہ آہستہ آہستہ وجود میں آتا رہا۔ عمارت کا راسمٰعیل آفندی کے علاؤہ تاج محل کے ڈیزائن کے بارے میں اور بھی کئی نام لیے جاتے ہیں جن میں عیسیٰ آفندی ، استاد حامد اور احمد لاہوری کا نام بھی لیا جاتا ہے، ڈاکٹر عبداللہ چغتائی نے 1938ء میں پیرس یونیورسٹی سے ’’ تاج محل‘‘ کے موضوع پر Ph.D کیا تھا۔ انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی تھی جس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سب سے پہلے علامہ سید سلیمان ندوی نے احمد لاہوری کا نام تاج محل کے ڈیزائن کے سلسلے میں لیا ہے۔ ہمایوں کا مقبرہ جو دہلی میں تعمیر کیا گیا تھا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاہ جہاں اُس سے بہت متاثر تھا۔ مگر بہت سی تبدیلیوں کے ساتھ۔ یہ مقبرہ دہلی میں سن 1565ء میں تعمیر ہوا تھا جس میں مینار تک نہ تھے جو ہمیں بڑی شان وشوکت کے ساتھ تاج محل میں انتہائی پر اثر انداز میں مقبرہ کی چوکیداری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ کہنا بالکل محال بلکہ بہت بڑی غلطی ہوگی کہ شاہ جہاں نے تاج محل کا ڈیزائن ہمایوں کے مقبرہ کو سامنے رکھ کر نقل کیا ہے۔ اس الزام کے لیے اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو آج ہمایوں کا مقبرہ عجائبات عالم کی فہرست میں شامل ہوتا۔ ادھر مقبرہ کا ڈیزائن اور تعمیری سرگرمیاں جاری رہیں اور دوسری جانب مقبرہ میں استعمال ہونے والے دیگر عوامل کے ڈیزائن اور ان کے ماڈی حصے تیار ہونے شروع ہوتے گئے ، مثلاً جالیاں، محرابیں اور ستون وغیرہ کیوں کہ ان کاموں میں بھی عرصۂ دراز کی مدت در کارتھی ، یہ سب کام معمار اعلیٰ محمد حنیف کے سپر د تھا۔
جمنا کنارے بننے والے تاج محل کے موقع محل پر بھی بہت اعتراضات تھے کہ اتنی بھاری عمارت کا بوجھ دریا کے قریب کی زمین اُٹھا سکے گی یا نہیں مگر بادشاہ کی ضد کے آگے ہر بات ہیچ تھی ، شاہ جہاں کا مقصد یہ تھا کہ ہر خواہش کا قابلِ عمل حل نکالا جائے خواہ اس میں کتناہی روپیہ صرف ہو۔ وہ بذاتِ خود تعمیرات اور ان کے مسائل سے کما حقہ‘ واقف تھا اور عمارت کی ساخت، اس کی مضبوطی اور دیگر معاملات پر اس کی گہری نظر تھی بعد کی دیگر تعمیرات مثلاً دہلی میں لال قلعہ، اور جامع مسجد، لاہور میں شالا مار باغ اور آگرہ کی موتی مسجد یا قلعہ آگرہ کا دیوان عام ایسی عمارتیں ہیں جو شاہ جہاں کے علم و ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
مغلوں کی عمارتوں میں چار کا ہندسہ بڑا معنی خیز ہے، وہ جنت کے بارے میں چار باغ کی روایتوں پر بھاری یقین رکھتے تھے جو ایرانی علم و ادب میں تفصیل سے ملتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تاج محل کی تعمیر کے موقع پر بھی اس کا خاص خیال رکھا گیا۔ 1890x975 پر محیط یہ منصو بہ درمیان میں ایک وسیع و عریض چار باغ پر مشتمل ہے جس کی لمبائی 975 فٹ اور چوڑائی 965 فٹ ہے۔ جس کے چاروں حصوں کو مزید چار چار برابر کے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ صدر دروازہ ایک وسیع عمارت 536x412 فٹ رقبہ پر ہے اس میں بڑا ہال مدخل کے طور پر اور انتظار گاہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس عمارت کے بعد چار باغ پھیلا ہوا ہے جس میں طول و عرض میں نہریں اور فوارے بنائے گئے ہیں۔ یہ پورا منصوبہ شمالاً جنوباً بنایا گیا ہے۔ یعنی جنوب میں صدر دروازہ اور انتظار گاہ ، اس کے بعد باغات کا کھلا حصہ اور پھر تاج محل کی اصل عمارت جو شمالی حصہ میں واقع ہے۔ یہ عمارت ایک 315×315 فٹ وسیع چبوترے پر بنائی گئی ہے جس کی اونچائی 18 فٹ ہے، جب کہ تاج محل کی عمارت 186 186x فٹ ہے، یہ ایک دو منزلہ عمارت ہے جس کے اوپر 58 فٹ قطر کا80 فٹ اونچا گنبد بنا ہوا ہے، یہ گنبد سطح زمین سے 200 فٹ اونچا ہے۔ تاج محل کے بائیں جانب یعنی مغرب میں ایک مسجد ہے اور مشرق میں بالکل اُسی طرز کی ایک دوسری عمارت مسجد کے جواب میں بنائی گئی ہے جو نقار خانے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ چبوترے کے چاروں کونوں پر ایک ایک مینار 133 فٹ بلند بنا ہوا ہے جو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مقبرہ کی رکھوالی کر رہا ہو۔
تاج محل کی تعمیر 1631ء میں شروع ہوئی اور اس کا سن تکمیل 1653ء ہے۔ خالص اسلامی اور ایرانی انداز میں تعمیر ہونے والی دنیا کی اس خوبصورت ترین عمارت پر بتیس کروڑ روپے یعنی اڑسٹھ ہزار امریکی ڈالر لاگت آئی ۔ استعمال ہونے والا سنگِ مرمر بھارت کے علاؤہ جنوبی ایشیا کے مختلف حصوں سے منگوایا گیا۔ بیس سے بائیس ہزار افراد نے اپنی صلاحیتیں ایک سوچ کو مجسم شکل دینے میں دن رات کی پرواہ کیے بغیر صرف کیں۔
جب کہ ایک ہزار سے زیادہ ہاتھی عمارتی سامان کو تاج محل کی جگہ تک پہنچانے کے لیے استعمال کیے گئے۔ تاج محل کی اہمیت اور شاہ جہاں کی دل چسپی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی اندرونی سجاوٹ اور تزئین و آرائش میں اٹھائیس مختلف اقسام کے زرو جواہر اور قیمتی پتھر استعمال کیے گئے۔
محبت کی یہ علامت آج سات عجائباتِ عالم کے علاؤہ یونیسکو ورلڈ ہیری ٹیج سائٹس میں شامل ہے۔ تاج محل کے ڈیزائن ، لے آؤٹ اور تعمیر میں جیومیٹری (علم الہندسہ) اور ریاضی کے اصولوں کو مکمل طور پر مد نظر رکھا گیا ہے۔ تاج محل کے وسیع گنبد کے نیچے ممتاز محل کی قبر ہے، جب شاہ جہاں کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے محی الدین محمد اور نگ زیب عالمگیر نے اس کو بھی ممتاز محل کے برابر میں دفن کر دیا حالاں کہ شاہ جہاں کے نقشے میں ایسی کوئی گنجائش نہیں تھی ، یہی وجہ ہے کہ اس عمارت میں شاید ایک کے سوا کوئی سقم نہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اکلوتا سقم اسی شخصیت سے پیدا ہوا ہے جو اس کا خالق ہے یعنی خودشاہ جہاں، مگر یہ غلطی اس کی اپنی نہیں بلکہ اس کے بیٹے اور نگ زیب عالمگیر کی ہے۔ اس سے تاج محل کا تعمیراتی حسن اور امتزاج عدم توازن کا شکار ہوا۔
تاج محل کی چھت کی اندرونی سطح کو سجانے کے لیے خطاطی کا سہارا لیا گیا ہے۔
قرآن مجید کی آیات ِکریمہ کو سنگِ مرمر پر زبر جد یا سنگِ یشب کی مدد سے کندہ کیا گیا ہے۔
