عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

ساعتِ وصل بھی عمر گزراں سے کم ہے

    ساعتِ وصل بھی عمر گزراں سے کم ہے کیا سمندر ہے کہ اک موجِ رواں سے کم ہے ہے بہت کچھ مری تعبیر کی دنیا تجھ میں پھر بھی کچھ ہے کہ جو خوابوں کے جہاں سے کم ہے جان کیا دیجیے اس دولتِ دُنیا کے لیے ہم فقیروں کو جو اک پارۂ ناں سے کم ہے وادیئ ھو میں پہنچتا ہوں بیک جستِ خیال دشتِ افلاک مری وحشتِ جاں سے کم ہے میں وہ بسمل ہوں کہ بچنا نہیں اچھا جس کا ویسے خطرہ ہنرِ چارہ گراں سے کم ہے