عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

سرِ تسلیم ہے خم اذنِ عقوبت کے بغیر

    سرِ تسلیم ہے خم اذنِ عقوبت کے بغیر ہم تو سرکار کے مداح ہیں خلعت کے بغیر سر برہنہ ہوں تو کیا غم ہے کہ اب شہر میں لوگ برگزیدہ ہوئے دستارِ فضلیت کے بغیر دیکھ تنہا مری آواز کہاں تک پہنچی کیا سفر طے نہیں ہوتے ہیں رفاقت کے بغیر ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر