عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

سخت ہے مرحلۂ جاں ہم جانتے ہیں

    سخت ہے مرحلۂ جاں ہم جانتے ہیں پر اسے معرکۂ عشق سے کم جانتے ہیں آج تک ان کی خدائی سے ہے انکار مجھے میں کہ اک عمر سے کافر ہوں، صنم جانتے ہیں ان کمندوں میں گرفتار نہ ہوں گے کہ غزال زخم خوردہ ہیں مگر شیوۂ رم جانتے ہیں یہی اک دھوپ کا ٹکڑا، یہی اک کوزۂ خاک ہم اسے دولتِ اسکندر و جم جانتے ہیں جانتے سب ہیں کہ ہم رکھتے ہیں خم طرفِ کلاہ اور کیوں رکھتے ہیں، یہ اہلِ ستم جانتے ہیں