اٹھو یہ منظرِ شبتاب دیکھنے کے لیے
-
اٹھو یہ منظرِ شبتاب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے وہ مرحلہ ہے کہ اب سیلِ خوں پہ راضی ہیں ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ کے آئیں پیادگاں کو ظفریاب دیکھنے کے لیے کہاں ہے تو کہ یہاں جل رہے ہیں صدیوں سے چراغ دیدہ و محراب دیکھنے کے لیے