عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

کہیں تو لٹنا ہے پھر نقدِ جاں بچانا کیا

    کہیں تو لٹنا ہے پھر نقدِ جاں بچانا کیا اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا اِن آندھیوں میں بھلا کون ادھر سے گزرے گا دریچے کھولنا کیسا، دیئے جلانا کیا جو تیر بوڑھوں کی فریاد تک نہیں سنتے تو اُن کے سامنے بچوں کا مسکرانا کیا میں گر گیا ہوں تو اب سینے سے اُتر آؤ دلیر دشمنو ٹوٹے مکاں کو ڈھانا کیا نئی زمیں کی ہوائیں بھی جان لیوا ہیں نہ لوٹنے کے لیے کشتیاں جلانا کیا کنارِ آب کھڑی کھیتیاں یہ سوچتی ہیں وہ نرم رو ہے ندی کا مگر ٹھکانا کیا