انہیں ایرانی نژاد خطاط امانت خان نے خط ثلث میں تحریر کیا ہے۔ ایسی کئی سلوں پر امانت خان نے اپنے دستخط بھی ثبت کیے ہیں۔ تاج محل میں جن سورتوں کی آیات کندہ کی گئی ہیں ان کے نام یہ ہیں۔ سورۃ یاسین ، سورة الزمر ، سورة الفتح ، سورة الملك ، سورة المرسلات ، سورة التكوير ، سورة الانفطار ، سورة الا نشقاق ، سورة الفجر ، سورة الشمس ، سورة الضحىٰ ، سورة الم نشرح ، سورة التين ، سورة البينہ ، سورة الاخلاص .....تاج محل کا دروازہ 93 فٹ بلند ہے اور یہ 1632ء سے 1638ء کے دوران پایۂ تکمیل کو پہنچا، اسے سنگِ سیاہ سے تعمیر کیا گیا ہے، اور اس پر مختلف قرآنی آیات کندہ ہیں ، دروازہ کی اندرونی سمت کئی طاق ہیں جن میں پھول پتیاں اور نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد کنول کے پھولوں کی ہے۔ جنہیں سنگِ مرمر پر قیمتی پتھروں کی مدد سے تراشا گیا ہے۔..... تاج محل کا دوسرا اہم ترین حصہ مسجد ہے، جسے تاج کی مغربی سمت سرخ پتھر سے تعمیر کیا گیا ہے۔ مسجد کے کنویں کے نزدیک چاردیواری کے ساتھ ایک چھوٹا ساسنگی احاطہ ہے، جہاں مرکزی روضے میں تدفین سے پہلے ملکہ ممتاز محل کا جسد ِخاکی رکھا گیا تھا۔ مسجد کے چار ہشت پہلو مینار اور تین شاندار گنبد ہیں۔ مسجد میں 539 نمازیوں کی گنجائش ہے۔
مسجد کی اندرونی سمت اسمائے ربانی اور قرآنی آیات کی خطاطی کی گئی ہے۔ تاج محل کا اندرونی حصہ بیرونی حصہ سے کم خوبصورت نہیں۔ تمام اندرونی ایوانوں کو بھی شاندار اور بے مثال خطاطی سے سجایا گیا ہے۔ مقبرہ کے تمام اندرونی زاویہ ہشت پہلو اور یکساں پیمائش کے ہیں۔ دیواروں کے نچلے حصوں پر علیحدہ قسم کا پلاسٹر کیا گیا ہے اور انہیں بھی دل کش بیل بوٹوں کے علاؤہ کنول کے پھولوں سے سجایا گیا ہے۔ روضے کا وسطی کمرہ باقی کمروں سے نسبتاً بلند ہے، اس سے متصل لیکن اس سے قدرے نیچے چار اور ہشت پہلو کمرے موجود ہیں جو یقیناً شاہی خاندان کے دیگر افراد کی قبروں کے لیے بنائے گئے تھے ۔ شاہ جہاں اور ممتاز محل کی قبریں وسطی کمرے میں ہیں۔ شاہ جہاں کی قبر اپنی محبوبہ کی قبر کے بائیں جانب اور قدرے بلند ہے۔ قبروں پر کتبے فارسی زبان میں ہیں۔ ممتاز کی قبر پر بعض قرآنی آیات بھی کندہ ہیں۔
کمپلیکس کا درمیانی حصہ اوپر ذکر ہوا کہ باغات پر مشتمل ہے، ان کے وسط میں شمالاً جنوباً دو نہریں بہتی ہیں۔ کیاریوں کی مجموعی تعداد سولہ ہے، جن میں سدا بہار پھولوں کے علاؤہ بعض پھل دار درخت بھی لگائے گئے ہیں۔ شہروں کے وسط میں فوارے نصب ہیں، جن کو پانی کی فراہمی بھی کسی عجوبہ سے کم نہیں، ماہرین تعمیرات نے اس نظام کو نہایت مہارت اور ہنر مندی سے ڈیزائن کیا ہے۔ تاج محل کا پانی دریا سے کھینچا جاتا تھا اور اسے کئی زیر زمین پائپوں کے ذریعہ تاج تک لایا جاتا تھا۔ دریا سے پانی کھینچنے اور اسے بڑے بڑے ذخیرے کرنے کے لیے ”پور‘‘ (بیلوں کے ذریعہ رسی اور مشکیزہ سے پانی بھرنا) کا استعمال کیا جاتا تھا، اس تالاب سے پانی نکالنے کے لیے مزید ’’پور‘‘ استعمال کیے جاتے تھے۔ یہاں سے ایک بالائی پائپ لائن کے ذریعہ پانی کو ایک اور تالاب میں پہنچایا جا تا تھا۔ اس تالاب سے پانی نکالنے کا کام مزید چودہ پورانجام دیتے تھے۔ ایک اور ذیلی نہر کے ذریعہ یہ پانی تین تالابوں میں منتقل کیا جاتا تھا۔ ان میں سے آخری تالاب کے پائپ اس کی مشرقی دیوار میں نصب تھے۔ یہی پائپ زیر زمین تاج محل میں داخل ہوتے تھے۔ ان میں سے ایک مسجد کے فواروں کو پانی فراہم کرتا جب کہ شمالاً جنوباً نہر اور کنول کے پھول سے مشابہ بڑے حوض کو تانبے کے پائپوں کے ذریعہ پانی پہنچایا جا تاتھا۔ .....فواروں میں پانی کے دباؤ کو یکساں رکھنے کے لیے ہر فوارے کے پائپ کے نیچے تانبے کا ایک برتن لگایا گیا تھا۔ پانی پہلے اس برتن میں جمع ہوتا تھا اور پھر ایک ساتھ فوارے کے تمام سوراخوں سے باہر نکلتا ، ان تمام پائپوں کو زمین کے اندر بچھایا گیا تھا۔ دلچسپ امریہ ہے کہ طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود تاج محل کو پانی فراہم کرنے والے تمام آلات نہ صرف آج بھی موجود ہیں بلکہ قابل استعمال ہیں۔
تاج محل میں بڑے پیمانے پر چوری کی وارداتیں ہوئی ہیں اور بہت سی ایسی اشیاء اب وہاں موجود نہیں جو کبھی اس عظیم عمارت کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ بہت سی اشیاء وہاں سے ہٹالی گئی تھیں مگر چوریوں کی حقیقت بھی اپنی جگہ ہے۔ تاج محل کی وہ اشیاء جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چوری ہو گئیں اُن میں درج ذیل قیمتی زرو جواہر بھی شامل تھے۔
ایک طلائی پردہ جس نے تاج محل کے پورے گنبد یا اس کے بڑے حصے کو گھیر رکھا تھا
ایک طلائی جالی جوممتاز محل کی قبر کے چاروں جانب نصب تھی
کثیر تعداد میں ہیرے جو ملکہ کے تابوت میں جڑے ہوئے تھے
موتیوں کی چادر جسے ممتاز کی قبر کے تعویذ پر ڈالا گیا تھا
مکمل طور پر زبرجد ( سنگِ یشب ) سے تیار کردہ داخلی دروازہ
مقبرے کے اندرونی حصے میں بچھے ہوئے نادر اور قیمتی قالین
مقبرے کے مختلف کمروں میں لگے ہوئے طلائی فانوس
تاج محل کی دیواروں میں جابجا پیوست قیمتی پتھر
مغلوں کے ہاں دستور یہ تھا کہ وہ قبریں خفیہ رکھنے کے لیے اصل تابوت تہ خانوں میں دفناتے تھے اور ان کے راستے چاروں جانب سے بالکل بند کر دیتے تھے۔ ان کے او پر قبروں کے دو علیحدہ علیحدہ تعویذ بنائے جاتے تھے تا کہ عام لوگ اسی غلط فہمی کا شکار رہیں کہ اوپری تعویذ نقل اور نچلا تعویذ اصل ہے۔ حالاں کہ اصل قبر ان سے بھی نیچے کسی تہ خانے میں ہوتی تھی، جسے مکمل طور پر بند کر کے لوگوں کی رسائی وہاں تک ناممکن بنادی جاتی تھی ۔ اکبر اعظم کے مقبرے میں تلا او پر تین قبریں بنی ہوئی ہیں۔ تاج محل میں اسی تکنیک کو اپنایا گیا ہے۔
تاج محل کی عمارت بائیس برس میں تکمیل کو پہنچی یعنی یہ 1653ء میں مکمل ہوا۔ اس عرصہ اور اس کے بعد شاہ جہان کے تخلیقی ذہن اور اس کی عظیم ’’تعمیری‘‘ صلاحیتوں کے باعث کئی عمارتیں عالم وجود میں آئیں ، وہ مصوری، خطاطی، کندہ کاری اور عمارت کاری کا بڑا اعلیٰ ذوق رکھتا تھا۔ دہلی کی جامع مسجد، لال قلعہ دہلی ، اور لاہور میں شالا مار باغ اور مقبرہ جہاں گیر اس کے اعلیٰ ذوق کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ 1657ء میں اس کے لڑکے اور نگ زیب عالمگیر نے بغاوت کر کے اُسے قلعۂ آگرہ میں قید کر دیا اور وہیں 2 جنوری 1666ء میں اس کا انتقال ہوگیا اور ملکہ ممتاز محل کے پہلو میں تاج محل کے اندر دفن ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