حمیدہ شاہین

حمیدہ شاہین

بھنور بنتی ہوئی راتیں ہماری

    بھنور بنتی ہوئی راتیں ہماری کنارے پر مناجاتیں ہماری نئی دنیا میں کس نے پوچھنا ہے کہاں نسبت ہے کیا ذاتیں ہماری کبھی ہم وقت سے آگے بھی تھے جب ہمیں ازبر تھیں اوقاتیں ہماری برسنے کی لگن میں بھول بیٹھے ہیں کن خطوں پہ برساتیں ہماری زمانے سے زمانہ کر رہا ہے کبھی ہم سے کرے باتیں ہماری شکاری بھی ہمی ہم ہی نشانہ بڑی پر پیچ ہیں گھاتیں ہماری سلاخیں چومنے آتے ہیں سارے یہیں تک ہیں ملاقاتیں ہماری