شکستہ پیرہنوں میں بھی رنگ سا کچھ ہے
-
شکستہ پیرہنوں میں بھی رنگ سا کچھ ہے ہمارے ساتھ ابھی نام و ننگ سا کچھ ہے حریف تو سپر انداز ہو چکا کب کا درونِ ذات مگر محوِ جنگ سا کچھ ہے کہیں کسی کے بدن سے بدن نہ چھو جائے اس احتیاط میں خواہش کا ڈھنگ سا کچھ ہے جو دیکھئے تو نہ تیغِ جفا نہ میرا ساتھ جو سوچیے تو کہیں زیرِ سنگ سا کچھ ہے وہ میری مصلحتوں کو بگاڑنے والا ہنوز مجھ میں وہی بے درنگ سا کچھ ہے چلو زمیں نہ سہی آسمان ہی ہو گا محبتوں پہ بہر حال تنگ سا کچھ ہے