عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

ہوا کا چلنا دریچوں کا باز ہو جانا

    ہوا کا چلنا دریچوں کا باز ہو جانا ذرا سی بات پہ دل کا گداز ہو جانا مرے کنار سے اُٹھنا مرے ستارے کا اور اس کے بعد شبوں کا دراز ہو جانا وہ میرے شیشے پہ آنا تمام گردِ ملال پھر ایک شخص کا آئینہ ساز ہو جانا وہ جاگنا مری خاکِ بدن میں نغموں کا کسی کی انگلیوں کا نے نواز ہو جانا خیال میں ترا کُھلنا مثالِ بندِ قبا مگر گرفت میں آنا تو راز ہو جانا میں اس زمیں پہ تجھے چاہنے کو زندہ ہوں مجھے قبول نہیں بے جواز ہو جانا