جسم کی رسمیات اور دل کے معاملات اور
-
جسم کی رسمیات اور دل کے معاملات اور بیعتِ دست ہاں ضرور، بیعتِ، جاں نہیں نہیں درد کی کیا بساط ہے جس پہ یہ پیچ و تاب ہو دیکھ عزیز صبر صبر، دیکھ میاں نہیں نہیں ہم فقراء کا نام کیا، پھر بھی اگر کہیں لکھو لوحِ زمیں تلک تو خیر، لوحِ زماں نہیں نہیں دونوں تباہ ہوگئے، ختم کرو یہ معرکے اہلِ ستم نہیں نہیں، دل زدگاں نہیں نہیں گرمئی شوق کا صلہ دشت کی سلطنت غلط چشمۂ خوں کا خوں بہا جوئے رواں نہیں نہیں