عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

کب سے راضی تھا بدن بے سروسامانی پر

    کب سے راضی تھا بدن بے سروسامانی پر شب میں حیران ہوا خون کی طغیانی پر ایک چہکار نے سناٹے کا توڑا پندار ایک نو برگِ ہنسا دشت کی ویرانی پر کل بگولے کی طرح اس کا بدن رقص میں تھا کس قدر خوش تھی مری خاک پریشانی پر کون سا شہرِ سبا فتح کیا چاہتا ہوں لوگ حیران ہیں مرے کارِ سلیمانی پر