عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

گھلا تصویر میں رنگِ حنا آہستہ آہستہ

    گھلا تصویر میں رنگِ حنا آہستہ آہستہ بڑھی سر کی طرف تیغِ جفا آہستہ آہستہ تم اپنی مملکت میں جرم کر دو زندگی، ورنہ سبھی مانگیں گے اپنا خوں بہا آہستہ آہستہ مجھے اوروں کے سے انداز آتے آتے آئیں گے کہ پتھر بن سکے گا آئینہ آہستہ آہستہ ہوا آخر وہ ہم سے ہم سخن، قدرے تکلف سے چلی صحرا میں بھی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ بگولے یک بیک اُن سونے والوں کو جگاتے ہیں سلاتی ہے جنہیں بادِ صبا آہستہ آہستہ ہمیں دنیا جو دے گی ہم وہ لٹا دیں گے اُس کو گنہ بن جائے گی رسمِ وفا آہستہ آہستہ اچانک دوستو میرے وطن میں کچھ نہیں ہوتا یہاں ہوتا ہے ہر اک حادثہ آہستہ آہستہ