عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

جہانِ گم شدگاں کے سفر پہ راضی ہوں

    جہانِ گم شدگاں کے سفر پہ راضی ہوں میں تیرے فیصلۂ معتبر پہ راضی ہوں ابھی مرا کوئی پیکر نہ کوئی میری نمود میں خاک ہوں، ہنرِ کوزہ گر پہ راضی ہوں یہی خیال مجھے جگمگائے رکھتا ہے کہ میں رضائے ستارہ نظر پہ راضی ہوں عجیب لوگ تھے مجھ کو جلا کے چھوڑ گئے عجب دِیا ہوں، طلوعِ سحر پہ راضی ہوں نہ جانے کیسے گھنے جنگلوں کا دکھ ہے کہ آج میں ایک سایۂ شاخِ شجر پہ راضی ہوں مجھے اداس نہ کر اے زوالِ عمر کی رات میں اس کے وعدۂ شامِ دگر پہ راضی ہوں