شہر میں گلبدناں، سیم تناں تھے کتنے
شہر میں گلبدناں، سیم تناں تھے کتنے راہ زن درپئے نقدِ دل و جاں تھے کتنے خوب ہے سلسلۂ شوق، مگر یاد کرو دوستو! ہم بھی تو شیدائے بتاں تھے کتنے کچھ نہ سمجھے کہ خموشی مری کیا کہتی ہے لوگ دلدادۂ الفاظ و بیاں تھے کتنے تو نے جب آنکھ جھکائی تو یہ محسوس ہوا دیر سے ہم تری جانب نگراں تھے کتنے اب تری گرمئ گفتار سے یاد آتا ہے ہم نفس! ہم بھی کبھی شعلہ زباں تھے کتنے وقت کے ہاتھ میں دیکھا تو کوئی تیر نہ تھا روح کے جسم پہ زخموں کے نشاں تھے کتنے کسی تعبیر نے کھڑکی سے نہ جھانکا، عرفانؔ شوق کی راہ میں خوابوں کے مکاں تھے کتنے