عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

کیا ہرن ہے کہ کبھی رم نہیں کرتا ہم سے

    کیا ہرن ہے کہ کبھی رم نہیں کرتا ہم سے فاصلہ اپنا مگر کم نہیں کرتا ہم سے پیکرِ سادہ ہے اور دل سے وہ کرتا ہے سلوک جو کبھی حسنِ دو عالم نہیں کرتا ہم سے خود ہی شاداب ہے وہ لالۂ صحرا ایسا خواہشِ قطرۂ شبنم نہیں کرتا ہم سے کیا خبر کون سی تقصیر پہ ناراض نہ ہو وہ شکایت بھی تو پیہم نہیں کرتا ہم سے صبر اے عشق، وہ خواہاں ہے شکیبائی کا طلبِ دیدۂ پرنم نہیں کرتا ہم سے