کوئی بجلی ان خرابوں میں گھٹا روشن کرے
-
کوئی بجلی ان خرابوں میں گھٹا روشن کرے اے اندھیری بستیو! تم کو خدا روشن کرے ننھے ہونٹوں پر کھلیں معصوم لفظوں کے گلاب اور ماتھے پر کوئی حرفِ دُعا روشن کرے زرد چہروں پر بھی چمکے، سرخ جذبوں کی دھنک سانولے ہاتھوں کو بھی رنگِ حنا روشن کرے ایک لڑکا شہر کی رونق میں سب کچھ بھول جائے ایک بڑھیا روز چوکھٹ پر دیا روشن کرے خیر، اگر تم سے نہ جل پائیں وفاؤں کے چراغ تم بجھانا مت جو کوئی دوسرا روشن کرے